Skip to content

   

All masail

Ask Mufti Arbab · Jumah 60

4 April 2025

4 questions answered

بسم اللّه الرحمن الرحيم

(۱) سوال :حضرت مسئلہ یہ ہے کے ایک شخص نے یہ بولا تھا کہ آئندہ سال اپنی بچی کی طرف سے ایک بکرے کی قربانی کرونگا، اب اگر وہ شخص اپنی بچی کی طرف سے بکری کی قربانی کرے تو کیا وہ ادا ہو جائے گی یا بکرے ہی کی قربانی کرنا ضروری ہوگا ؟ جواب مطلوب ہے۔

جواب:دونوں میں سے جس کی چاہے کر سکتا ہے لڑکی کی طرف سے بکری یا لڑکے کی طرف سے بکرا ہونا کوئی ضروری نہیں ہے۔

(۲) سوال :جو شخص روزہ نہ رکھے کیا اس پر بھی صدقہ فطر واجب ہے؟

جواب:صدقہ فطر واجب ہونے کے لئے روزہ رکھنا شرط نہیں ۔ اگر کسی عذر مثلاً : سفر، مرض، بڑھاپے کی وجہ سے یا معاذ اللہ بلا عذر بھی روزہ نہ رکھا تب بھی صدقہ فطر واجب ہے ۔

(۳) سوال :رمضان المبارک میں اگر کوئی روزے نہ رکھے تو کیا فدیہ ہے قیمت بتا دیں؟

جواب:شریعت میں روزے کے بدلے فدیہ کی ادائیگی کی اجازت صرف اس شخص کو ہے جو اتنا بوڑھا ہو چکا ہو یا ایسا بیمار ہو کہ وہ روزہ نہ رکھ سکتا ہو اور مستقبل میں اس کے صحت یاب ہونے کی کوئی امید نہ ہو، ایسا شخص ہر روزہ کے بدلے پونے دو کلو گندم ( گیہوں ) یا اس کی قیمت کسی مستحق زکات شخص کو دے دے۔ تاہم ایسا شخص جو تندرست ہو اور روزہ رکھنے پر قادر ہو یا جس نے وقتی بیماری کی وجہ سے روزہ ترک کیا ہو، اور زندگی میں دوبارہ صحت مند ہونے کی امید ہو، اس کے لیے روزے کا فدیہ ادا کرنا جائز نہیں ، تندرست آدمی کے لیے روزے رکھنا فرض ہے، اور بیمار آدمی کے لیے صحت مل جانے کے بعد روزے کی قضا کرنا لازم ہے ۔

فدیہ ادا کرنے کے بعد اگر وہ شخص دوبارہ روزہ رکھنے پر قادر ہو گیا تو وہ فدیہ معتبر نہیں ، وہ صدقہ ہو گیا اور اب ان روزوں کی (جن کا پہلے فدیہ ادا کیا تھا ) قضاء کرنی لازم ہے۔

(۴) سوال :اگر حالت سفر کی کچھ نمازیں جو قضا ہو گئی ہیں جو کہ مجھے قصر ادا کرنی تھیں اب میں اپنے گھر واپس آچکا ہوں تو کیا مجھے قضا نمازیں دو رکعت قصر پڑھنی ہوں گی یا مکمل چار رکعت ادا کرنی ہوگی ؟

جواب:جو نماز یں سفر کی حالت میں فوت ہو گئیں، ان کی قضاء میں قصر لازم ہے، یعنی چار رکعت والی فرض نماز ، دو رکعت ادا کی جائے گی، چاہے اپنے گھر پر قضاء کریں یا سفر ہی میں کریں۔

فقط واللّہ اعلم

Does this apply to your situation?

A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.

Ask Mufti Arbab