Skip to content

   

All masail

Ask Mufti Arbab · Jumah 96

8 May 2026

3 questions answered

بسم اللّه الرحمن الرحيم

(۱) سوال:قربانی کے لیے اگر کوئی شخص جانور خریدتا ہے، پھر اسے پالتا ہے، اس سے محبت اور انسیت ہو جاتی ہے، اور اس سال اسے ذبح کرنے کا دل نہیں چاہتا، تو ایسی صورت میں اگلے سال قربانی کی جا سکتی ہے؟

جواب:قربانی کا جانور خواہ پہلے سے متعین کرلیا جائے خواہ  ایام قربانی میں خرید كر کیا جائے دونوں صورتیں برابر ہیں لیکن اگر متعین کرنے والا یا بہ نیت قربانی خریدنے والا صاحب نصاب نہیں تو اس پر اسی جانور کی قربانی کرنا واجب ہوجاتا ہے۔

فی  شرح التنویر : و فقیر شراہا لہا لو جو بہا علیہ حتی یمتنع علیہ بیعہا ( التنویر الابصار مع الدرالمختار‘ کتاب الاضحیۃ ۶/ ۳۲۱ ط سعید )

اور اگر  صاحب نصاب ہے اور ایام قربانی سے پہلے اس نے جانور خریدا اور  اسے بطور نذر قربانی کے لئے متعین کرلیا تو اس پر بھی اسی جانور کی قربانی واجب  ہوگئی اور نصاب کی وجہ سے دوسری قربانی واجب ہوگی۔

واعلم انہ قال فی البدائع :  ولو نذران یضحی شاۃ وذالک فی ایام النحر وہو موسر فعلیہ ان یضحی بشاتین عندنا شاۃ بالنذر وشاۃ بایجاب الشرع ابتدائً ( ردالمحتار‘ کتاب الاضحیۃ ۶/ ۳۲۰ ط سعید )

اور اگر بطور نذر تعیین نہ کی تو اس کے ذمہ صرف ایک قربانی واجب رہے گی اور تعیین بھی لازم نہ ہوگی۔

وفی الشامیۃ ایضاً الا عنی بہ الا خبار عن الواجب فلا یلزمہ الا واحدۃ (رد المحتار‘ کتاب الاضحیۃ ۶/۳۲۰ ط سعید)

صورت مسئلہ میں اس سال اسے ذبح کرنے کا دل نہیں چاہتا، تو ایسی صورت میں اگلے سال قربانی کی جا سکتی ہے۔ لیكن خیال رہے كہ  دل پر جتنی مشقت اور بوجھ محسوس ہوتا ہے، اتنا ہی زیادہ ثواب کی امید ہوتی ہے۔ البتہ اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ جانور اتنا زیادہ بوڑھا یا بڑا نہ ہو جائے کہ بعد میں اس کی قربانی مشکل یا نامناسب ہو جائے۔

(۲) سوال:کیا باپ کے طلاق دینے کے بعد عدت طلاق گزر جانے کے بعد سوتیلی ماں سے نکاح جائز ہے؟

جواب:جس عورت سے باپ نے نکاح کیا ہو اس سے اولاد کے لیے نکاح جائز نہیں، خواہ باپ نے طلاق دیدی ہو، باپ کی منکوحہ سے بنص قرآنی نکاح اولاد کے لیے حرام ہے.

وَلَا تَنکِحُوا مَا نَکَحَ آبَاؤُکُم مِّنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ  إِنَّہُ کَانَ فَاحِشَۃً وَمَقْتًا وَسَاءَ سَبِیلًا (الآیۃ، النساء 22)

(۳) سوال:مفتی صاحب کیاکوئی ایسا جانور جسکے پیدائشی سینگ یا دانت یا دم یا آ نکھوں کی لائٹ یا پیدائشی نقص ہو کیااس کی قربانی درست ہے یانہیں؟ اور خصی جانور سے کون سا جانور مراد ہے مینڈھا یا اور کو ئی جانور مراد ہے اور اسکی عمر کتنی ہونے چاہئے اور کیا اسی کے بارے میں ہے کہ،6 یا 7 مہینہ کا ہونا چاہئے؟ جواب سے نوازیں۔

جواب:جس کے پیدائشی سینگ نہ ہوں، اسی طرح ا س کے سینگ جڑ سے اکھڑے نہ ہوں اس کی قربانی درست ہے۔

قربانی صحیح ہونے کی شرط جانور کی عمر کا پورا ہونا ہے، دانت نکلنا ضروری نہیں، لہذا عمر پوری ہونے کی صورت میں اگرچہ دانت نہ نکلے ہوں اور جانور چارا کھا سکتا ہو تو قربانی صحیح ہوگی؛

اور جس کے پیدائشی دونوں کان یا دم نہ ہو یا ایک کان ہو۔ اس کی قربانی درست نہیں۔

”ہدایہ“ میں ہے۔

جو جانور اندھا ہو یا اس کی ایک آنکھ کی بینائی تہائی سے زیادہ جاتی رہے تو اس کی قربانی جائز نہیں

اصولی بات یہ ہے کہ ہر وہ عیب جو غیر معمولی ہو اور جانور کی منفعت کو ختم کردے، پیدائشی ہو یا قربانی سے پہلے پیدا ہوا ہو قربانی درست ہونے میں مانع ہے۔

خصی سے مراد وہ جانور ہے جس کے بیضے کوٹ کر اس کی شہوت ختم کر دی جاتی ہے،

بھیڑیا دنبہ ایک سال سے کم کا ہو اور اتنا فربہ ہو کہ دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہے، تو اس کی قربانی درست ہے۔

فقط واللّہ اعلم

Does this apply to your situation?

A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.

Ask Mufti Arbab