بسم اللّه الرحمن الرحيم
(۱) سوال:كسی بھی قضاء نماز كے وقت میں كتنا فرق ہوتا ہے، مثلاً عصر كی نماز مغرب كے وقت سے كتنا پہلے پڑھ لینی چاہئے؟
جواب:۔ وقت شروع ہونے یا ختم ہونے کے قریب نماز پڑھنے میں نیت ادا کی کریں گے، قضاء کی نہیں اور عصر کا یہ حکم ہے کہ سورج غروب ہونے میں اگر تھوڑی سی بھی دیر ہو تو ادا کی نیت سے عصر شروع کردیں، پھر خواہ درمیان میں سورج غروب ہوجائے تب بھی عصر کی نماز اداء ہی ہوگی، قضا نہ ہوگی۔
(۲) سوال:فجر كی سنتیں اكر رہ گئیں تو نماز كے بعد ادا كرنا ہوگا؟
جواب :قضا وقت کے بعد واجب کی ادائیگی کو کہتے ہیں اس معنی کے اعتبار سے کسی سنت کی قضا نہیں ہے لیکن اگر فجر کی نماز مع سنت کے چھوٹ جائے تو زوال سے پہلے پہلے فرض کے ساتھ سنت کی قضا کرنے کا بھی حکم تبعاً للفرض ہے اور زوال کے بعد کسی اور وقت میں صرف فرض کی قضا ہے۔
اسی طرح اگر فجر کی صرف سنت رہ گئی تو امام محمد رحمہ اللہ کے قول پر طلوع شمس کے بعد زوال سے پہلے تک اسے پڑھ لینے کو بہتر کہا ہے۔ پس امام محمد رحمہ اللہ کے قول کی بنیاد پر طلوع آفتاب کے بعد فجر کی سنت پڑھ لینا جائز ہے۔
فقط واللّہ اعلم
Does this apply to your situation?
A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.
Ask Mufti Arbab
