Skip to content

   

Masail by topic

Jumuah & Eid

13 masail · The Friday khutbah and prayer, and the two Eids.

جمعہ و عیدین

Jumuah 9928 August 2026

(۱) سوال:یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو خطبہ جمعہ اور بیان کے دوران نیند کی جھپکی آجاتی ہے اور وہ لوگ جو دیوار کے سہارے ٹیک لگا کر بیٹھ جاتے ہیں ، ان کے لئے کیا حکم ہے، کیا ان کے لئے دوبارہ وضو کرنا ضروری ہے؟

جواب:جمعہ کے خطبہ کی بہت اہمیت بیان کی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر جمعہ کی نماز کے لیے آتا ہے، خوب دھیان سے خطبہ سنتا ہے اور خطبہ کے دوران خاموش رہتا ہے تو اس جمعہ سے گزشتہ جمعہ تک، اور مزید تین دن کے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں (مسلم)

جسے جمعہ کے وقت اونگھ آئے تو وہ اپنی جگہ بدل لے۔ (ترمذی)-

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے کے دوران گھٹنے کھڑے کر کے رانوں کو پیٹ سے لگا کر ہاتھوں کو باندھ کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ (ابو داؤد)

اور رہا مسئلہ سونے کا تو:۔ اگر آدمی اس طرح سوجائے کہ اس کے اعضا ڈھیلے پڑجائیں اور قوتِ ماسکہ (خروج ریح کو قابو میں رکھنے والی صلاحیت) زائل ہوجائے مثلاً لیٹ کر یا کسی چیز پر ٹیک لگا کر اس طور پر سوئے کہ اگر وہ چیز ہٹا دی جائے تو آدمی گر جائے تو ان صورتوں میں وضو ٹوٹ جائے گا۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (شامی زکریا، احسن الفتاوی، فتاوی محمودیہ)

واضح رہے کہ اس دور میں چونکہ کثرتِ اکل کا عام رواج ہے اور آدمی مقعد کے زمین پر استقرار کے باوجود حدث کردیتا ہے؛ ا س لیے اس دور میں ہر اعتبار سے گہری نیند سے سونے کی صورت میں وضو کے ٹوٹ جانے کا حکم لگا دینا مناسب اور مبنی بر احتیاط ہے۔

Jumuah 9928 August 2026

(۴) سوال:جمعہ کی نماز کا خطبہ عصاء ہاتھ میں لیکر خطبہ دینا کیسا ہے؟ شریعت کی روشنی میں وضاحت مطلوب ہے۔

جواب:خطیب کے لیے جمعہ کے خطبہ میں عصا کااستعمال جائز ہے،رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوداؤد شریف کی روایت میں عصا کے ساتھ خطبہ دیناثابت ہے۔لیکن اس ثبوت کے باجود عصا کا استعمال ضروری نہیں اوراسے لازم سمجھنا درست نہیں ۔مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں :”عصاہاتھ میں لے کر خطبہ پڑھناثابت تو ہے،لیکن بغیر عصا کے خطبہ پڑھنا اس سے زیادہ ثابت ہے،پس حکم یہ ہے کہ عصاہاتھ میں لینابھی جائزہے، اور نہ لینابہترہے اور حنفیہ نے اسی کو اختیار کیاہے، پس اس کو ضروری سمجھنا اور نہ لینے والے کو طعن تشنیع کرنادرست نہیں ،اسی طرح لینے والے کو بھی ملامت کرنا درست نہیں “۔ (کفایت المفتی، (3/260دارالاشاعت)

Jumuah 9113 March 2026

(۳) سوال:عید کی  نماز فرض ہے یا سنت؟

جواب:عید کی نماز ادا کرنا فرض نہیں، بلکہ واجب ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ عید کی نماز ادا کرنا لازم نہیں ہے، واجب کا مطلب بھی یہ ہوتا ہے کہ یہ عمل کرنا لازم ہے۔

Jumuah 9113 March 2026

(۴) سوال:عید كے دن كی سنتیں كیا ہیں؟

جواب:عید کے دن غسل کرنا ، مسواک کرنا، خوشبو لگانا، عیدگاہ کو ایک راستہ سے جانا دوسرے سے آنا ، نماز عید کو خشوع خضوع اجتماعا ادا کرنا خطبہ کو پوری توجہ سے سننا حتی کہ اگر آواز نہ بھی پہنچتی ہو تب بھی خاموش بیٹھ کر خطبہ کی طرف متوجہ رہنا یہ امور ثابت ہیں۔ ان کے علاوہ رواجی امور بعض مباح کے درجہ میں ہیں، مثلاً اچھا کھانا بنالینا غربائ فقرائ مساکین اعزہ اقربائ رشتہ دار متعلقین احبائ کو کھلادینا عید کا دن خوشی کا دن ہے او ران جیسے امور سے خوشی کا اظہار ہے، پس فی نفسہ ان میں کچھ مانع نہیں۔

Jumuah 8121 November 2025

(۱) سوال:اگر جمعہ كی نماز میں كوئی لیٹ ہوگیا اور خطبہ نكل گیا اور نماز كھڑی ہوگئی تو جماعت میں شامل ہوگیا تو كیا اس كا جمعہ ادا نہیں ہوگا؟

جواب:جمعہ کی نماز کا خطبہ سننا واجب ہے،جمعہ کی دوسری اذان سے پہلے پہلے مسجد میں پہنچ جانےکا اہتمام ضروری ہے، تاہم اگرکسی نے خطبہ نہیں  سنا اور جمعہ کی نماز باجماعت پڑھ لی تو اس کے ذمہ سے فریضہ ساقط ہوجائے گا، لیکن جمعہ کی نماز میں آنے میں تاخیر  کی بقدر ثواب میں کمی ہوتی رہتی ہے، یہاں تک کہ بالکل آخر میں آنے والے کو صرف نماز ہی کا ثواب ملتا ہے۔

Jumuah 7824 October 2025

(۳) سوال:کیا جمعة المبارکہ کی خطبہ میں ہاتھوں کا ایک میں باندھنا اور دوسرے میں گھٹنے پر رکھنا کیسا ہے؟

جواب:خطبے کے دوران بیٹھنے کی کوئی خاص ہیئت مقرر نہیں ہے، اصل مقصودادب اور توجہ کے ساتھ بیٹھ کر خطبہ سننا ہے اس لیے قبلہ رخ یا امام کی طرف متوجہ ہوکر ادب و تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی بھی طریقے سے بیٹھنا جائز ہے ہاں ایسی ہیئت پر نہ بیٹھے جس سے طبیعت میں سستی ہو اور نیند آنے لگے، اور ایک خطبے میں دو زانو ہوکر ہاتھ باندھنے اور دوسرے میں تشہد کی حالت میں بیٹھنے کو لازم و سنت سمجھنا اور اس مخصوص ہیئت کا التزام کرنا درست نہیں۔

Jumuah 7824 October 2025

(۶) سوال:مفتی صاحب! جمعہ کے خطبہ کے دوران لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آگے بڑھنا کیسا ہے؟

جواب:اگر پہلی صف میں جگہ ہو تو پچھلی صفوں سے پھلانگتے ہوئے آگے بڑھنا جائز ہے، کیونکہ اگلی صف میں جگہ خالی چھوڑنا،یہ ان کا قصور ہے،لیکن اگر گنجائش نہیں ہے تو لوگوں کی گردنوں سے پھلانگنا اور آدمیوں کے درمیان زبردستی گھسنا جائز نہیں ہے، حدیث شریف میں اس طرح گردن پھلانگنے پر وعید آئی ہے۔

Jumuah 5531 January 2025

(۳) سوال :کیا جمعہ کی نماز کے بعد چار رکعت احتیاطاً ظہر پڑھنی چاہیے؟

جواب:جن علاقوں میں جمعہ کی شرائط پائی جاتی ہیں وہاں جمعہ کی نماز ادا کی جائے گی اور جن علاقوں میں جمعہ کی شرائط نہیں پائی جاتیں، وہاں ظہر کی نماز ادا کی جائے گی، جمعہ کی نماز کے بعد احتیاط ظہر پڑھنا درست نہیں، جمعہ یا ظہر میں سے کوئی ایک نماز پڑھی جائے گی، دونوں نمازیں ادا کرنا درست نہیں ہے۔

Jumuah 5317 January 2025

(۴) سوال :جمعہ کے خطبہ میں مقتدیوں کو کس طرح بیٹھنا چاہئے؟

جواب:خطبہ جمعہ کے درمیان دو زانوں بیٹھنا افضل ہے جیسا کہ قاعدے میں بیٹھتے ہیں اور ہاتھوں کو بھی اسی حالت پر رکھا جائے گا۔

Jumuah 5027 December 2024

(۴) سوال:جمعہ کے خطبہ کے دوران اگر کوئی سو جائے تو کیا حکم ہے؟

جواب:جب خطبہ شروع ہوجائے تو تمام حاضرین کا خطبہ کو سننا واجب ہے، خواہ امام کے نزدیک بیٹھے ہوں یا دورہوں، اگر دور ہونے کی وجہ سے آواز نہ آرہی ہو تب بھی خاموش بیٹھنا ضروری ہے اوراس دوران کوئی بھی ایسا کام کرنا جو خطبہ سننے میں مخل ہو مکروہِ تحریمی ہے۔ جہاں تک سونے والے کی بات ہے تو اگر کوشش کے باوجود بھی اپنی نیند پر قابو نہیں کر پا رہا ہے تو اللہ تعالی اس کو اس کی نیت کے حساب سے بدلہ دے گا۔ نیت خطبہ سننے کی تھی اور کوشش کے باوجود نہیں سن سکا۔ ان شاء اللہ

Jumuah 8Jumuah Session 8

سوال:یہ ہے کہ اگر گاؤں میں دو جگہوں پر جمعہ نماز ہوتی ہو ( گاؤں میں دو جامع مسجد یں ہے ) اور اب لوگ چاہتے ہیں کہ ایک ہی جگہ جمعہ نماز پڑھیں گے پھر کیا دو میں سے ایک جگہ جمعہ ہمیشہ کے لیے بند کرنا جائز ہے؟

جواب:اگر کسی گاؤں میں شرائط جواز جمعہ موجود ہوں تو وہاں ایک سے زائد مساجد میں بھی جمعہ جائز ہے، لیکن شرعا پسند ید یہ ہے کہ جمعہ کی نماز بڑی جماعت کے ساتھ پڑھی جائے؛ تاکہ اہل اسلام کی شوکت وان کا اتحاد و اتفاق ظاہر ہو؛ اس لئے اگر آپ کے گاؤں والے ایک ہی جگہ جمعہ ادا کریں اور دوسری جگہ نماز جمعہ بالکلیہ موقوف کر دیں تو شرعا اس میں کوئی حرج نہیں ہے؛ بلکہ پسندیدہ ہے۔

Jumuah 1Jumuah Session 1

سوال:جمعہ کی جو چار رکعت سنت پہلے رہتی ہے اگر وہ چھوٹ جائے وقت کی قلت کی وجہ سے تو کیا بعد میں پڑھنا پڑیگا؟

جواب:جمعہ سے پہلے کی چار رکعت سنت اگر کسی وجہ سے جمعہ سے پہلے پڑھ نہ سکے تو نمازِ جمعہ اور اس کے بعد کی سنتیں پڑھ لینے کے بعد پڑھ لے۔

Jumuah 1Jumuah Session 1

سوال:جمعہ کی دوسری اذان کا جواب دینا چاہیئے یانہیں؟

جواب:اذانِ ثانی کا جواب دے سکتے ہیں لیکن خطیب کے علاوہ حضرات دل ہی دل میں جواب دیں۔

Does this apply to your situation?

A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.

Ask Mufti Arbab