(۳) سوال:میں نے ایک شخص کو 10 ہزار ریال دیے تھے اس وقت ایک ریال کی قیمت 17 روپے ہندوستانی ہوتی تھی اور 10 ہزار ریال کی رقم ایک لاکھ 70 ہزار روپے بیٹھتی تھی۔ اب ہم ان سے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم اس وقت کے اعتبار سے یعنی 17 روپے کے حساب سے دیں گے حالانکہ اب ریال کا ریٹ بڑھ کر تقریبا 24 روپیہ ہو چکا ہے تو ہمارے لیے کیا حکم ہے؟
جواب:اگر قرض ریال میں دیا تھا تو واپسی بھی ریال میں ہی ہو گی چاہے اس کی قیمت گھٹ گئی ہو یا بڑھ گئی ہو اور اگر رو پہ متعین کر کے دیا تھا کہ 10 ہزار کے بجائے ایک لاکھ ستر ہزار دوں گا تو پھر صرف ایک لاکھ ستر ہزار ہی لے سکتے ہیں اس سے زیادہ نہیں لے سکتے۔


