Skip to content

   

All masail

Ask Mufti Arbab · Jumah 97

26 June 2026

4 questions answered

بسم اللّه الرحمن الرحيم

(۱) سوال:صرف اکیلا دسویں محرم کا روزہ رکھنا مکروہ ہوتا ہے آج کے زمانہ میں بھی ؟

جواب:آج کل صرف دسویں محرم کا روزہ مکروہ تو نہیں ہے؛ البتہ دسویں کے ساتھ نویں یا گیارہویں کا بھی رکھ لینا بہتر ہے ۔

سوال:مفتی صاحب مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ اگر فجر کی سنتیں چھوٹ جائیں تو کیا قضاء کرنا ضروری ہے؟ جواب سے نواز میں مہربانی ہوگی۔

جواب:قضاوقت کے بعد واجب کی ادائیگی کو کہتے ہیں اس معنی کے اعتبار سے کسی سنت کی قضا نہیں ہے لیکن اگر فجر کی نماز مع سنت کے چھوٹ جائے تو زوال سے پہلے پہلے فرض کے ساتھ سنت کی قضا کرنے کا بھی حکم تبعاً للفرض ہے اور زوال کے بعد کسی اور وقت میں صرف فرض کی قضا ہے مراقی الفلاح میں ہے:

ولم نقض سنۃ الفجر إلا بقوتہا مع الفرض إلی الزوال (حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی: 453)

اسی طرح اگر فجر کی صرف سنت رہ گئی تو امام محمدرحمہ اللہ کے قول پرطلوع شمس کے بعد زوال سے پہلے تک اسے پڑھ لینے کو بہتر کہا ہے۔

قال محمد: وتقضی منفردۃ بعد الشمس قبل الزوال فلا قضا لہا قبل الشمس ولا بعد الزوال اتفاقا (حوالہ بالا)

پس امام محمد رحمہ اللہ کے قول کی بنیاد پرطلوع آفتاب کے بعد فجر کی سنت پڑھ لینا جائز ہے۔

سوال:میں بیمار رہتا ہوں میں نے دیكھا تھا كہ کرونا كے وقت میں ماسک لگا کر نماز پڑھ سكتے تھے، تو كیا اگر میں بیمار ہوں یا عام حالات میں ہوں تو ماسك لگاكر نماز پڑھ سكتے ہیں؟

جواب:حالت نماز میں منہ اور ناک بند کرکے نماز پڑھنا خلاف سنت اور مکروہ ہے؛ کیونکہ اس طرح نماز پڑھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے؛ لیکن اعذار کی بنا پر شریعتِ اسلامی نے جس طرح بہت سی چیزوں میں رعایت برتی ہے اور حرج کو دور کرنے کی تلقین کی ہے اسی طرح اس سلسلے میں بھی شرعی تخفیف برتی جا سکتی ہے، چنانچہ مختلف وائرس جیسی مہلک اور متعدی بیماری سے بچنے کے لئے اگر وقتی اور عارضی طور پر ماسک پہن کر نماز پڑھی جائے تو شرعاً حرج نہیں۔

سوال:نمازی کے آگے سے گزرناکیسا ہے؟

جواب:نمازپڑھنے والے کے آگے سے چھوٹی مسجدیا چھوٹے مکان میں گزرنا ناجائزہے جب تک کہ اس کے آگے کوئی آڑ نہ ہو، اوراگرنمازی کے آگے سترہ(کم از کم ایک گز شرعی کے برابراونچی اور کم از کم ایک انگلی کے برابرموٹی کوئی چیز) ہوتو اس آڑ کے آگے سے گزرنا جائزہے، سترے اور نمازی کے درمیان سے گزرنا جائز نہیں۔ اور بڑی مسجد (کم ازکم چالیس شرعی گز یا اس سے بڑی مسجد)یا بڑامکان یا میدان ہو تواتنے آگے سے گزرناجائز ہے کہ اگر نمازی اپنی نظر سجدہ کے جگہ پر رکھے تو گزرنے والااسے نظر نہ آئے جس کا اندازہ نمازی کی جائے قیام سے تین صف آگے تک کیا گیا ہے یہ اندازہ کھلے میدان یا بڑی جگہ کے بارے میں ہے۔چھوٹی مسجدیا محدود جگہ کے لیے نہیں ہے،لہذا چھوٹی مسجد یا محدود جگہ میں اتنی فاصلے سے بھی گزرنادرست نہیں، بلکہ نمازی کی نماز کے ختم ہونے کاانتظارکیاجائے، اس لیے کہ نمازی کے آگے سے گزرنے پر حدیث شریف میں شدید وعیدیں آئی ہیں، چناں چہ مشکاۃ شریف کی روایت میں ہے:

”حضرت ابوجہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نمازی کے آگے سے گزرنے والا اگر یہ جان لے کہ اس کی کیا سزا ہے تو وہ نمازی کے آگے سے گزرنے کے بجائے چالیس تک کھڑے رہنے کو بہتر خیال کرے۔ (اس حدیث کے ایک راوی) حضرت ابونضر فرماتے ہیں کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال کہا گیا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)“۔

مذکورہ حدیث کی تشریح میں صاحبِ مظاہرحق علامہ قطب الدین خان دہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

”حضرت امام طحاوی نے ”مشکل الآثار“ میں فرمایا ہے کہ یہاں چالیس سال مراد ہے نہ کہ چایس مہینے یا چالیس دن۔ اور انہوں نے یہ بات حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس حدیث سے ثابت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی جو اپنے بھائی کے آگے سے اس حال میں گزرتا ہے کہ وہ اپنے رب سے مناجات کرتا ہے (یعنی نماز پڑھتا ہے)، وہ (اس کا گناہ) جان لے تو اس کے لیے اپنی جگہ پر ایک سو برس تک کھڑے رہنا زیادہ بہتر سمجھے گا بہ نسبت اس کے کہ وہ نمازی کے آگے سے گزرے۔ بہر حال!ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نمازی کے آگے سے گزرنا بہت بڑا گناہ ہے جس کی اہمیت کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر کسی آدمی کو یہ معلوم ہو جائے کہ نمازی کے آگے سے گزرنا کتنا بڑا گناہ ہے اور اس کی سزا کنتی سخت ہے تو وہ چالیس برس یا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کے مطابق ایک سو برس تک اپنی جگہ پر مستقلاً کھڑے رہنا زیادہ بہتر سمجھے گا بہ نسبت اس کے کہ وہ نمازی کے آگے سے گزرے“۔

فقط واللّہ اعلم

Does this apply to your situation?

A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.

Ask Mufti Arbab