Skip to content

   

Masail by topic

Miscellaneous

6 masail · The questions that belong to no one chapter.

متفرقات

Jumuah 869 January 2026

(۲) سوال:آج کل بلڈ ڈونیشن کیمپ لگانا کیسا ہے اس لیے کہ عام انسان پرائیویٹ ہسپتال میں خون حاصل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور سرکاری ہسپتال میں روزانہ کی بنیاد پر اتنا خون لگتا ہے کہ ہر کسی کو میسر نہیں ہوتا تو بلڈ کیمپ لگا کر کے اپنا خون دینا اور پھر ضرورت کے وقت اس سے فائدہ اٹھانا کیسا ہے؟

جواب:آج کل فتوی یہی ہے کہ اس طرح کیمپ لگا کر خون دیا جا سکتا ہے تاکہ بوقت ضرورت مریضوں کے کام آسکے۔

Jumuah 7519 September 2025

(۴) سوال:یہ ہے کہ ٹوٹے برتن استعمال میں لاناکیساہے؟

جواب:ٹوٹے ہوئے برتن کے استعمال سے حدیث شریف میں ممانعت وارد ہوئی ہے، اس لیے اس کا استعمال صحیح نہیں ہے۔

Jumuah 458 November 2024

(۱) سوال:كیا جسم کے اعضاء  (مثلاً آنكھ.كان وغیرہ) ڈونیٹ کرنا درست ہے؟

جواب :کسی انسانی عضو کا  (خواہ زندہ کا ہو یا مردہ کا)   دوسرے انسان کے جسم میں استعمال (معاوضہ کے ساتھ ہو یابغیرمعاوضہ کے) مندرجہ ذیل وجوہات کی بنیاد پر  جائز نہیں ہے:

(1) اس مقصد کے لیے انسانی  جسم کی چیر پھاڑ کی جاتی ہے جو کہ مثلہ ہے، اور مثلہ شریعت میں جائز  نہیں ہے۔ حدیث شریف میں ہے:

(2) کسی زندہ حیوان (جس میں انسان بھی شامل ہے) کے جسم سے اگر کوئی جز  الگ کردیا جائے وہ  مردار اور ناپاک کے حکم میں ہوجاتا ہے۔

عضو کی پیوند کاری کی وجہ سے پوری عمر ایک ناپاک چیز سے جسمِ انسانی ملوث رہے گا۔

(3) کسی چیز کو ہبہ کرنے یا عطیہ کے طور پر کسی کو دینے کے لیے یہ شرط ہے وہ شے  مال ہو، اور دینے  والے کی ملک ہو، اور یہی شرط وصیت کے لیے بھی ہے۔ والے کی ملک ہو، اور یہی شرط وصیت کے لیے بھی ہے۔

Jumuah 4030 August 2024

(۱) سوال:کیا مرنے کے بعد اپنی آنکھ یا کوئی اور عضو ڈونیٹ کرسکتے ہیں؟

جواب:انسان کے اعضاء اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں، جنہیں خود جائز حدود میں استعمال کرنے اور ان سے نفع اٹھانے کا انسان کو حق حاصل ہے، لیکن انسان اپنے اعضاء کا مالک نہیں ہوتا، نہ ہی انسانی اعضاء مال ہیں؛ اس لیے نہ ہی انسان اپنے اعضاء میں سے کسی عضوکوہبہ کرسکتاہے اورنہ عطیہ کرنے کی وصیت کرسکتاہے۔ اعضائِ انسانی کا زندگی میں یابعد از مرگ کسی شخص کوعطیہ کرنا یا میڈیکل تجربات کے لیے اپنا جسم یا کوئی عضو وقف کرنا ناجائز و حرام ہے۔ نیز انسانی جسم کا احترام جس طرح زندہ ہونے کی حالت میں لازمی ہے اسی طرح فوت ہونے کے بعد انسانی لاش زندہ جسم کی طرح قابل احترام ہے۔

Jumuah 2515 March 2024

(۳) سوال:مفتی صاحب میں حافظ قرآن ہوں اور میرے دوست وغیرہ مجھ سے مسائل معلوم کرتے ہیں، اور میں انہیں فتاویٰ محمودیہ کتاب المسائل اور مسائل رفعت قاسمی اور دارالعلوم دیوبند کی ویب سائٹ سے مسائل دیکھ کر بتا دیتا ہوں کیا میرا یہ کرنا صحیح ہے؟

جواب:فتاویٰ کی کتابوں میں بسااوقات ایک جگہ مسئلہ مطلق ذکر کیا جاتا ہے جب کہ دوسری جگہ اس کے قیود و شرائط ذکر کیے جاتے ہیں اس لئے غیر عالم کے لئے محض اردو فتاویٰ دیکھ کر مسئلہ بتانا خلاف احتیاط ہے، بلکہ وہ پوچھنے والے کو معتبر عالم کے پاس بھیج دے یا خود کسی معتبر عالم سے مسئلہ معلوم کرکے بتادے۔

Jumuah 18Jumuah Session 18

(۱) سوال:حضرت میرا مسئلہ یہ ہےکہ اگرکسی شخص نے قسم کھائی ہو کہ میں وہاں نہیں جاؤں گا اور بعد میں اسے مجبوراً جانا پڑے۔ اس کے لیے کیا حکم ہے اور اس کا کفار ہ کیا ہے؟

جواب:قسم میں حانث ہونے کے بعد قسم کا کفار ہ ادا کرنا ہوگا۔

قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلا دے یا دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو صدقۃ الفطر کی مقدار کے بقدر گندم یا اس کی قیمت دے دے ( یعنی پونے دو کلو گندم یا اس کی رقم ) اور اگر جو دے تو اس کا دو گنا ( تقریبا ساڑھے تین کلو) دے، یا دس فقیروں کو ایک ایک جوڑا کپڑا پہنا دے اور اگر کوئی ایسا غریب ہے کہ نہ تو کھانا کھلا سکتا ہےاور نہ کپڑا دے سکتا ہے تو مسلسل تین روزے رکھے، اگر الگ الگ کر کے تین روزے پورے کر لیے تو کفارہ ادا نہیں ہوگا۔ اگر دو روزے رکھنے کے بعد درمیان میں کسی عذر کی وجہ سے ایک روزہ چھوٹ گیا تو اب دوبارہ تین روزے رکھے۔

Does this apply to your situation?

A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.

Ask Mufti Arbab