Skip to content

   

All masail

Ask Mufti Arbab · Jumah 31

17 May 2024

4 questions answered

بسم اللّه الرحمن الرحيم

(۱) سوال:کیا عام آدمی ترجمہ و تفسیر قرآن پڑھ سکتا ہے؟

جواب:عام آدمی کے لئے ترجمہ و تفسیر پڑھنے میں تو کوئی حرج نہیں، البتہ خود سے مطالعہ کرنے میں یہ احتیاط ضروری ہے کہ وہ تفسیر صحیح العقیدہ عالم ِدین کا لکھا ہوا ہو، اور اگر تفسیر پڑھتے ہو ئے کوئی اشکال ذہن میں آئے تو خود اس کا مطلب نکالنے کے بجائے علما ء کی طرف رجوع کیا جائے۔ اسی طرح قرآن کریم میں جو متشابہات ہیں ان کی کھوج میں نہ لگے اور صرف اپنے عمل کیلئے قرآن کو سمجھے۔

(۲) سوال:آج کل سوشل میڈیا پر ایک دعا ء گردش کر رہی ہے جس کے آخر میں’’بِحقِّ بِسمِ اللہِ الرّحمنِ الرّحیم‘‘آتا ہے، اُسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا جارہا ہے، کیا واقعی یہ دعاء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے؟اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے تو اس کا حوالہ بتادیں؟

جواب:سوال میں آپ نے جس دعاء کے بعض الفاظ ذ کرکرکے اس کے بارے میں دریافت کیاہے، یہ دعاء درج ذیل تفصیل کے ساتھ عوام میں پھیلی ہوئی ہے:

’’ہمارے نبی نے فرمایا:جب بھی آپ کا کوئی مسئلہ حل نہ ہورہا ہو،کوئی کام نہ بن رہا ہو، اچانک سے آپ پر پریشانیاں آرہی ہوں، اچانک سے آپ کے ساتھ حادثے ہورہے ہوں، برے کام، برے خیالات آرہے ہوں، ایسی صورت میں اگر آپ ان تمام چیزوں سے بچنا چاہ رہے ہوں تو اول وآخر تین تین بار درودشریف کے ساتھ سو مرتبہ اس دعاء کی ایک تسبیح پڑھ لیاکریں: یَارَحْمَنُ یَارَحِیْمُ بِحقِّ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ، یہ نبی کا عمل ہے، عملِ نبوی کہاجاتا ہے،نبی نے اس دعاء کو سکھایا ہے‘‘۔

کتبِ احادیث اور کتبِ اَدعیہ وغیرہ میں تلاش کے باوجود ہمیں مذکورہ الفاظ میں کوئی دعاء نہیں مل سکی، لہذا جب تک کسی معتبر سند سے اس کاثبوت نہ مل جائے، اسے نبی کریم کی طرف منسوب کرکے بیان کرنے سے احتراز کیاجائے۔ البتہ بطور دعا کے اس پر عمل میں حرج نہیں۔

(۳) سوال:اگر کسی سے کافی وقت کی نمازیں قضا ہو گئی ہوں اور اس کو مسجد الحرام (مکہ مکرّمہ، مدینہ منورہ) میں اس نمازوں کو ادا کرنے کا موقع مل جائے تو تب بھی اتنی ہی نمازیں ادا کرے جتنی قضا ہوئی ہوں یا وہاں کچھ رعایت ہو سکتی ہے؟

جواب:قضا تو اتنی ہی نمازیں کرنی پڑیں گی جو کہ واجب الادا ہیں البتہ مکان کی فضیلت سے ثواب میں اضافہ کی امید ہے۔

(۴) سوال:کیا حاجی پر قربانی فرض ہے؟ کیا اس کو دو قربانی کرنی ہوگی یا ایک ہی قربانی؟ میرے والد صاحب نے حج پر جانے سے پہلے اپنی طرف سے قربانی کروانے کے لیے ہمیں پیسہ دیا۔ کیا ایسا کرنا درست ہے؟

جواب:جس شخص کا حج تمتع یا قران ہو اس پر حج کی وجہ سے قربانی واجب ہے اور اگر وہ صاحب نصاب ہے اور مکہ مکرمہ یا مدینہ طیبہ میں پندرہ دن کے قیام کی نیت کرلے تو اس پر عید کی بھی قربانی واجب ہے، اس قربانی کے بارے میں اختیار ہے خواہ مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ میں کرائے یا اپنے وطن میں کرائے، آپ کے والد صاحب نے اگر حج پر جانے سے پہلے قربانی کرانے کے لیے آپ کو پیسہ دیا ہے تو آپ ان کی جانب سے مالی قربانی کرادیں۔ حج والی قربانی یہاں نہیں ہوسکتی وہ منی ہی میں ہوگی۔

فقط واللہ اعلم

Does this apply to your situation?

A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.

Ask Mufti Arbab