بسم اللّه الرحمن الرحيم
(۱) سوال:ایک عورت کسی شیخ سے بیعت ہونا چاہتی ہے، لیکن اس کا شوہر اجازت نہیں دیتا، کہتا ہے کہ ابھی نہیں۔ تو پوچھنا یہ ہے کہ بیعت کے لیے شوہر کی اجازت کا ہونا ضروری ہے یا بغیر اجازت کے بھی بیعت کرسکتی ہے؟
جواب:شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے لیے بیعت کرنا جائز نہیں ہے، اور اس کے لیے شوہر کی بات ماننے ہی میں بہتری ہے، تاکہ ان کا تعلق قائم ودائم رہے اور لڑائی جھگڑے کی نوبت نہ آئے، اور جب کسی دینی مسئلے کے حوالے سے راہ نمائی کی ضرورت ہو، تو اپنے شوہر کے واسطے سے کسی اہلِ حق مستند عالم سے یا جن شیخ سے بیعت ہونا چاہتی ہے، ان سے راہ نمائی لے لے۔
(۲) سوال:حضرت، آپ کی خدمت میں یوں عرض ہے کہ کیا کفن پر عہد نامہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب:قرآن و حدیث اور سلف صالحین سے عہد نامہ لکھنا ثابت نہیں ہے، بعض کتابوں میں بغیر روشنائی کے صرف انگلی سے کلمہ طیبہ وغیرہ لکھنے کی اجازت منقول ہے؛ لیکن حضرت فقیہ الامت رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ یہ اجازت بھی مجتہدین فقہاء کی طرف سے نہیں ہے، اس لیے اس سے بھی احتیاط بہتر ہے۔
(۳) سوال:کیا جمعة المبارکہ کی خطبہ میں ہاتھوں کا ایک میں باندھنا اور دوسرے میں گھٹنے پر رکھنا کیسا ہے؟
جواب:خطبے کے دوران بیٹھنے کی کوئی خاص ہیئت مقرر نہیں ہے، اصل مقصودادب اور توجہ کے ساتھ بیٹھ کر خطبہ سننا ہے اس لیے قبلہ رخ یا امام کی طرف متوجہ ہوکر ادب و تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی بھی طریقے سے بیٹھنا جائز ہے ہاں ایسی ہیئت پر نہ بیٹھے جس سے طبیعت میں سستی ہو اور نیند آنے لگے، اور ایک خطبے میں دو زانو ہوکر ہاتھ باندھنے اور دوسرے میں تشہد کی حالت میں بیٹھنے کو لازم و سنت سمجھنا اور اس مخصوص ہیئت کا التزام کرنا درست نہیں۔
(۴) سوال:وقف کے بعد واقف کو موقوفہ جگہ واپس لینے کا اختیار ہے یا نہیں؟
جواب:واضح رہے کہ وقف کرنے سے وقف کردہ چیز واقف کی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں آجاتی ہے، بعد ازاں واقف کو وقف سے رجوع کرنے یا وقف باطل کرکے موقوفہ چیز اپنی ملکیت میں لینے کا اختیار نہیں ہوتا، اور نہ ہی اسے وقف شدہ چیز میں مالکانہ تصرفات کاحق ہوتا ہے، لہذا بصورتِ مسؤلہ اگر وقف صحیح اور تام ہوچکا ہے، تو واقف کو مذکورہ موقوفہ جگہ واپس لینے کا اختیار نہیں ہوگا، وہ جگہ جس جہت اور مقصد کے لیے وقف کی گئی ہے اسی مقصد کے لیے استعمال کرنا ضروری ہے۔
(۵) سوال:میں شادی کرنا چاہتا ہوں اور حق مہر میں عمرہ کروانا چاہتا ہوں۔ ایک رشتہ دار نے کہا کہ نہیں سونا لکھواؤ، اب سوال یہ ہے کہ عمرہ کروانا حق مہر بن سکتا ہے؟
جواب:ایسی منفعت جس کے عوض اجرت لینا جائز ہو اس کو مہر بنانا جائز ہے، لہذا صورت مسؤلہ میں سائل اگر عمرہ کے اخراجات کو مہر بنانا چاہتا ہے تو شرعا ایسا کرنا جائز ہے کیونکہ عمرہ پر بھیجنا یعنی جہاز کا سفر، مکہ مدینہ میں قیام، ایسی منفعت ہے جس کے عوض اجرت وصول کرنا جائز ہے، لہذا اس کو مہر کے طور پر مقرر کرنا بھی جائز ہے۔نیز اگر عمرہ پر بھیجنے کو مہر مقرر کیا گیا تو پھر سائل پر اوسط قسم کا عمرہ کرانا واجب ہوگا یا اس کے برابر قیمت دینا واجب ہوگا۔ اور رشتہ دار کا کہنا کہ سونا ہی مقرر کرنا ضروری ہے، یہ بات درست نہیں ہے۔
(۶) سوال:مفتی صاحب! جمعہ کے خطبہ کے دوران لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آگے بڑھنا کیسا ہے؟
جواب:اگر پہلی صف میں جگہ ہو تو پچھلی صفوں سے پھلانگتے ہوئے آگے بڑھنا جائز ہے، کیونکہ اگلی صف میں جگہ خالی چھوڑنا،یہ ان کا قصور ہے،لیکن اگر گنجائش نہیں ہے تو لوگوں کی گردنوں سے پھلانگنا اور آدمیوں کے درمیان زبردستی گھسنا جائز نہیں ہے، حدیث شریف میں اس طرح گردن پھلانگنے پر وعید آئی ہے۔
فقط واللّہ اعلم
Does this apply to your situation?
A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.
Ask Mufti Arbab
