بسم اللّه الرحمن الرحيم
(۱) سوال:فرض نماز کے بعد دعاء کرنا کیسا ہے؟
جواب:فرض نماز کے بعد دعا کرنا ثابت ہے اور فرض نمازوں کے بعد کے اوقات حدیث شریف کے مطابق قبولیت دعا کے اوقات ہیں، فرائض کے بعد دعا کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلف صالحین سے ثابت ہے اور دعا کے آداب میں سے ہے کہ ہاتھ اٹھا کر دعا کی جائے اور آں حضرت ﷺ سے بھی دعا میں ہاتھ اٹھانا ثابت ہے۔
سوال:لوگ پیر میں تعویذ پہن لیتے ہیں وہ صیح ہے یا غلط؟
جواب:جاننا چاہئے کہ اگر تعویذ اسمائے حسنی، ادعیہ ماثورہ وغیرہ پر مشتمل ہو اور اس کو نافع بالذات نہ سمجھا جائے بلکہ اس کو دوا کی طرح علاج تصور کیا جائے اور نظر مسبب الاسباب اللہ کی طرف ہو تو اس کو باندھ سکتے ہیں؛ البتہ اگر تعویذ کلمات شرکیہ کفریہ پر مشتمل ہو یا اس کو موثر بالذات تصور کیا جائے تو پھر تعویذ کا لٹکانا قطعاً جائز نہیں۔
صورت مسئولہ میں تعویذ میں لکھے ہوئے کلمات جب چمڑے یا کسی چیز میں اچھی طرح بند ہوں یعنی موم جامہ کئے ہوئے ہوں یا اچھی طرح کسی چیز میں چھپی ہوئی ہوں تو شدید ضرورت کے وقت اسے پاؤں وغیرہ پر باندھنے کی اجازت ہوگی، تاہم ضرورت پوری ہوتے ہی فورا اتار دیا جائے ۔
سوال:آئمہ شہزادی نام رکھنا کیا ہیں؟
جواب:آئمہ نام رکھنا مناسب نہیں ہے، کیوں کہ اس کا معنی ہے " پیاسی " یا " دھونی دینے والی ۔ اور شہزادی“ اس نام کا معنی ہے بادشاہ کی بیٹی کی نام رکھنا جائز ہے، تاہم بہتر ہے کہ لڑکی کا نام کسی صحابیہ کے نام پر یا اچھے معنی والا نام رکھا جائے۔
سوال:اگر کوئی میرا نام بگاڑے تو کیا جواب میں اس کا نام بگاڑ سکتا ہوں؟
جواب:کسی کا نام بگاڑنا اور اسے برے القاب سے یاد کرنا جائز نہیں، اگر کوئی شخص آپ کا نام بگاڑتا ہے تو شرعاً وہ گناہ گار ہے لیکن اس کے جواب میں آپ کے لیے اس کا نام بگاڑنا جائز نہیں ہوگا، البتہ ایسے شخص کو حکمت و بصیرت کے ساتھ سمجھایا جائے کہ نام بگاڑنے کا عمل قرآن کریم کی رو سے نا جائز ہے: ولا تلمزوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ (الحجرات (11) اور نہ اپنے لوگوں پر عیب لگاؤ اور نہ ایک دوسرے كو برے ناموں کے ساتھ پکارو۔
سوال:کیا چہرے کے غیر ضروری بال نکال سکتے ہیں یا نہیں ؟
جواب:خواتین کے لیے چہرے کے بالوں سے متعلق حکم : خواتین کے لیے اپنے چہرے کے خلاف عادت آنے والے بال مثلا داڑھی مونچھ، پیشانی وغیرہ کے بال یا کلائیوں اور پنڈلیوں کے بال یا جسم کے دیگر بال ( سر کے علاوہ ) صاف کرنا جائز ہے، البتہ ان بالوں کو نوچ کر نکالنا مناسب نہیں، کیوں کہ اس میں بلاوجہ اپنے جسم کو اذیت دینا ہے، کسی پاؤڈر وغیرہ سے کے ذریعہ یا کسی ایسے طریقہ سے جس سے تکلیف نہ ہو، یہ بال صاف کر لیے جائیں تو زیادہ بہتر ہے۔
مردوں کے لیے چہرے کے زائد بالوں سے متعلق حکم: اسی طرح مردوں کے داڑھی کے بال ایک مشت سے زائد ہو جا ئیں تو ان کا کاٹنا جائز ہے۔ اور ڈاڑھی کے علاوہ مثلاً جبڑوں کی ہڈی سے اوپر گال پر آنے والے بال کا ٹنا بھی جائز ہے۔
فقط واللّہ اعلم
Does this apply to your situation?
A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.
Ask Mufti Arbab
