Skip to content

   

Masail by topic

Qurbani & Aqiqah

33 masail · The animal, the shares, the meat — and the aqiqah of a newborn.

قربانی و عقیقہ

Jumuah 968 May 2026

(۱) سوال:قربانی کے لیے اگر کوئی شخص جانور خریدتا ہے، پھر اسے پالتا ہے، اس سے محبت اور انسیت ہو جاتی ہے، اور اس سال اسے ذبح کرنے کا دل نہیں چاہتا، تو ایسی صورت میں اگلے سال قربانی کی جا سکتی ہے؟

جواب:قربانی کا جانور خواہ پہلے سے متعین کرلیا جائے خواہ  ایام قربانی میں خرید كر کیا جائے دونوں صورتیں برابر ہیں لیکن اگر متعین کرنے والا یا بہ نیت قربانی خریدنے والا صاحب نصاب نہیں تو اس پر اسی جانور کی قربانی کرنا واجب ہوجاتا ہے۔

فی  شرح التنویر : و فقیر شراہا لہا لو جو بہا علیہ حتی یمتنع علیہ بیعہا ( التنویر الابصار مع الدرالمختار‘ کتاب الاضحیۃ ۶/ ۳۲۱ ط سعید )

اور اگر  صاحب نصاب ہے اور ایام قربانی سے پہلے اس نے جانور خریدا اور  اسے بطور نذر قربانی کے لئے متعین کرلیا تو اس پر بھی اسی جانور کی قربانی واجب  ہوگئی اور نصاب کی وجہ سے دوسری قربانی واجب ہوگی۔

واعلم انہ قال فی البدائع :  ولو نذران یضحی شاۃ وذالک فی ایام النحر وہو موسر فعلیہ ان یضحی بشاتین عندنا شاۃ بالنذر وشاۃ بایجاب الشرع ابتدائً ( ردالمحتار‘ کتاب الاضحیۃ ۶/ ۳۲۰ ط سعید )

اور اگر بطور نذر تعیین نہ کی تو اس کے ذمہ صرف ایک قربانی واجب رہے گی اور تعیین بھی لازم نہ ہوگی۔

وفی الشامیۃ ایضاً الا عنی بہ الا خبار عن الواجب فلا یلزمہ الا واحدۃ (رد المحتار‘ کتاب الاضحیۃ ۶/۳۲۰ ط سعید)

صورت مسئلہ میں اس سال اسے ذبح کرنے کا دل نہیں چاہتا، تو ایسی صورت میں اگلے سال قربانی کی جا سکتی ہے۔ لیكن خیال رہے كہ  دل پر جتنی مشقت اور بوجھ محسوس ہوتا ہے، اتنا ہی زیادہ ثواب کی امید ہوتی ہے۔ البتہ اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ جانور اتنا زیادہ بوڑھا یا بڑا نہ ہو جائے کہ بعد میں اس کی قربانی مشکل یا نامناسب ہو جائے۔

Jumuah 968 May 2026

(۳) سوال:مفتی صاحب کیاکوئی ایسا جانور جسکے پیدائشی سینگ یا دانت یا دم یا آ نکھوں کی لائٹ یا پیدائشی نقص ہو کیااس کی قربانی درست ہے یانہیں؟ اور خصی جانور سے کون سا جانور مراد ہے مینڈھا یا اور کو ئی جانور مراد ہے اور اسکی عمر کتنی ہونے چاہئے اور کیا اسی کے بارے میں ہے کہ،6 یا 7 مہینہ کا ہونا چاہئے؟ جواب سے نوازیں۔

جواب:جس کے پیدائشی سینگ نہ ہوں، اسی طرح ا س کے سینگ جڑ سے اکھڑے نہ ہوں اس کی قربانی درست ہے۔

قربانی صحیح ہونے کی شرط جانور کی عمر کا پورا ہونا ہے، دانت نکلنا ضروری نہیں، لہذا عمر پوری ہونے کی صورت میں اگرچہ دانت نہ نکلے ہوں اور جانور چارا کھا سکتا ہو تو قربانی صحیح ہوگی؛

اور جس کے پیدائشی دونوں کان یا دم نہ ہو یا ایک کان ہو۔ اس کی قربانی درست نہیں۔

”ہدایہ“ میں ہے۔

جو جانور اندھا ہو یا اس کی ایک آنکھ کی بینائی تہائی سے زیادہ جاتی رہے تو اس کی قربانی جائز نہیں

اصولی بات یہ ہے کہ ہر وہ عیب جو غیر معمولی ہو اور جانور کی منفعت کو ختم کردے، پیدائشی ہو یا قربانی سے پہلے پیدا ہوا ہو قربانی درست ہونے میں مانع ہے۔

خصی سے مراد وہ جانور ہے جس کے بیضے کوٹ کر اس کی شہوت ختم کر دی جاتی ہے،

بھیڑیا دنبہ ایک سال سے کم کا ہو اور اتنا فربہ ہو کہ دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہے، تو اس کی قربانی درست ہے۔

Jumuah 951 May 2026

(۱) سوال:قربانی کس پر واجب ہے؟

جواب:ایسا آزاد شخص جو ایام قربانی میں بقدر نصاب مال، روپیہ پیسہ، سونا چاندی یا مال تجارت یا ضرورت سے زائد ساز و سامان کا مالک ہو، ایسے شخص پر قربانی واجب ہے۔نصاب پر سال گزرنا قربانی کے وجوب کے لئے شرط نہیں بلکہ ایام قربانی (۱۰/ ۱۱/ ۱۲/ ذی الحجہ) میں بھی اگر کوئی شخص صاحب نصاب ہوجاتا ہے تو اس پر بھی قربانی واجب ہے۔

Jumuah 951 May 2026

(۲) سوال:اگر کوئی شخص قربانی کا ارادہ کرے، تو کیا اس کے لیے ضروری ہے کہ جب ذی الحجہ کا چاند نظر آجائے تو اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے؟ اور اگر کوئی شخص چاند نظر آجانے کے بعد اپنے بال اور ناخن کاٹ دیتاہے تو کیا یہ اس کے لیے جائز ہے؟ اس کی قربانی ہوجائے گی؟ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔

جواب:جس شخص کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو، اُس کے لیے مستحب یہ ہے کہ ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد سے قربانی کرنے تک اپنے بال اور ناخن نہ کٹوائے، حدیث میں اس کی ممانعت آئی ہے، لیکن احناف کے نزدیک یہ ممانعت مکروہ تنزیہی پر محمول ہے، یعنی کاٹنا خلاف اولی ہے اور اِس کا قربانی کی ادائیگی و عدم ادائیگی سے کوئی تعلق نہیں ہے، اگر کوئی شخص عشرہ ذی الحجہ میں بال یا ناخن کاٹ لے، تب بھی اُس کی قربانی بلا کراہت اداء ہوجائے گی۔

Jumuah 951 May 2026

(۳) سوال:کن جانوروں کی قربانی درست ہے؟

جواب:درج ذیل جانوروں کی قربانی درست ہے:

(۱) بکری (جس کے ضمن میں بكرا، بھیڑ، دنبہ اور مینڈھے وغیرہ بھی شامل ہیں)

(۲) اونٹ۔

(۳) بھینس (جس کے ضمن میں  کٹرے بھی شامل ہیں)

فہو ان یکون من الاجناس الثلاثۃ الغنم اوالابل او البقر ویدخل فی کل جنس نوعہ، والذکر والانثیٰ منہ۔ (ہندیۃ ۵؍۲۹۷، تبیین الحقائق زکریا ۶؍۴۸۳، درمختار مع الشامی زکریا ۹؍۴۶۶، بدائع الصنائع زکریا ۴؍۲۰۵)

Jumuah 6920 June 2025

(۵) سوال:ہم گھر والوں نے بہن کی شادی کے لیے پیسے جمع کئے تھے۔ جو تقریباً پانچ لاکھ تھے۔ ہم نے اس رقم پر زکوٰۃ دی تھی لیکن قربانی نہیں کی تھی۔ کیا صاحب نصاب ہونے کی وجہ سے ہم پر قربانی فرض تھی؟ اگر تھی، تو اب اس کا فدیہ کیا ہوگا۔

جواب:صورت مسئولہ میں آپ کے گھر والوں میں ایام قربانی میں جو بھی صاحب نصاب تھا اس پر قربانی واجب تھی، اگر قربانی نہیں کی تو اب اس کی قضاء ضروری ہے، جس کے لیے ایک اوسط درجہ کے بکرے یا بکری کی قیمت غریبوں کو صدقہ کردی جائے۔

Jumuah 676 June 2025

سوال:زید (صاحبِ نصاب ہے) کے چار بیٹے ہیں دو کماتے ہیں اور دو نہیں کماتے اُن بیٹوں میں سے کس پر قربانی واجب ہوگی صرف دو پر یا چاروں پر؟

جواب:جن کے پاس مال بقدر نصاب ہے ان پر قربانی واجب ہوگی۔

Jumuah 676 June 2025

سوال:قربانی کا جانور خریدنے کے بعد دوسرے دن اچھل کود کر اگر سینگ توڑ دے تو کیا اس کی قربانی ہوسکتی ہے؟ جانور خریدنے کے وقت پورا صحیح سالم تھا۔

جواب:اگر جڑ سے اکھڑ گیا ہے اور اثر دماغ تک پہنچ گیا ہے یعنی دماغ کی ہڈی میں سوراخ ہوگیا تو قربانی درست نہ ہوگی۔

Jumuah 6630 May 2025

(۳) سوال:مسئلہ یہ ہے کہ دو بڑے جانور (بھینس) ہے اس میں عقیقہ کے دو حصے نکالنا چاہتے ہیں تو کیا ذبح کرتے وقت دعاء بھی پڑھنی ہوگی یا بغیر دعاء کے ذبح کے وقت  دل میں نیت کرلینے سے ہوجائے گا؟

جواب:بس آپ دل میں نیت کرلیں عقیقہ وقربانی دونوں ہوجائے گا، دعاء پڑھنا عقیقہ کا ضروری نہیں ہے۔ مستحب ہے۔

Jumuah 6523 May 2025

(۵) سوال:بیوی نے اپنی شوہر کی بیمار کے وقت بکری قربانی کی نیت کی اور خود شوہر نے بھینس قربانی کی نیت کی تو اگر اب شوہر اور بیوی ایک ساتھ شریک ہو کر ایک بھینس کی قربانی کریں توکیا حکم ہے؟

جواب:محض نیت سے تو کچھ واجب نہیں ہوا البتہ الفاظ نذر کے ذریعے منت مانی ہے تو ہر ایک پر علیحدہ علیحدہ واجب ہے۔

Jumuah 6523 May 2025

(۶) سوال:ایک جانور کا کان کنارے سے ایک انچ یا اس سے کم کٹا ہوا ہے تو اس کی قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟

جواب:تہائی یا اس سے زائد کٹا ہوا ہو تو قربانی درست نہیں ہے ۔ اس سے کم ہے تو درست ہے۔

Jumuah 6416 May 2025

(۲) سوال:میں نے کچھ پیسے قربانی کے لئے جمع کیے تھے تو اس دوران میرا عمرے کا پروگرام ہو گیا تو وہ پیسے میں نے عمرے میں استعمال کر لیے اور اس میں سے نکالتے وقت یہ نیت کی تھی کہ اگر میرے پاس اتنا پیسہ رہا تو میں قربانی ضرور کروں گی لیکن جب گھر واپس آئے تو اتنی رقم نہیں ہے کہ قربانی کر سکوں تو اب مجھے کیا کرنا ہے؟

جواب:اگر آپ پر قربانی واجب ہے تو قربانی ادا کریں اگر نہیں ہے تو صرف ارداہ کرنے سے واجب نہیں ہوتی۔ صاحب نصاب ہیں تو قربانی ذمہ میں واجب ہی رہے گی۔

Jumuah 604 April 2025

(۱) سوال :حضرت مسئلہ یہ ہے کے ایک شخص نے یہ بولا تھا کہ آئندہ سال اپنی بچی کی طرف سے ایک بکرے کی قربانی کرونگا، اب اگر وہ شخص اپنی بچی کی طرف سے بکری کی قربانی کرے تو کیا وہ ادا ہو جائے گی یا بکرے ہی کی قربانی کرنا ضروری ہوگا ؟ جواب مطلوب ہے۔

جواب:دونوں میں سے جس کی چاہے کر سکتا ہے لڑکی کی طرف سے بکری یا لڑکے کی طرف سے بکرا ہونا کوئی ضروری نہیں ہے۔

Jumuah 3816 August 2024

(۱) سوال:حضرت ایام عید الاضحی میں میرے پاس پچاس ہزار روپئے تھے تو کیا مجھ پر قربانی واجب ہوئی اگر ہوئی تو اب مجھے کیا کرنا پڑیگا؟

جواب:اگر عید الاضحی میں ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت پچاس ہزار یا اس سے کم تھی تو آپ صاحب نصاب ہوں گے اور ہر صاحبِ نصاب مرد و عورت پر قربانی کرنا واجب ہے اور صاحب نصاب ہونے کے باوجود قربانی نہ کرنا گناہ کبیرہ ہے۔

اگرقربانی کے ایام گزرجائیں اورصاحبِ نصاب شخص نے قربانی ہی نہ کی تواب قربانی کی قضا یا کفارہ تو واجب نہیں ہوگا، البتہ اس صورت میں ایک متوسط بکرا یا بکری یا اس کی قیمت صدقہ کرنا ضروری ہے۔

Jumuah 345 July 2024

(۵) سوال:عقیقہ میں لڑکے کا سر مونڈنا ضروری ہے یا نہیں؟

جواب:عقیقہ کے موقع پر بچے کے سر کو مونڈنا مستحب عمل ہے۔ ضروری نہیں ہے۔

Jumuah 3314 June 2024

مسئلہ نمبر: ۱؍ جس شخص پر صدقۂ فطر واجب ہے، اُس پر قربانی بھی واجب ہے۔ یعنی قربانی کے تین دن (۱۰؍ ۱۱؍ ۱۲؍ ذی الحجہ) کے دوران اپنی ضرورت سے زائد اتنا مال یا اشیا جمع ہوجائیں کہ جن کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو تو اس پر قربانی لازم ہے، مثلاً: رہائشی مکان کے علاوہ کوئی مکان ہو، خواہ تجارت کے لیے ہو یا نہ ہو، اسی طرح ضروری سواری کے طور پر استعمال ہونے والی گاڑی کے علاوہ گاڑی ہو تو ایسے شخص پر بھی قربانی لازم ہے۔

Jumuah 3314 June 2024

مسئلہ نمبر:۲ قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا زیادہ اچھا ہے، اگر خود ذبح نہ کرسکتا ہو تو کسی اور سے بھی ذبح کراسکتا ہے۔ بعض لوگ قصاب سے ذبح کراتے وقت ابتداء ًخود بھی چھری پر ہاتھ رکھ لیا کرتے ہیں، ایسے لوگوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ قصاب اور قربانی والے دونوں مستقل طور پر تکبیر پڑھیں، اگر دونوں میں سے ایک نے نہ پڑھی تو قربانی صحیح نہ ہوگی۔ (شامی،ج:۶،ص:۳۳)

Jumuah 3314 June 2024

مسئلہ نمبر:۳قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت زبان سے نیت پڑھنا ضروری نہیں، دل میں بھی پڑھ سکتا ہے۔

Jumuah 3314 June 2024

مسئلہ نمبر: ۴…قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت اس کو قبلہ رخ لٹائے اور اس کے بعد یہ دعا پڑھے: ’’إِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْا?َرْضَ حَنِیْفاً وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ، إِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَبِذٰلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ، اَللّٰہُمَّ مِنْکَ وَلَکَ‘‘۔ اس کے بعد ’’بسم اللّٰہ اللّٰہ اکبر‘‘ کہہ کرذبح کرے۔ (کذا فی سنن ابی داؤد) ذبح کرنے کے بعد یہ دعا پڑھے: اللّٰہم تقبّلہ منّی کما تقبّلت من حبیبک محمد وخلیلک إبراہیم علیہما الصلوٰۃ والسلام‘‘۔

Jumuah 3314 June 2024

مسئلہ نمبر: ۵؍ درج ذیل جانوروں کی قربانی ہوسکتی ہے:اونٹ، اونٹنی، بکرا، بکری، بھیڑ، دُنبہ، بیل، بھینس، بھینسا۔ بکرا، بکری، بھیڑ اور دُنبہ کے علاوہ باقی جانوروںمیں سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں، بشرطیکہ کسی شریک کا حصہ ساتویں حصہ سے کم نہ ہو اور سب قربانی کی نیت سے شریک ہوں یا عقیقہ کی نیت سے، صرف گوشت کی نیت سے شریک نہ ہوں۔ بھینس اور اُونٹ وغیرہ میں سات سے کم افراد بھی شریک ہوسکتے ہیں، اس طور پر کہ مثلاً چار آدمی ہوں تو تین افراد کے دو دو حصے اور ایک کا ایک حصہ ہوجائے۔ نیز اگر پورے جانور کو چار حصوں میں تقسیم کرلیں، یہ بھی درست ہے۔ یا یہ کہ دو آدمی موجود ہوں تو نصف نصف بھی تقسیم کرسکتے ہیں۔ اسی طرح اگر کئی افراد مل کرایک حصہ ایصالِ ثواب کے طور پر کرنا چاہیں تو یہ بھی جائز ہے، البتہ ضروری ہے کہ سارے شرکا اپنی اپنی رقم جمع کرکے ایک شریک کو ہبہ کردیں اور وہ اپنی طرف سے قربانی کردے، اس طرح قربانی کا حصہ ایک کی طرف سے ہوجائے گا اور ثواب سب کو ملے گا۔ مسئلہ نمبر:۱۱؍  اگر قربانی کا جانور اس نیت سے خریدا کہ بعد میں کوئی مل گیا تو شریک کرلوں گا اور بعد میں کسی اور کو قربانی یا عقیقہ کی نیت سے شریک کیا تو قربانی درست ہے اور اگر خریدتے وقت کسی اور کو شریک کرنے کی نیت نہ تھی، بلکہ پورا جانور اپنی طرف سے قربانی کرنے کی نیت سے خریدا تھا تو اب اگر شریک کرنے والا غریب ہے تو کسی اور کو شریک نہیں کرسکتا اور اگر مالدار ہے تو شریک کرسکتا ہے، البتہ بہتر نہیں۔ ایک جانور قربانی کرنے کے لیے خریدا،اگر اس کے بدلے دوسرا حیوان دینا چاہے تو جائز ہے، مگر یہ لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ دوسرا حیوان کم از کم اسی قیمت کا ہو، اگر اس سے کم قیمت کا ہو تو زائد رقم اپنے پاس رکھنا جائز نہیں، بلکہ صدقہ کرنا ضروری ہے۔ ہاں! اگر زبانی طور پر جانور کو متعین نہ کیا ہو، بلکہ یہ ارادہ کیا ہو کہ اگر اچھی قیمت میں فروخت ہورہا ہو تو فروخت کردیں گے۔ اس صورت میں اصل قیمت سے زائد رقم اپنے پاس رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔

Jumuah 3314 June 2024

مسئلہ نمبر: ۶؍ قربانی کا جانور گم ہوا، اس کے بعد دوسرا خریدا، اگر قربانی کرنے والا امیر ہے تو ان دونوں جانوروں میں سے جس کو چاہے ذبح کرے، جب کہ غریب پر ان دونوں جانوروں کی قربانی واجب ہوگی۔ وضاحت:اگر کسی آدمی نے قربانی کے لیے جانور خریدا اور خریدنے کے بعد وہ جانور قربانی کرنے سے پہلے گم ہوجائے تو صاحب حیثیت آدمی پر قربانی کے لیے دوسرا جانور خریدنا ضروری ہے، کیونکہ اس پر قربانی شرعاً واجب تھی اور واجب ادا نہیں ہوا، جبکہ فقیر آدمی پر دوسرا جانور خریدنا اور قربانی کرنا لازم نہیں تھا، اس کے باوجود غریب نے دوسرا جانور بھی خریدلیا، اب اگر مالدار اور غریب ہر دو کا پہلا گم شدہ جانور مل جائے تو امیر پر صرف شرعی واجب (قربانی) کا ادا کرنا لازم ہے، جس جانور کو ذبح کردے کافی ہے، جب کہ غریب پر خود سے واجب کردہ جانوروں کی قربانی کرنا لازم ہے۔ اس کی تفصیل یوں ہے کہ امیر آدمی پر نصاب کی وجہ سے قربانی واجب تھی، اس نے وہ ادا کردی، اس کے حق میں جانور متعین نہیں ہوا تھا، اُسے اختیار ہے کہ جس جانور کو چاہے ذبح کردے، جبکہ غریب آدمی پر قربانی لازم نہیں تھی، غریب نے از خود جانور خرید کر اپنے پر قربانی کو لازم کرلیا اور جو جانور اس نے خریدا وہ بھی متعین ہوگیا، اب پہلا جانور جو غریب کے حق میں قربانی کے نام سے متعین ہوچکا، اگر وہ گم ہوجائے تو اس کے بدلے دوسری قربانی لازم نہ تھی، اس کے باوجود غریب نے دوسرا جانور خرید کر اپنے پر قربانی لازم کرلی، اس بنا پر فقیر آدمی پر دوسری قربانی بھی لازم ہوئی۔ لہٰذا غریب آدمی دونوں جانوروں کی قربانی کرے گا۔ بخلاف مالدار کے کہ اس پر صرف قربانی لازم ہے، جانور متعین نہیں ہے، دونوں جانوروں میں سے کسی ایک کی قربانی کردے تو کافی ہے۔

Jumuah 3314 June 2024

مسئلہ نمبر:۷؍ قربانی کے جانور میں اگر کئی شرکاء ہیں تو گوشت وزن کرکے تقسیم کریں۔

Jumuah 3314 June 2024

مسئلہ نمبر: ۸؍ ایصال ثواب کے لیے قربانی کاگوشت خود بھی کھا سکتا ہے اور دوسروں کو بھی کھلا سکتا ہے۔

Jumuah 3314 June 2024

مسئلہ نمبر: ۹؍ اگر کوئی شخص اپنی قربانی کا گوشت سارا کا سارا کسی اور کوکھلا دے، خود کچھ بھی نہ کھائے تو ایسا کرسکتا ہے۔ (کتاب الآثار)

Jumuah 3314 June 2024

مسئلہ نمبر: ۱۰؍ اگر کسی نے قربانی کی نذر مانی اور وہ کام ہوجائے تو قربانی واجب ہے، اس کے گوشت سے خود نہیں کھا سکتا، سارا فقراء اور مساکین کو کھلادے۔

Jumuah 3314 June 2024

مسئلہ نمبر: ۱۱؍ اگر کسی شخص کی ساری یا اکثر آمدنی حرام کی ہو تو اس کو اپنے ساتھ قربانی میں شریک نہیں کرنا چاہیے۔ اگر شریک کیا تو کسی کی قربانی نہیں ہوگی۔ ایسا شخص جس کی ساری کمائی حرام کی ہو، اس پر قربانی لازم نہیں، کیونکہ اس کا سارا مال واجب التصدق (بلانیتِ ثواب صدقہ کرنا ضروری) ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ حرام مال سے کسی کا صدقہ قبول نہیں فرماتے، بلکہ وہاں صرف پاکیزہ مال سے کیا ہوا صدقہ وخیرات قبول ہوتا ہے۔

Jumuah 3314 June 2024

مسئلہ نمبر: ۱۲؍ بکری کے علاوہ دوسرے کسی جانور میں تمام شرکاء اپنا اپنا حصہ تقسیم کئے بغیر فقراء کو دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔ البتہ اگر نذر کی قربانی ہو یا مرحوم کی وصیت کے تحت قربانی کررہے ہیں تو پھر تقسیم سے پہلے کسی فقیر کو دینا درست نہیں۔

Jumuah 3314 June 2024

مسئلہ نمبر: ۱۳؍ کسی نے مرتے وقت وصیت کی کہ میرے مال سے قربانی کی جائے تو اس قربانی کا سارا گوشت خیرات کرنا ضروری ہے، خود کچھ بھی نہ کھائے۔ ۹اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو قربانی کی روح اور حقیقت سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری یہ ظاہری قربانی حقیقی قربانی کے لیے پیش خیمہ ہو اور ہم اس ظاہری ومادی قربانی کی طرح اللہ کے حکم پر اپنی جان کی قربانی کے لیے بھی ہمیشہ تیار رہیں۔

Jumuah 3117 May 2024

(۴) سوال:کیا حاجی پر قربانی فرض ہے؟ کیا اس کو دو قربانی کرنی ہوگی یا ایک ہی قربانی؟ میرے والد صاحب نے حج پر جانے سے پہلے اپنی طرف سے قربانی کروانے کے لیے ہمیں پیسہ دیا۔ کیا ایسا کرنا درست ہے؟

جواب:جس شخص کا حج تمتع یا قران ہو اس پر حج کی وجہ سے قربانی واجب ہے اور اگر وہ صاحب نصاب ہے اور مکہ مکرمہ یا مدینہ طیبہ میں پندرہ دن کے قیام کی نیت کرلے تو اس پر عید کی بھی قربانی واجب ہے، اس قربانی کے بارے میں اختیار ہے خواہ مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ میں کرائے یا اپنے وطن میں کرائے، آپ کے والد صاحب نے اگر حج پر جانے سے پہلے قربانی کرانے کے لیے آپ کو پیسہ دیا ہے تو آپ ان کی جانب سے مالی قربانی کرادیں۔ حج والی قربانی یہاں نہیں ہوسکتی وہ منی ہی میں ہوگی۔

Jumuah 5Jumuah Session 5

سوال:ایک حاجی پر نصاب والی قربانی واجب تھی، وہ قربانی نہیں کی صرف حج والی کی تو حج ہوا کی نہیں رہنمائی کریں؟

جواب:اس صورت میں حج تو ادا ہو جائے گا لیکن نصاب والی قربانی نہ کرنے کا گناہ ہوگا۔

Jumuah 4Jumuah Session 4

(۱) سوال:ایک شخص نے قربانی کی نیت سے جانور پالا لیکن اب وہ یہ چاہتا ہے کہ اس کو فروخت کرکے ایک حصہ بڑے جانور میں لے لے تو کیا اس کا اس طرح کرنا درست ہے یا نہیں؟ جواب دیکرشکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔

جواب:قربانی کا جانور متعین کرنے کے بعد اسے تبدیل کرنا مناسب نہیں ہے، تاہم اگر صاحب نصاب شخص قربانی کا متعین شدہ جانور تبدیل کرکے دوسرے جانور کی قربانی کرے تو قربانی درست ہوجائے گی، البتہ اگر جانور تبدیل کرنے کے لیے پہلے جانور بیچ دے تو دوسرا جانور پہلے سے کم قیمت والا نہ ہو، یا اگر حصہ لے رہا ہے تو اس سے کم قیمت کا نہ ہو۔ اور اگر دوسرا جانور یا حصہ اس سے کم قیمت والا ہو تو بقیہ اضافی رقم بھی صدقہ کردے۔

اور فقیر کے لئے قربانی کا جانور بیچ کر کسی بڑے جانور میں ایک حصہ لینا جائز نہیں ہے، بلکہ اس جانور کی قربانی لازم ہے لیکن اگر بیچ دیا تو مکروہ ہوگا، اور جو زائد قیمت ہے اس کو اپنے استعمال میں نہیں لاسکتا ہے، اس کا صدقہ کرنا واجب ہے۔

Jumuah 3Jumuah Session 3

سوال:کیا قربانی کے لئے نصاب پر زکوۃ کی طرح سال کا گزرنا شرط ہے؟

جواب:قربانی واجب ہونے کے لیے نصاب کے مال، رقم یا ضرورت سے زائد سامان پر سال گزرنا شرط نہیں ہے، اور تجارتی ہونا بھی شرط نہیں ہے، ذی الحجہ کی دس تاریخ سے بارہویں تاریخ کے سورج غروب ہونے سے پہلے اگر نصاب کا مالک ہوجائے تو ایسے شخص پر قربانی  واجب ہے۔

Jumuah 2Jumuah Session 2

سوال:۔ کیا ایسے جانور جس کی ایک آنکھ سفید ہو اور ایک کالی  ایسے جانور کی قربانی کرنا جائز ہے؟

جواب:۔  اگر دونوں آنکھوں سے صاف نظر آتا ہے تو ایسے جانور کی قربانی درست ہے۔

Does this apply to your situation?

A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.

Ask Mufti Arbab