بسم اللّه الرحمن الرحيم
(۱) سوال :حضرت شوہر اور بیوی کو مہر کی رقم کی مقدار یاد نہیں ہے تو اب مہر کیسے ادا کرے؟
جواب:اگر مہر کی رقم بھول جائے تو بیوی سے پوچھ لے کہ کیا طے ہوا تھا، یا نکاح نامے پر دیکھ لے، اگر کہیں بھی نہ ملے تو جو یاد ہو اور بیوی کا مطالبہ بھی اس سے زیادہ کا نہ ہو اتنا ادا کردے، اور باقی کے بارے میں بیوی سے معاف کروالے۔
(۲) سوال :ہم نے اپنے بھائی کی منگنی (Engagement) پر ایک انگوٹی بھیجی تھی، ایک سال ہوگیا منگنی کو، اس انگوٹھی کا مالک کون ہوا؟ اور زکوۃ کون دیگا؟
جواب:اگر زیورات دیتے وقت سسرال والوں نے اس بات کی صراحت کی تھی کہ یہ بطورِ عاریت یعنی صرف استعمال کرنے کے لیے ہیں تو پھر یہ زیورات لڑکے والوں کی ملکیت ہوں گے، اور اگرسسرال والوں نے ہبہ، گفٹ اور مالک بناکر دینے کی صراحت کردی تھی تو پھر ان زیورات کی مالک لڑکی ہوگی، اور اگر زیورات دیتے وقت کسی قسم کی صراحت نہیں کی تھی تو پھر لڑکے کے خاندان کے عرف کا اعتبار ہوگا، اگر ان کا عرف و رواج بطورِ ملک دینے کا ہے یا ان کا کوئی رواج نہیں ہے تو ان دونوں صورتوں میں زیورات کی مالک لڑکی ہوگی، اور اگر بطورِ عاریت دینے کا رواج ہے تو پھر سسرال والے ہی مالک ہوں گے۔لڑکی کے مالک بن جانے کی صورت میں بھی اگر آپ واپس لینا چاہیں تو یہ بری بات ہے کہ ہدیہ کسی کو دے کر واپس لیا جائے، لیکن اگر آپ نے لے لیا یا انہوں نے ازخود واپس کردیا تو وہ آپ کی ملکیت میں واپس آجائے گی۔ اسی اعتبار سے زکوۃ کو سمجھ لیجئے کہ جو مالک ہوگا اسی پر زکوۃ واجب ہوگی۔
(۳) سوال :کیا عشاء کی قضاء عمری نماز میں وتر بھی پڑھنا ہیں قضاء؟
جواب:جی ہاں عشاء کی قضا نماز میں چار فرضوں کے ساتھ تین وتر کی بھی قضا پڑھے گا۔
(۴) سوال :کیا روزے میں سر میں تیل لگا سکتے ہیں؟
جواب:روزے کی حالت میں سر پر تیل لگانا جائز ہے، اس سے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
(۵) سوال :مفتی صاحب پنچ سورہ بغیر وضوء کے پڑھ سکتے ہیں؟
جواب:بغیر وضوء پڑھ تو سکتے ہیں، لیکن قرآن کے کسی حصہ یا پارے یا پنج سورہ وغیرہ کو بغیر وضوء اور طہارت کے چھونا جائز نہیں ہے۔
(۶) سوال :کیا عورتوں کو بھی جنازہ کی نماز پڑھنی ہوتی ہے حرم میں؟
جواب:عورت طواف یا عمرہ کی ادائیگی کے واسطے حرم میں پہلے سے موجود ہو اور جنازہ کی نماز کھڑی ہوجائے تو وہ عورتوں والے مخصوص حصے میں رہ کر پردہ کے ساتھ نمازِ جنازہ کی جماعت میں شرکت کرسکتی ہے، کیوں کہ نفسِ نمازِ جنازہ پڑھنا عورت کے لیے ممنوع نہیں ہے۔
(۷) سوال :کتنے سال کی عمر میں بچے کو روزہ رکھنا چاہئے؟
جواب:لڑکے اور لڑکی پر بالغ ہونے کے بعد روزہ رکھنا فرض ہوتا ہے، اگر بلوغت کی کوئی علامت نہ پائی جائے تو پندرہ سال کی عمر ہونے پر انہیں بالغ تسلیم کیا جائے گا اور روزہ رکھنا فرض ہوگا۔ تاہم بالغ ہونے سے پہلے بھی اگر بچے میں روزہ رکھنے کی طاقت ہو اور روزہ سے اس کو کوئی ضرر لاحق نہ ہوتا ہو تو اس کو روزہ رکھنے کا حکم دیا جائے، اور دس سال عمر ہونے پر تحمل وبرداشت کے موافق روزہ رکھنے کی تاکید کرنی چاہیے، تاکہ اس کی عادت بن جائے اور بالغ ہونے کے بعد اس کے لیے روزہ رکھنے میں دشواری نہ ہو، اور اگر نابالغ بچہ روزہ رکھ کر توڑ دے تو اس کی قضا رکھوانا لازم نہیں ہے۔
فقط واللّہ اعلم
Does this apply to your situation?
A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.
Ask Mufti Arbab
