Skip to content

   

All masail

Ask Mufti Arbab · Jumah 94

24 April 2026

3 questions answered

بسم اللّه الرحمن الرحيم

(۱) سوال:کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا؟ اگر ہاں ہے تو اس کا کیا ثبوت ہے؟ اور کیا آج بھی کوئی جادوگر ہے؟ جو ہم میں سے کسی پر جادو کرسکتا ہے؟ برائے مہربانی جواب سے نوازیں

جواب:صحیح روایات سے ثابت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک یہودی شخص ”لبید بن الاعصم“ نے جادو کیا تھا، جس کی بنا پر ایک خاص ذاتی معاملہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پریشانی لاحق ہوئی تھی۔ اس جادو کے دفعیہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی دو سورتیں (سورہ فلق اور سورہ ناس) نازل فرمائیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پریشانی دور ہوئی۔ لہذا جادو سے متاثر ہونا شان رسالت کے خلاف نہیں ہے یہ بھی ایک محض بیماری ہے جس سے کوئی بھی شخص متاثر ہوسکتا ہے۔ آج بھی ایسا ممکن ہے۔ (مستفاد: بخاری شریف 462/1  وغیرہ تفسیر ابن کثیر 589/6 زکریا)

(۲) سوال:كیا زکوۃ دینے سے مال پاك ہوجاتا ہے؟

جواب:زکوۃ دینے سے مال پاک ہو تا ہے، اور حق تعالی کی رضا حاصل ہوتی ہے، اور نہ دینے سے مال نا پاک رہتا ہے، اور خدا تعالی ناراض ہوتا ہے۔ قرآن کریم اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں زکوۃ نہ دینے کے بہت سے وبال بیان فرمائے گئے ہیں، ایسامال سانپ کی شکل میں مال دار کو کاٹے گا اور کہے گا کہ: ”میں تیرا وہی مال ہوں جس کو تو جمع کر تا تھا اور خدا تعالی کے راستے میں خرچ نہیں کر تا تھا۔“ قرآن کریم او ر احادیث شریفہ میں زکوۃ و صدقات کے بڑے فضائل بیان کئے گئے ہیں، اور زکوۃ نہ دینے پر شدید وعیدیں وارد ہوئی ہیں، ان کی تفصیل احادیث کی کتا بوں میں فضائل صدقات میں دیکھ لی جائے۔ (آپ کے مسائل اوران کا حل، جلد: 5/56)

(۳) سوال:ماسک لگا کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟

جواب:حالت نماز میں منہ اور ناک بند کرکے نماز پڑھنا خلاف سنت اور مکروہ ہے؛ کیونکہ اس طرح نماز پڑھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے؛ لیکن اعذار کی بنا پر شریعتِ اسلامی نے جس طرح بہت سی چیزوں میں رعایت برتی ہے اور حرج کو دور کرنے کی تلقین کی ہے اسی طرح اس سلسلے میں بھی شرعی تخفیف برتی جا سکتی ہے، چنانچہ ;كسی وائرس جیسی مہلک اور متعدی بیماری سے بچنے کے لئے اگر وقتی اور عارضی طور پر ماسک پہن کر نماز پڑھی جائے تو شرعاً حرج نہیں۔  واللہ اعلم بالصواب۔

فقط واللّہ اعلم

Does this apply to your situation?

A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.

Ask Mufti Arbab