سوال:نیک اولاد ہونے دعاء بتادیجئے؟
جواب:نیک صالح اولاد کے لئے دعاء: رَبِّ ہَبْ لِیْ مِنَ الصَّالِحِیْنَ۔ (سورۃ الصفت 100)۔

24 masail · Reciting, handling and listening to the Qur'an; dua, durud and wazaif.
قرآن و اذکار
سوال:نیک اولاد ہونے دعاء بتادیجئے؟
جواب:نیک صالح اولاد کے لئے دعاء: رَبِّ ہَبْ لِیْ مِنَ الصَّالِحِیْنَ۔ (سورۃ الصفت 100)۔
(۵) سوال:۔ خاص کر لوگ رمضان کے مہینہ ہی میں قرآن شریف پڑھ کر ختم کرتے ہیں ، تو کیا اس طرح رمضان کے مہینہ میں قرآن شریف کم از کم ایک بار ختم کرنا ضروری ہے؟
الجواب: حامداً و مصلیاً و مسلماً… قرآن شریف کو رمضان کے مہینہ کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے، اس لئے اس مہینہ میں اس کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کرنی چاہئے، حضور ﷺ اور جبرئیل علیہ السلام بھی اس مہینہ میں خاص قرآن کا دور کرتے تھے، اور ایک سال تو رمضان میں دو دور کئے تھے، اس لئے اس مہینہ میں زیادہ سے زیادہ تلاوت کرنی چاہئے، اور اگر زیادہ نہ ہو سکے تو کم از کم ایک مرتبہ تو قرآن ختم کرنا ہی چاہئے۔ فقط و اللہ تعالی اعلم
(۲) سوال:اگر کوئی شخص سورہ کہف جمعہ کے دن پڑھے اور فتنوں سے بچنے کے اسباب بھی اختیار کرے تو کیا اب وہ کسی بھی فتنہ سے لازمی بچا رہے گا یا ابھی بھی فتنہ میں بتلا ہونے کا امکان ہے اگر امکان ہے تو جو احادیث آئیں ہے کہ سورہ کہف پڑھنے والا ہر فتنہ سے بچا ہے چاہے دجال کا فتنہ کیوں نہ ہو اس حدیث کا مطلب کیا بنے گا ؟
جواب :اگر کوئی شخص ایمان ویقین کی پختگی کے ساتھ ہر جمعہ کو سورہ کہف پڑھے گا اور فتنوں کے اسباب سے بچنے کی بھر پور کوشش کرے گا ، تو وہ بالیقین فتنوں سے محفوظ رہے گا ان شاء اللہ تعالی ، اور ابتلا کا امکان اس طور پر ہے کہ فتنوں کے اسباب سے بچنے میں کوتاہی پائی جائے یا شیطان فتنوں کے اسباب میں مبتلا کر دے، یعنی : بھروسہ اللہ کی ذات پر ہو، محض اپنے عمل وغیرہ پر نہیں۔
(۱) سوال :زید کی عادت ہے کہ وہ مسلسل ذکر کرتا رہتا ہے، چاہے وہ کاروبار میں ہو، سفر میں ہو، راستے میں چل رہا ہو یا کسی مجلس میں بیٹھا ہو۔ اس کے علاوہ زید ذہن کو ہلکا کرنے اور تفریح کے لیے موبائل یا ٹی وی پر کامیڈی پروگرام دیکھتا ہے۔ اور ان پروگراموں کو دیکھتے وقت بھی وہ زبان سے ذکر کرتا رہتا ہے، سوال یہ ہے کہ زید کا یہ عمل شرعی طور پر درست ہے یا نہیں ؟
جواب:زید کا کاروبار، سفر، چلتے پھرتے یا مجلس میں ذکر کرنا باعث اجر وثواب ہے، بشرطیکہ دل میں توجہ بھی ہو۔ لیکن اگر وہ ٹی وی پر مزاحیہ پروگر اس دیکھتا ہے اور وہ مزاحیہ پروگرام شرعی حدود سے باہر ہے۔ تو جاننا چاہئیے کہ کسی نا جائز عمل کا ارتکاب یہ خود گناہ ہے اور عین گناہ کے ارتکاب کے وقت ذکر کرنا یہ گناہ در گناہ ہے؛ کیوں کہ اس میں ذکر کی بے حرمتی اور سخت بے ادبی ہے۔ جس سے تو بہ و استغفار لازم ہے۔
(۲) سوال:حدیث میں آتا ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورۂ فاتحہ میں شفا ہے۔ سورۂ فاتحہ ہر بیماری کی لئے شفا ہے اس کا کیا مطلب ہے؟
جواب:بیشک سورۂ فاتحہ میں اللہ نے شفاء رکھی ہے، اس سے علاج کرنے میں شفاء ہوتی ہے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا ایک قوم کے سردار کو سانپ بچھو ڈسنے پر علاج کرنا اور اس سے شفاء یاب ہونا ثابت ہے۔ جب حدیث میں شفاء فرمایا گیا ہے تو پورے یقین کے ساتھ کیا جائے تو اس یقین کی بدولت ان شا ء اللہ شفاء بھی نصیب ہوگی اور شفاء ہو یا نہ ہو ہمیں علاج کرنا چاہئے۔ علاج کرنا ہمارے بس میں ہے شفاء ہمارے بس میں نہیں ہے شفاء دینا اللہ کا کام ہے۔
سوال:اگر کوئی شخص سورہ کہف جمعہ کے دن پڑھے اور فتنوں سے بچنے کے اسباب بھی اختیار کرے تو کیا اب وہ کسی بھی فتنہ سے لازمی بچا رہے گا یا ابھی بھی فتنہ میں مبتلا ہونے کا امکان ہے اگر امکان ہے تو جو احادیث آئیں ہے کہ سورہ کہف پڑھنے والا ہر فتنہ سے بچا ہے چاہے دجال کا فتنہ کیوں نہ ہو اس حدیث کا مطلب کیا بنے گا؟
جواب:اگر کوئی شخص ایمان و یقین کی پختگی کے ساتھ ہر جمعہ کو سورہ کہف پڑھے گا اور فتنوں کے اسباب سے بچنے کی بھرپور کوشش کرے گا، تو وہ بالیقین فتنوں سے محفوظ رہے گا ان شاء اللہ تعالی، اور ابتلا کا امکان اس طور پر ہے کہ فتنوں کے اسباب سے بچنے میں کوتاہی پائی جائے یا شیطان فتنوں کے اسباب میں مبتلا کردے، یعنی: بھروسہ اللہ کی ذات پر ہو، محض اپنے عمل وغیرہ پر نہیں۔
(۳) سوال:ہمارے بیڈروم میں دیوار پر ننانوے نام اور آیت الکرسی وغیرہ لکھے ہوئے ہیں، اور اس طرف ہمارے پیر ہوتے ہیں تو یہ ٹھیک ہے یا غلط؟
جواب:اگر وہ پیروں سے چار پانچ فٹ اونچائی پر ہیں یعنی پھیلے ہوئے پیر چار پانچ فٹ نیچے رہتے ہیں تو کچھ حرج نہیں عرفاً بھی اس کو بے ادبی میں شمار نہیں کیا جاتا۔ لیکن اگر دوسری طرف ممکن ہو تو ہٹالیں تاکہ اس وہم سے بھی بچ جائیں۔
(۲) سوال :مفتی صاحب، میرا سوال یہ ہے کہ ایک چھوٹے بچہ کی گرم ٹوپی جس کے اوپر ماشاءاللہ لکھاہوا ہے کیا اس کا فروخت کرنا اور فیکٹری میں بنانا جائز ہے یا نہیں اوربےآدبی کا اندیشہ تو نہیں؟
جواب:ایسی ٹوپی پہننے سے خود بھی احتیاط كرنی چاہئے، اور بچوں كو بھی نہ پہنائی جائے جب اس پر ماشاء اللہ لكھا ہوا ہے تو پاك ناپاك ہر طرح ہاتھ اس پرلگیں گے، اسی طرح ركھنے میں بھی ہر جگہ ركھی اور پھینكی جاسكتی ہے تو ماشاء اللہ كلمہ كی توہین ہے۔ فیكٹری والوں سے درخواست كرنی چاہئے وہ اس لفظ كے ٹوپی پر لكھنے سے احتیاط كریں ۔
(۲) سوال :کیا میں سورہ یٰس، واقعہ اور سورہئ ملک دکان پر موبائل میں تلاوت کر سکتا ہوں؟
جواب:موبائل میں قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا جائز ہے، البتہ موبائل کی اسکرین پر قرآنِ کریم کھلا ہوا ہو تو اس (اسکرین) کو وضو کے بغیر چھونا جائز نہیں ہے، اس کے علاوہ موبائل کے دیگر حصوں کو مختلف اطراف سے وضو کے بغیر چھونے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ باقی قرآنِ مجید مصحف میں دیکھ کر پڑھنا افضل ہے، اس لیے مصحف کو دیکھنا، اس کو چھونا اور اس کو اٹھانا یہ اس کا احترام ہے۔
(۲) سوال:ہمارے یہاں لوگ اپنے میت کے لئے ایصال ثواب یا خیر و برکت کے لئے قرآن خوانی کے لئے مدرسہ کے بچوں کو بلاتے ہیں جس سے ان کے اسباق کا نقصان ہوتا ہے، تو کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے؟
جواب:بچوں کو رسم قرآن خوانی میں بھیجنا بند کردیں لوگوں کو حکمت، بصیرت، نرمی سے اِس رسم کے مفاسد اور خرابیوں کو سمجھائیں۔ خاص طور پر یہ کہ اِس رسمی قرآن خوانی سے نہ تو آپ کا کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی یہ کوئی خیرو برکت کا ذریعہ ہے۔ نہ اس سے مرحومین کو ثواب پہنچتا ہے۔ اور طلبہ مدارس میں قوم کی امانت ہیں ان کا بھی نقصان و خسارہ ہے۔
(۴) سوال:مفتی صاحب معلوم یہ کرنا، ہے کہ اگر قرآن کو کوئی سننے والا نہ ہو تو قرآن کو زور سے پڑھنا کیا مکروہ ہے ؟
جواب:قرآن کریم کو زور سے بھی پڑھ سکتے ہیں اور آہستہ بھی پڑھ سکتے ہیں، چاہیں کوئی سننے والا ہو یا نہ ہو۔
(۵) سوال:اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا۔ كیا یہ دعاء پانی پر دم كر سكتے ہیں اس كا ترجمہ بھی بتا دیجئے؟
جواب:ہاں یہ دعاء پانی پر دم كرسكتے ہیں۔ اور اس كا ترجمہ ہے : اے اللہ! میں تجھ سے نفع بخش علم، پاکیزہ روزی اور مقبول عمل کا سوال کرتا ہوں ۔
(۷) سوال:کیا انگلی پر لعاب لگا کر قرآن پاک کے صفحہ کو کھولنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:جی جب لعاب کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ ہو تو جائز ہے۔
(۱) سوال:کیا عام آدمی ترجمہ و تفسیر قرآن پڑھ سکتا ہے؟
جواب:عام آدمی کے لئے ترجمہ و تفسیر پڑھنے میں تو کوئی حرج نہیں، البتہ خود سے مطالعہ کرنے میں یہ احتیاط ضروری ہے کہ وہ تفسیر صحیح العقیدہ عالم ِدین کا لکھا ہوا ہو، اور اگر تفسیر پڑھتے ہو ئے کوئی اشکال ذہن میں آئے تو خود اس کا مطلب نکالنے کے بجائے علما ء کی طرف رجوع کیا جائے۔ اسی طرح قرآن کریم میں جو متشابہات ہیں ان کی کھوج میں نہ لگے اور صرف اپنے عمل کیلئے قرآن کو سمجھے۔
(۲) سوال:آج کل سوشل میڈیا پر ایک دعا ء گردش کر رہی ہے جس کے آخر میں’’بِحقِّ بِسمِ اللہِ الرّحمنِ الرّحیم‘‘آتا ہے، اُسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا جارہا ہے، کیا واقعی یہ دعاء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے؟اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے تو اس کا حوالہ بتادیں؟
جواب:سوال میں آپ نے جس دعاء کے بعض الفاظ ذ کرکرکے اس کے بارے میں دریافت کیاہے، یہ دعاء درج ذیل تفصیل کے ساتھ عوام میں پھیلی ہوئی ہے:
’’ہمارے نبی نے فرمایا:جب بھی آپ کا کوئی مسئلہ حل نہ ہورہا ہو،کوئی کام نہ بن رہا ہو، اچانک سے آپ پر پریشانیاں آرہی ہوں، اچانک سے آپ کے ساتھ حادثے ہورہے ہوں، برے کام، برے خیالات آرہے ہوں، ایسی صورت میں اگر آپ ان تمام چیزوں سے بچنا چاہ رہے ہوں تو اول وآخر تین تین بار درودشریف کے ساتھ سو مرتبہ اس دعاء کی ایک تسبیح پڑھ لیاکریں: یَارَحْمَنُ یَارَحِیْمُ بِحقِّ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ، یہ نبی کا عمل ہے، عملِ نبوی کہاجاتا ہے،نبی نے اس دعاء کو سکھایا ہے‘‘۔
کتبِ احادیث اور کتبِ اَدعیہ وغیرہ میں تلاش کے باوجود ہمیں مذکورہ الفاظ میں کوئی دعاء نہیں مل سکی، لہذا جب تک کسی معتبر سند سے اس کاثبوت نہ مل جائے، اسے نبی کریم کی طرف منسوب کرکے بیان کرنے سے احتراز کیاجائے۔ البتہ بطور دعا کے اس پر عمل میں حرج نہیں۔
(۵) سوال:نماز فجر کی اذان کے بعد کچھ لوگ قرآن کی تلاوت اور ذکر میں لگے رہتے ہیں بعد میں آنے والوں میں سے کچھ لوگ آواز سے سلام کرتے ہیں اس وقت کوئی جواب دیتا ہے اور کوئی نہیں دیتا تو کیا ایسی صورت میں جواب نہ دینے والا گناہ گار ہوگا اور مسجد میں آکر سلام کرنا چاہیے یا نہیں؟
جواب:مسجد میں موجود لوگوں کو سلام کرنا چاہیے۔ جو آدمی تلاوت قرآن میں مشغول ہو اس کے لیے سلام کا جواب دینا واجب نہیں ہے، اگر تلاوت روک کر سلام کا جواب دے تو جائز ہے۔
(۴) سوال:لیٹ کر قرآن مجید سننا یا موبائل فون کی اسکرین پر سے لیٹ کر پڑھنا درست ہے یا نہیں؟
جواب:لیٹ کر قرآنِ کریم کی تلاوت سننے اسی طرح لیٹ کر قرآنِ کریم پڑھنے کی گنجائش ہے خواہ اصل قرآن (مصحف) سے دیکھ کر پڑھے، خواہ موبائل کی اسکرین سے؛ البتہ اس وقت ادباً اپنے دونوں پاؤں کو سمیٹ لینا چاہئے۔
سوال:میرا سوال یہ ہے کہ کیا مولانا مودودی کی تفسیر کا پڑھنا درست ہے؟
جواب:مولانا مودودی کی تفسیر میں بہت سی چیزیں جمہور اہل سنت والجماعت کے مسلک کے خلاف ہیں، عامۃ المسلمین کا اس کو پڑھنا یا سننا، اعتقادی اور عملی گمراہی وغلطی کا موجب بن سکتا ہے، اس لیے اس سے پرہیز لازم ہے، ہاں جو حضرات اہل علم ہیں، کتاب وسنت کا علم باقاعدہ معتمد اساتذہ سے حاصل کرکے اس پر استحکام رکھتے ہیں، اور صحیح وغلط میں تمیز کرنے کا ان کو ملکۂ راسخہ حاصل ہے، ان کے لیے مضر نہیں۔
(۱) سوال:سوال: درود شریف چلتے پھرتے پڑھ سکتے ہیں؟ اور کیا درود کے لئے وضو ضروری ہے؟
جواب:درود شریف اور تمام اذکار و اوراد چلتے پھرتے اور بے وضو پڑھے جا سکتے ہیں اسکے لئے وضو کرنالازم نہیں ہے۔
سوال:کسی نعت خواں عورت کیلئے صرف عورتوں کے مجمع میں نعت پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:صورت مسئولہ میں عورت کا عورتوں کے مجمع میں ( جس میں کوئی نا محرم مرد نہ ہو، اور نا محرم مرد تک عورت کی آواز نہ جائے ) حمد و نعت ، حکمت و دانائی پر مشتمل اور صحیح معنی و مفہوم والے اشعار پڑھنا جائز ہے۔
(۱) سوال:اگر قرآن مجید ہاتھ سے گرجائے توکیا کفارہ ادا کرنا پڑے گا؟
جواب:۔ اگر غلطی سے بلاقصد و ارادے کے قرآن پاک ہاتھ سے گرجائے تو اس بے احتیاطی پر توبہ و استغفار کرنا چاہیے، تاہم اس سے کوئی مالی کفارہ لازم نہیں آتا، اپنے طور پر کچھ صدقہ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، لیکن اس کو لازمی نہ سمجھا جائے۔
(۱) سوال:کیا قرآن کریم سنتے ہوئے کپڑے بدلنا کیسا ہے؟ ایک صورت تو یہ ہے کپڑے بدل رہے ہوں اور ستر کھلا ہوا ہو تو اس کا کیا حکم ہے۔ اور دوسری صورت ستر نہیں کھلا ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:تلاوت وغیرہ کے ادب کا تقاضہ یہ ہے کہ فارغ اوقات میں یکسوئی کے ساتھ تلاوت وغیرہ سنی جائے اگر چہ صرف دس، پندرہ منٹ سنی جائے ۔ قرآن مجید کی تلاوت کے دوران بھی ستر کا چھپانا ضروری ہے، لہذا ستر کھلے ہونے کی صورت میں قرآن مجید کی تلاوت سننا قرآن پاک کے ادب و احترام کے خلاف ہونے کی وجہ سے درست نہیں ہے۔
(۱) سوال:فرض نماز کے بعد دعاء کرنا کیسا ہے؟
جواب:فرض نماز کے بعد دعا کرنا ثابت ہے اور فرض نمازوں کے بعد کے اوقات حدیث شریف کے مطابق قبولیت دعا کے اوقات ہیں، فرائض کے بعد دعا کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلف صالحین سے ثابت ہے اور دعا کے آداب میں سے ہے کہ ہاتھ اٹھا کر دعا کی جائے اور آں حضرت ﷺ سے بھی دعا میں ہاتھ اٹھانا ثابت ہے۔
سوال:کسی ضروری کام کے لیے استخارہ کب تک کرنا چاہئے؟
جواب:\- استخارہ کا مقصد رفع تردد ( شک کو دور کرنا ہے، اگر ایک دن میں کچھ معلوم نہ ہو اور دل کا خلجان دور نہ ہو تو دوسرے دن بھی ایسا ہی کرے، جب تک قلب کو اطمینان نہ ہو استخارہ کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے، ان شاء اللہ ضرور اس کام کی اچھائی یا برائی معلوم ہو جائے گی، استخارہ کے بعد ضروری نہیں کہ خواب کے ذریعہ ہی رہنمائی ہو، اصل یہ ہے کہ استخارہ کے بعد جس بات پر قلب مطمئن ہو جائے اسے اختیار کریں۔
A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.
Ask Mufti Arbab