بسم اللّه الرحمن الرحيم
(۱) سوال:یہ جو ہیر ڈائی آج کل بازار میں ملتے ہیں جیسے گارنیر، گودریج وغیرہ۔ سوال یہ تھا کہ کیا ان کے لگانے سے غسل ہو جاتا ہے؟ کیا کوئی طریقہ ہے جس سے انہیں چیک کر سکے کہ یہ صرف بالوں کو کلر کرتے ہیں یا کوئی پرت، کو ٹنگ بالوں پر چڑھا دیتے ہیں؟
جواب:اس چیز پر لکھا ہوتا ہے وہیں پڑھ لیا جائے کہ واٹر پروف کو ٹنگ ہے یا نہیں اگر واٹر پروف کوٹنگ ہوگی تو غسل نہیں ہوگا ۔
سوال :دکان والے کے یہاں گراہک آتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کے بارے میں یہ پتہ ہو یا شبہ ہو کہ ان کی آمدنی حرام مال سے ہے تو کیا دکان والے کو پیسہ لے کر سامان دینا چاہئے؟
جواب:جن لوگوں کی آمدنی کابالکل حرام خالص ہونا معلوم ہو ان کوکوئی چیز فروخت کرنا اور اس مال حرام میں سے قیمت لینا جائز نہیں۔ البتہ جن لوگوں کی کمائی مشتبہ ہو یا حلال و حرام سے ملی ہوئی ہو اور حلال غالب ہوان کے ہاتھ کوئی چیز فروخت کرنا جائز ہے؟ کیونکہ مالی معاملات میں امام کرخی رحمہ اللہ کے قول پر گنجائش ہے: بہ شرطیکہ وہ حرام مال کی صراحت کے ساتھ اسے متعین کر کے نہ دے؛ لہذا کل یا اکثر آمدنی حرام والوں سے اپنے سامان کی قیمت لے سکتے ہیں، گنجائش ہے۔ اور اگر کوئی شخص ذاتی طور پر احتراز کرے تو اس کے افضل وبہتر ہونے میں کچھ شبہ نہیں۔
سوال:میں ایک جگہ پھنس گیا ہوں وہ شخص پیسے دینے میں بہت تاخیر کر رہا ہے، میرے پاس کا غذات موجود ہیں جس کے ذریعہ میں قانونی کاروائی کر سکتا ہوں، کیا ایسا کرنا شریعت کی روشنی میں صحیح ہوگا ؟
جواب:جس نے لوگوں کو قرض دے رکھا ہو اور لوگ خوشحال ہونے کے باوجود بھی اگر اس کا قرض واپس نہ کریں تو وہ دو صورتیں اپنائے۔ پہلے وہ با اثر افراد کے ذریعے ان سے بات چیت کرے تا کہ وہ اس کی رقم واپس کر دیں اگر پھر بھی مسئلہ حل نہ ہو تو ایسی صورت میں قرض دینے والا شرعی حدود میں رہتے ہوئے مدیون سے اپنے قرض کا مطالبہ کر سکتا ہے، متعلقہ قانونی اداروں سے معاونت حاصل کر سکتا ہے۔ عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔ اگر مطالبے اور کوشش کے باوجود قرض دینے والے کو اپنا حق نہ مل رہا ہو تو زبردستی یا مقروض کی امانت سے اپنا حق وصول کرنے کی بھی شرعاً اجازت ہے، لیکن اس بات کا خیال رہے کہ اپنے حق سے زیادہ وصول نہ کرلے، ور نہ سخت گناہ گار ہوگا۔
سوال:کسی ضروری کام کے لیے استخارہ کب تک کرنا چاہئے؟
جواب:\- استخارہ کا مقصد رفع تردد ( شک کو دور کرنا ہے، اگر ایک دن میں کچھ معلوم نہ ہو اور دل کا خلجان دور نہ ہو تو دوسرے دن بھی ایسا ہی کرے، جب تک قلب کو اطمینان نہ ہو استخارہ کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے، ان شاء اللہ ضرور اس کام کی اچھائی یا برائی معلوم ہو جائے گی، استخارہ کے بعد ضروری نہیں کہ خواب کے ذریعہ ہی رہنمائی ہو، اصل یہ ہے کہ استخارہ کے بعد جس بات پر قلب مطمئن ہو جائے اسے اختیار کریں۔
فقط واللّہ اعلم
Does this apply to your situation?
A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.
Ask Mufti Arbab
