Skip to content

   

All masail

Ask Mufti Arbab · Jumah 99

28 August 2026

5 questions answered

بسم اللّه الرحمن الرحيم

(۱) سوال:یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو خطبہ جمعہ اور بیان کے دوران نیند کی جھپکی آجاتی ہے اور وہ لوگ جو دیوار کے سہارے ٹیک لگا کر بیٹھ جاتے ہیں ، ان کے لئے کیا حکم ہے، کیا ان کے لئے دوبارہ وضو کرنا ضروری ہے؟

جواب:جمعہ کے خطبہ کی بہت اہمیت بیان کی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر جمعہ کی نماز کے لیے آتا ہے، خوب دھیان سے خطبہ سنتا ہے اور خطبہ کے دوران خاموش رہتا ہے تو اس جمعہ سے گزشتہ جمعہ تک، اور مزید تین دن کے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں (مسلم)

جسے جمعہ کے وقت اونگھ آئے تو وہ اپنی جگہ بدل لے۔ (ترمذی)-

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے کے دوران گھٹنے کھڑے کر کے رانوں کو پیٹ سے لگا کر ہاتھوں کو باندھ کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ (ابو داؤد)

اور رہا مسئلہ سونے کا تو:۔ اگر آدمی اس طرح سوجائے کہ اس کے اعضا ڈھیلے پڑجائیں اور قوتِ ماسکہ (خروج ریح کو قابو میں رکھنے والی صلاحیت) زائل ہوجائے مثلاً لیٹ کر یا کسی چیز پر ٹیک لگا کر اس طور پر سوئے کہ اگر وہ چیز ہٹا دی جائے تو آدمی گر جائے تو ان صورتوں میں وضو ٹوٹ جائے گا۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (شامی زکریا، احسن الفتاوی، فتاوی محمودیہ)

واضح رہے کہ اس دور میں چونکہ کثرتِ اکل کا عام رواج ہے اور آدمی مقعد کے زمین پر استقرار کے باوجود حدث کردیتا ہے؛ ا س لیے اس دور میں ہر اعتبار سے گہری نیند سے سونے کی صورت میں وضو کے ٹوٹ جانے کا حکم لگا دینا مناسب اور مبنی بر احتیاط ہے۔

(۲) سوال:حضرت ہم نے سنا ہے کہ پورے سال میں ۵/ دن روزے نہیں رکھتے ہیں ۔ عید الفطر کا دن، تین بقرعید کے دن کے روزے۔ پانچواں دن کون سا ہے جس میں روزہ نہیں رکھتے ہیں ۔جواب سے نوازیں مہربانی ہوگی۔

جواب:سال میں پانچ دن روزہ رکھنا شرعاً منع ہے، ایک عید الفطر کا دن یعنی یکم شوال اورچار دن ذوالحجہ کے مہینے میں ہیں ، یعنی دس ذوالحجہ سے لے کر تیرہ ذوالحجہ تک لگاتار چار دن۔

(۳) سوال:جس ملک میں رہو اس ملک سے محبت کرو۔ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔ یومِ آزادی کے موقع پر لوگ ان جملوں کو احادیث بتا کر شیئر کرتے ہیں ۔ کیا یہ واقعی احادیث ہیں ۔ اگر ہیں تو احادیث کا نمبر بتا دیجئے۔

جواب:حب الوطن من الإیمان”یعنی وطن سے محبت ایمان کا جز ہے، اس قسم کی بات عوام الناس میں حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طور پر مشہور ہے، جب کہ مذکورہ الفاظ کی نسبت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا درست نہیں ، اس لیے کہ محدثین نے اس روایت کو موضوع یعنی من گھڑت قرار دیا ہے،جیساکہ“موضوعات الصغانی”میں ہے

حبُّ الوطنِ منَ الإیمانِ. (موضوعات الصغانی.الصفحۃ أو الرقم: 53)

موضوع المقاصد الحسنۃ میں ہے: حبِّ الوطنِ منَ الإیمانِ۔ (المقاصد الحسنۃ للسخاوی، الصفحۃ أو الرقم: 218) قال السخاوی: لم أقف علیہ.

الدرر المنتثرۃ میں ہے: حبُّ الوطنِ من الإیمانِ. (الدرر المنتثرۃ للسیوطی، الصفحۃ أو الرقم: 65) قال السیوطی: لم أقف علیہ

الأسرار المرفوعۃ میں ہے: حبُّ الوطنِ مِنَ الإیمانِ. (الأسرار المرفوعۃ لملا علی القاری، الصفحۃ أو الرقم: 189)

قال علی القاری: قیل: لا أصل لہ أو بأصلہ موضوع

البتہ محدثین میں سے علامہ سخاوی رحمہ اللہ مذکورہ روایت کے معنی کو صحیح قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ روایت اگرچہ صحیح نہیں ، لیکن اس کا معنی درست ہے

جب کہ دیگر محدثین نے علامہ سخاوی رحمہ اللہ کے اس قول کو قبول نہیں کیا اور ایمان اور وطن کی محبت کے تلازم کا انکار کیا ہے، اور ایمان کے جز ہونے کا انکار کیا ہے۔

پس مذکورہ بالا تفصیل سے ثابت ہوتا ہے کہ وطن کی محبت کو ایمان کا جز قرار دینا اور اس کی نسبت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا صحیح نہیں ، البتہ بعض دیگر کچھ روایات سے وطن کی محبت کا ممدوح ہونا معلوم ہوتا ہے، تاہم ان روایات میں سے کسی سے بھی محبتِ وطن کا ایمان کا جز ہونا ثابت نہیں ہوتا۔

ہجرت کے موقعے پر مکہ کو مخاطب کرکے آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اے مکہ! تو کتنا پاکیزہ اور میرا محبوب شہر ہے، اگر میری قوم مجھے نہ نکالتی میں کہیں اور نہ رہتا۔

ہجرت کے بعد آپ علیہ السلام نے مدینہ منورہ کے لیے دعا فرمائی کہ اے اللہ! مدینہ کی محبت ہمارے دل میں مکہ کی محبت سے زیادہ فرمادے۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت نقل کی ہے کہ آپ علیہ السلام جب سفر سے واپسی پر مدینہ تشریف لاتے تو مدینہ کے راستے یا مکانات نظر آتے ہی آپ علیہ السلام اپنی سواری کو مدینہ کی محبت میں تیز کردیتے۔

حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ اس سے مدینہ کی فضیلت کے ساتھ ساتھ وطن کی محبت کے جواز اور اس کی طرف شوق کا بھی پتا چلتا ہے۔فقط واللہ اعلم

(۴) سوال:جمعہ کی نماز کا خطبہ عصاء ہاتھ میں لیکر خطبہ دینا کیسا ہے؟ شریعت کی روشنی میں وضاحت مطلوب ہے۔

جواب:خطیب کے لیے جمعہ کے خطبہ میں عصا کااستعمال جائز ہے،رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوداؤد شریف کی روایت میں عصا کے ساتھ خطبہ دیناثابت ہے۔لیکن اس ثبوت کے باجود عصا کا استعمال ضروری نہیں اوراسے لازم سمجھنا درست نہیں ۔مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں :”عصاہاتھ میں لے کر خطبہ پڑھناثابت تو ہے،لیکن بغیر عصا کے خطبہ پڑھنا اس سے زیادہ ثابت ہے،پس حکم یہ ہے کہ عصاہاتھ میں لینابھی جائزہے، اور نہ لینابہترہے اور حنفیہ نے اسی کو اختیار کیاہے، پس اس کو ضروری سمجھنا اور نہ لینے والے کو طعن تشنیع کرنادرست نہیں ،اسی طرح لینے والے کو بھی ملامت کرنا درست نہیں “۔ (کفایت المفتی، (3/260دارالاشاعت)

(۵) سوال:مسئلہ یہ ہے کہ اگر امام صاحب نے آیت سجدہ پڑھی اور امام صاحب کو سجدہ کرنا یاد نہیں رہا تو پیچھے سے کوئی مقتدی سجدہ کرنے کے لیے لقمہ دے سکتا ہے یا نہیں ؟

جواب:آیتِ سجدہ پڑھنے کے باوجود اگر امام سجدہ نہ کرے تو مقتدی بطورِ لقمہ ”اللہ أکبر“ کہہ سکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم

فقط واللّہ اعلم

Does this apply to your situation?

A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.

Ask Mufti Arbab