بسم اللّه الرحمن الرحيم
(۱) سوال:میں نے اپنی بیوی سے كہا كہ طلاق لیكر تم اپنے گھر چلی جاؤ۔ میں نے یہ جملہ دو مرتبہ كہا اور بیوی نے كچھ بھی جواب نہیں دیا تو كیا اس صورت میں طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟
جواب:شوہر نے آپشن دیا تھا اپنی بیوی كو اگر اس نے قبول نہیں كیا تو كوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
(۲) سوال:ایك صاحب نے ہمیں كھانے كی دعوت دی اور ہم نے مزید ان سے اپنے دوست كی دعوت كے لئے كہہ دیا كہ ہمارے دوست كو بھی ہمارے ساتھ بلالو تو كیا ایسا كرنا درست ہے؟
جواب:یہ اس پر منحصر ہے كہ میزبان آپ كے اس عمل سے چڑھا تو نہیں اگر میزبان كے اوپر اپنے اس عمل سے آپ نے بوجھ كر دیا تو یہ غلط ہو جائے گا۔ اور اگر میزبان رضامند ہے تو اس میں كوئی حرج كی بات نہیں۔
(۳) سوال:معلوم یہ كرنا ہے كہ گھر میں كسی ضرورت كی وجہ سے اندر نماز پڑھی جائے اور گھر میں دس سال سے زیادہ كا ایك بچہ ہو اور بیٹیاں ہو اور بیوی ہو تو امامت كس طرح كرے گا؟
جواب:امام سب سے آگے كھڑا ہوگا اس كے پیچھے اس كا بیٹا كھڑا ہوگا اس كے بعد تیسری صف اس كی بیوی اور بیٹیاں كھڑی ہوں گی۔
فقط واللّہ اعلم
Does this apply to your situation?
A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.
Ask Mufti Arbab
