بسم اللّه الرحمن الرحيم
(۱) سوال:قربانی کس پر واجب ہے؟
جواب:ایسا آزاد شخص جو ایام قربانی میں بقدر نصاب مال، روپیہ پیسہ، سونا چاندی یا مال تجارت یا ضرورت سے زائد ساز و سامان کا مالک ہو، ایسے شخص پر قربانی واجب ہے۔نصاب پر سال گزرنا قربانی کے وجوب کے لئے شرط نہیں بلکہ ایام قربانی (۱۰/ ۱۱/ ۱۲/ ذی الحجہ) میں بھی اگر کوئی شخص صاحب نصاب ہوجاتا ہے تو اس پر بھی قربانی واجب ہے۔
(۲) سوال:اگر کوئی شخص قربانی کا ارادہ کرے، تو کیا اس کے لیے ضروری ہے کہ جب ذی الحجہ کا چاند نظر آجائے تو اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے؟ اور اگر کوئی شخص چاند نظر آجانے کے بعد اپنے بال اور ناخن کاٹ دیتاہے تو کیا یہ اس کے لیے جائز ہے؟ اس کی قربانی ہوجائے گی؟ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔
جواب:جس شخص کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو، اُس کے لیے مستحب یہ ہے کہ ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد سے قربانی کرنے تک اپنے بال اور ناخن نہ کٹوائے، حدیث میں اس کی ممانعت آئی ہے، لیکن احناف کے نزدیک یہ ممانعت مکروہ تنزیہی پر محمول ہے، یعنی کاٹنا خلاف اولی ہے اور اِس کا قربانی کی ادائیگی و عدم ادائیگی سے کوئی تعلق نہیں ہے، اگر کوئی شخص عشرہ ذی الحجہ میں بال یا ناخن کاٹ لے، تب بھی اُس کی قربانی بلا کراہت اداء ہوجائے گی۔
(۳) سوال:کن جانوروں کی قربانی درست ہے؟
جواب:درج ذیل جانوروں کی قربانی درست ہے:
(۱) بکری (جس کے ضمن میں بكرا، بھیڑ، دنبہ اور مینڈھے وغیرہ بھی شامل ہیں)
(۲) اونٹ۔
(۳) بھینس (جس کے ضمن میں کٹرے بھی شامل ہیں)
فہو ان یکون من الاجناس الثلاثۃ الغنم اوالابل او البقر ویدخل فی کل جنس نوعہ، والذکر والانثیٰ منہ۔ (ہندیۃ ۵؍۲۹۷، تبیین الحقائق زکریا ۶؍۴۸۳، درمختار مع الشامی زکریا ۹؍۴۶۶، بدائع الصنائع زکریا ۴؍۲۰۵)
فقط واللّہ اعلم
Does this apply to your situation?
A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.
Ask Mufti Arbab
