(۶) سوال:مفتی صاحب! روزہ کن کن چیزوں باتوں سے ٹوٹ جاتا ہے؟ موٹی موٹی چیزیں بتادیں۔
جواب:روزہ بہت ساری چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے،ان میں سے چند چیزیں مندرجہ ذیل ہیں:
(1) کان اور ناک میں دوا ڈالنا۔
(2) قصداً منہ بھر قے کرنا۔
(3) کلی کرتے ہوئے حلق میں پانی چلا جانا۔
(4) عورت کو چھونے سے انزال ہوجانا۔
(5) کوئی ایسی چیز نگل جانا، جو عادۃً کھائی نہیں جاتی، جیسے لکڑی، لوہا، کچا گیہوں کا دانہ وغیرہ۔
(6) لوبان یا عود وغیرہ کا دھواں قصداً ناک یا حلق میں پہنچانا۔
(7) بھول کر کھا پی لیا اور یہ خیال کیا کہ اس سے روزہ ٹوٹ گیا ہوگا، پھر قصداً کھا پی لیا۔
(8) رات سمجھ کر صبح صادق کے بعد سحری کھالی۔
(9) دن باقی تھا، مگر غلطی سے یہ سمجھ کر کہ آفتاب غروب ہوگیا ہے، روزہ افطار کرلیا۔
ان سب چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، مگر صرف قضا واجب ہوتی ہے، کفارہ لازم نہیں ہوتا۔
(10) جان بوجھ کر بیوی سے صحبت کرنے یا کھانے پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، قضاء اور کفارہ دونوں لازم ھوتے ہیں۔
کفارہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کرے، ورنہ ساٹھ روزے متواتر رکھے، بیچ میں ناغہ نہ ہو، ورنہ پھر شروع سے ساٹھ روزے پورے کرنے پڑیں گے اور اگر روزہ کی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھرکر کھانا کھلاے۔ آج کل شرعی غلام یا باندی کہیں نہیں ملتے، اس لیے آخری دو صورتیں متعین ہیں۔