بسم اللّه الرحمن الرحيم
(۱) سوال:مفتی صاحب ا گر کسی عورت نے ایسی دوائی کھائی کہ اس دوائی سے بچہ نہیں ہوتا تو کیا گناہ ہے یا نہیں ؟
جواب:بغیر کسی مجبوری کے مانع حمل اشیاء کا استعمال مقصد شرع وشارع کے خلاف ہونے کی وجہ سے مکروہ ہے؛ البتہ اگر عورت کی صحت خراب ہو، تکالیف حمل برداشت کرنے کی طاقت نہ ہو، یا استقرار حمل میں ایسی تکالیف کا اندیشہ ہو جو ناقابل تحمل وبرداشت ہو، پہلے سے موجود بچے کی صحت خراب ہونے کا خطرہ ہو تو ان صورتوں میں عارضی طور پر قوت وصحت کی بحالی کے لیے مانع حمل دوا استعمال کرنے کی گنجائش ہوگی؛ البتہ کوئی ایسی صورت اختیار کرنا جس کی وجہ سے دائمی طور پر قوت تولید ختم ہوجائے ناجائز اور حرام ہوگا؛ اس لیے اگر یہ عوارض نہیں ہیں تو آپ کے لیے بلاوجہ عارضی طور پر منع حمل کا استعمال بھی مناسب نہیں اور اگر یہ نیت ہو کہ بچہ ہونے کی صورت میں ان کے خرچے کا انتظام کیسے ہوگا تو اس نیت سے استقرار حمل نہ ہونے دینا جائز نہیں قرآن شریف میں اس کی مذمت آئی ہے۔
وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَکُمْ خَشْیَۃَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُہُمْ وَإِیَّاکُمْ
”تم اپنے بچوں کو فقر وفاقہ کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم ان کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی“۔
سوال:(1) مفتی صاحب کیا کوئی عورت کسی غیر محرم مرد کو سلام کرسکتی ہے چاہے وہ چھوٹی ہو یابڑی ہو اور ہاتھ ملاسکتی ہے؟
(2) اور کیا کوئی عورت کسی غیر محرم مرد سے فون پرباتیں کرسکتی ہے؟
(3) اور کیاکوئی ایسی عورت کسی غیر محرم مرد سے باتیں کر سکتی ہے جنکی ابھی بات چل رہی ہو نکاح کے متعلق ابھی نکاح نہ ہوا ہو؟
(4) اور کیا کوئی مرد کسی غیر محرم عورت کے سرپر ہاتھ رکھ کر پھونک دے سکتاہے یانہیں کیونکہ وہ مجبور کر تی ہے کہ آ پ ہمارے بھائی ہو؟
جواب(۱)جائز نہیں ، البتہ اگر کوئی ضروری بات کرنا ہو اور سلام کرلیں تو گنجائش ہے۔ غیر محرم عورتوں سے مصافحہ کرنا (ہاتھ ملانا) شرعاً جائز نہیں ہے، ہاں اپنی محرم خواتین سے مصافحہ کرسکتا ہے، لیکن اگر فتنہ کا اندیشہ ہو تو ہاتھ نہ ملائے۔
(2) غیر محرم کا آپس میں بغیر کسی ضرورت کے بات چیت کرنا حرام ہے۔ چاہے کوئی بھی صورت ہو، چیٹ یا میسج کے ذریعے سے ہو یا کال کے ذریعے یا آسمنے سامنے ہو، کسی بھی صورت میں یہ جائز نہیں ہے۔ بلکہ حرام ہے۔
(3) منگیتر بھی دیگر اجنبی لڑکیوں کی طرح نامحرم ہوتی ہے، اور نامحرم لڑکی سے تعلقات رکھنا، ملنا جلنا، اور ہنسی مذاق یا بغیر ضرورت بات چیت کرنا جائز نہیں ہے، اور میسج موبائل وغیرہ پر تعلقات رکھنے کا بھی یہی حکم ہے،
(4) ہاتھ رکھنے والا بزرگ ہو اور سامنے لڑکی غیر محرم بالغہ یا قریب البلوغ ہو اس صورت میں بہتر یہ ہے کہ اس عمل سے اجتناب کیا جائے، بلکہ ہاتھ رکھے بغیر ہی خیر و برکت کی دعا دے دی جائے۔
سوال:مفتی صاحب کیااگر کسی شخص نیکسی امام صاحب کو متعین کیا کہ میں زید کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں جب نماز سے فارغ ہو ئے تو وہ بکر تھا کیا اس شخص کی اقتدا درست ہوء یانہیں ؟
جواب :مقتدی پر امام کا متعین کرنا لازم نہیں ۔ بل کہ افضل اس کا ترک کردینا ہے۔
اگر امام کے اقتدا کی نیت کی اور یہ اس کو خیال نہیں کہ وہ زید ہے یا عمر و ہے اس کویہ گمان ہے کہ وہ زید ہے اور وہ عمر تھا تو اقتدا صحیح ہوجائے گی۔
اور اگر یہ نیت کی میں زید کی اقتدا کرتا ہوں اور امام عمرو تھا تو جائز نہیں ۔ یعنی اس صورت میں اقتدا درست نہیں کہ امام کو اس کے نام سے معین کیا پھر کوئی غیر نکلا یعنی اقتدا میں امام موجود کی نیت نہ کی بلکہ اقتداء زید کی نیت کی تو اب اگر وہ عمرو ہوگا تو اقتدا درست نہ ہوگی کیونکہ نیت کا اعتبار ہے اور اس نے امام حاضر کے غیر کی اقتدا کی نیت کی اس لئے صحیح نہ ہوئی۔ (فتاوی ہندیہ )
فقط واللّہ اعلم
Does this apply to your situation?
A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.
Ask Mufti Arbab
