(۱) سوال:قربانی کے لیے اگر کوئی شخص جانور خریدتا ہے، پھر اسے پالتا ہے، اس سے محبت اور انسیت ہو جاتی ہے، اور اس سال اسے ذبح کرنے کا دل نہیں چاہتا، تو ایسی صورت میں اگلے سال قربانی کی جا سکتی ہے؟
جواب:قربانی کا جانور خواہ پہلے سے متعین کرلیا جائے خواہ ایام قربانی میں خرید كر کیا جائے دونوں صورتیں برابر ہیں لیکن اگر متعین کرنے والا یا بہ نیت قربانی خریدنے والا صاحب نصاب نہیں تو اس پر اسی جانور کی قربانی کرنا واجب ہوجاتا ہے۔
فی شرح التنویر : و فقیر شراہا لہا لو جو بہا علیہ حتی یمتنع علیہ بیعہا ( التنویر الابصار مع الدرالمختار‘ کتاب الاضحیۃ ۶/ ۳۲۱ ط سعید )
اور اگر صاحب نصاب ہے اور ایام قربانی سے پہلے اس نے جانور خریدا اور اسے بطور نذر قربانی کے لئے متعین کرلیا تو اس پر بھی اسی جانور کی قربانی واجب ہوگئی اور نصاب کی وجہ سے دوسری قربانی واجب ہوگی۔
واعلم انہ قال فی البدائع : ولو نذران یضحی شاۃ وذالک فی ایام النحر وہو موسر فعلیہ ان یضحی بشاتین عندنا شاۃ بالنذر وشاۃ بایجاب الشرع ابتدائً ( ردالمحتار‘ کتاب الاضحیۃ ۶/ ۳۲۰ ط سعید )
اور اگر بطور نذر تعیین نہ کی تو اس کے ذمہ صرف ایک قربانی واجب رہے گی اور تعیین بھی لازم نہ ہوگی۔
وفی الشامیۃ ایضاً الا عنی بہ الا خبار عن الواجب فلا یلزمہ الا واحدۃ (رد المحتار‘ کتاب الاضحیۃ ۶/۳۲۰ ط سعید)
صورت مسئلہ میں اس سال اسے ذبح کرنے کا دل نہیں چاہتا، تو ایسی صورت میں اگلے سال قربانی کی جا سکتی ہے۔ لیكن خیال رہے كہ دل پر جتنی مشقت اور بوجھ محسوس ہوتا ہے، اتنا ہی زیادہ ثواب کی امید ہوتی ہے۔ البتہ اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ جانور اتنا زیادہ بوڑھا یا بڑا نہ ہو جائے کہ بعد میں اس کی قربانی مشکل یا نامناسب ہو جائے۔


