بسم اللّه الرحمن الرحيم
(۱) سوال:کیا رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنا بہتر ہے یا تبلیغ جماعت میں جانا بہتر ہے؟اگر دونوں کو الگ سے کرنے کے لیے میرے پاس وقت نہ ہو تو کیا میں ان میں سے صرف ایک پر عمل کرسکتا ہوں؟
جواب:رمضان کے اخیر عشرہ میں اعتکاف کرنا سنت ہے اور تبلیغی جماعت میں جانا سنت نہیں، ایک مباح اور جائز کام ہے، ظاہر ہے کہ سنت کو ترجیح دی جائے گی، جماعت میں جانے کے لیے پورا سال پڑا ہوا ہے جب چاہیں جاسکتے ہیں۔ ہاں اگر جماعت میں ہوتے ہوئے اعتكاف كی كوئی شكل بن جائے تو نورٌ علي نورٌ۔
(۲) سوال:کچی قبر پر (جو کہ تازہ بنی ہو ) اس کو بارش سے بچانے کے لیے اس پر پلاسٹک ڈالنا شریعت میں اس کی کیا حیثیت ہے؟
جواب:قبر تازہ بنی ہو اور بارش ہورہی ہو یا بارش کا امکان ہو تو وقتی طور پر قبر پرپلاسٹک ڈالنا؛ تاکہ بارش کی وجہ سے مٹی پانی میں بہہ نہ جائے، درست ہے، تاہم مستقل طورپر ایسا کرنا درست نہیں۔
اگر بارش کی وجہ سے مٹی کے پانی میں بہہ جانے کا اندیشہ ہوتو اصل قبر کو چھوڑ کر اطراف سے پختہ کرنا یا اطراف میں اینٹوں کی باڑ لگانا اس طرح کہ میت کے محاذ (برابری) میں نیچے سے اوپر تک قبر کچی رہے، جائز اور درست ہے، یعنی میت کا جسم چاروں جانب سے مٹی کے اندر رہے، تاہم اس صورت میں بہتر یہ ہے کہ آگ پر پکی ہوئی اینٹیں استعمال نہ کی جائیں۔ (کفایت المفتی ، 4/50) اور اگر قبر کچی ہو اور بارش میں بہہ جائے یا بیٹھ جائے تو بارش کے بعد اس پر مٹی ڈال کر کوہان نما کردیا جائے، البتہ بالشت سے زیادہ اسے اونچا نہ کیا جائے۔
(۳) سوال:لیلة القدر كی رات عبادت كرنے پر ایك ہزار مہینوں كی عبادت كا ثواب ملتا ہے ایسا میں نے سنا ہے تو كیا اگر كوئی گناہ كرتا ہے تو ایك ہزار مہینوں كا ہی ملے گا؟
جواب:آپ نے ٹھیك سنا ہے۔ قرآن كریم میں اللہ تعالی كا ارشاد ہے (لَیلَةُ القَدرِ خَیرٌ مِّن اَلفِ شَہرٍ) مقام کے تقدس اور وقت کی عظمت وبابرکت ہونے کے اعتبار سے برائی کا گناہ اور اس کی قباحت بھی بڑھ جاتی ہے، تاہم برائی کے بارے میں ستر کی صراحت نظر سے نہیں گذری۔
(۴) سوال:دانت میں درد کی وجہ سے دوا كی كلی كرنے سے روزے كا حكم كیا ہوگا؟
جواب:نہیں ٹوٹے گا ، البتہ اگر دوا کا کوئی جز حلق میں چلا گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا، اس لیے بغیر سخت مجبوری کے روزہ کی حالت میں دوا كی كلی وغیرہ بھی نہ كی جائے۔
(۵) سوال:روزہ کی حالت میں جب ہم مسواک کرتے ہیں تو لعاب دہن مسواک کے مزاہ کو اور بڑھا دیتاہے، اگر ہم اسے نگل جائیں یا یہ از خود گلے کے اندر چلاجائے تو کیا اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا؟
جواب:صورت مسئولہ میں روزہ نہ ٹوٹے گا ، ہاں اگر لعاب کی مقدار اتنی ہو کہ جس کو عموماً زیادہ کہا جاتا ہے تو ٹوٹ جائے گا۔
فقط واللّہ اعلم
Does this apply to your situation?
A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.
Ask Mufti Arbab
