Skip to content

   

All masail

Ask Mufti Arbab · Jumah 100

4 September 2026

5 questions answered

بسم اللّه الرحمن الرحيم

(۱) سوال:مفتی صاحب اگر كسی كا چالیسواں یا دسواں نہیں منایا تو كیا اس كی مغفرت نہیں ہوگی؟

جواب:دسواں، چالیسواں ، یہ سب امور بدعت ہیں، سلف صالحین کے عمل سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے، اسلام میں ان سب کی کوئی اصل نہیں ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے:

کل بدعۃ ضلالۃ وکل ضلالۃ فی النار(صحیح ابن خزیمۃ)

ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم لے جانے والی ہے۔

کسی کا چالیسواں یا دسواں نہ منانے پر مغفرت نہ ہونے کی بات غلط ہے۔ اسلام میں سوگ کی مدت صرف تین دن ہے، اس کے علاوہ تمام باتیں خود ساختہ ہیں۔

خلاصہ کلام یہ سب امور بدعت ہیں، ان سب سے بچنا لازم ہے۔

(۲) سوال:غیر محرم كے ساتھ كس حد تك تعلق جائز ہے؟ دفتر میں ہم ان كے ساتھ كام كرتے ہیں اور بات بھی كرنی پڑتی ہے؟

جواب:صورت مسئولہ کے مطابق کسی بھی غیر محرم کے ساتھ بلا ضرورت سلام و کلام کرنا درست نہیں ہے، تاہم اگر دفتری امور کے بارے میں ضروری بات چیت ہو، تو اس کی گنجائش ہے، لیکن بات کرتے ہوئے اس کی طرف دیکھنے سے فتنے کا اندیشہ ہے، اس لئے دیکھے بغیر بات کی جائے، اسی طرح حتی الوسع بلا ضرورت گفتگو سے پرہیز کیا جائے، جہاں کہیں بے تکلفی کا خطرہ ہو تو اس محفل سے کنارہ کشی اختیار کر لینا چاہئے، اور بے جا اختلاط ، گفتگو، اور خلوت سے حد درجہ اجتناب کرنا لازم ہے۔

(۳) سوال:مفتی صاحب مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ اگر فجر کی سنتیں چھوٹ جائیں تو کیا قضاء کرنا ضروری ہے؟ جواب سے نواز میں مہربانی ہوگی۔

جواب:قضاوقت کے بعد واجب کی ادائیگی کو کہتے ہیں اس معنی کے اعتبار سے کسی سنت کی قضا نہیں ہے لیکن اگر فجر کی نماز مع سنت کے چھوٹ جائے تو زوال سے پہلے پہلے فرض کے ساتھ سنت کی قضا کرنے کا بھی حکم تبعاً للفرض ہے اور زوال کے بعد کسی اور وقت میں صرف فرض کی قضا ہے مراقی الفلاح میں ہے:

ولم نقض سنۃ الفجر إلا بقوتہا مع الفرض إلی الزوال (حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی: 453)

اسی طرح اگر فجر کی صرف سنت رہ گئی تو امام محمدرحمہ اللہ کے قول پرطلوع شمس کے بعد زوال سے پہلے تک اسے پڑھ لینے کو بہتر کہا ہے۔

قال محمد: وتقضی منفردۃ بعد الشمس قبل الزوال فلا قضا لہا قبل الشمس ولا بعد الزوال اتفاقا (حوالہ بالا: 453)

پس امام محمد رحمہ اللہ کے قول کی بنیاد پرطلوع آفتاب کے بعد فجر کی سنت پڑھ لینا جائز ہے۔ اللہ تعالی اعلم

(۴) سوال:صرف جمعہ وعیدین یا کبھی کبھی نماز پڑھنے والوں کا قرآن وحدیث کی روشنی میں شرعی حکم کیا ہے؟

جواب:نماز بالکلیہ نہ پڑھنے والوں یا صرف جمعہ وعیدین یا کبھی کبھی پڑھنے والوں کا قرآن وحدیث کی روشنی میں شرعی حکم کیا ہے؟ سعودی عرب کے مشہور عالم دین شیخ محمد بن صالح العثیمین نے اپنی کتاب ﴿حکم تارک الصلاة﴾ میں فقہاء وعلماء کی مختلف آراء تحریر کی ہیں : حضرت امام احمد ابن حنبل فرماتے ہیں کہ ایسا شخص کافر ہے ۔ اس کی سزا یہ ہے کہ اگر توبہ کرکے نماز کی پابندی نہ کرے تو اس کو قتل کردیا جائے۔ حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی کہتے ہیں کہ نماز کو چھوڑنے والا کافر تو نہیں؛ البتہ اس کو قتل کیا جائے گا۔ حضرت امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ اس کو قتل نہیں کیا جائے گا؛ البتہ حاکم وقت اس کو جیل میں ڈال دے گا اور وہ جیل ہی میں رہے گا، یہاں تک کہ توبہ کرکے نماز شروع کردے یا پھر وہیں مرجائے۔

حدیث میں ہے: عن عمر رضي اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: الصّلاة عَمُودُ الدین (رواہ أبو نعیم في الحلیة)

اس حدیث شریف میں نماز کو دین کا ستون قرار دیا گیا ہے، گویا نماز کو قائم رکھنے والا اپنے دین کو قائم رکھنے والا ہے، اور نماز کو چھوڑدینے والا اپنے دین کو ڈھادینے والا ہے،

اور ایک حدیث شریف میں ہے: من ترک الصلاة لقي اللہ وہو علیہ غضبان (رواہ الطبراني)

یعنی جو شخص نماز چھوڑدے، وہ اللہ تعالیٰ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے سخت ناراض ہوں گے۔ اس طرح کی ایک دو نہیں بے شمار حدیثیں ہیں، جن میں نماز چھوڑنے پر سخت سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، بلکہ نماز میں سستی کرنے پر بھی طرح طرح کی وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ اور جس چیز پر وعید وارد ہو، یا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہوتی ہو، وہ گناہ کا کام ہوتا ہے۔

بہرحال پانچ وقت کی فرض نمازیں چھوڑ کر صرف جمعہ یا سال میں صرف عید کی نماز پڑھنا ناانصافی ہے۔ اللہ نے جو روزانہ کی رحمتیں اور نعمتیں مقرر کی ہیں، ان سے بھی خود کو محروم کرنا ہے جو مناسب نہیں۔

(۵) سوال:والدین كی مرضی كے بغیر نكاح كرنا كیسا ہے؟

جواب:اپنے والدین اور لڑکی یا لڑكے کے سرپرست حضرات کو راضی کرکے باہمی خوشی سے نکاح کرنا بہتر ہے؛ کیوں کہ والدین کی رضامندی کے بغیر نکاح کرنا شرعًا و اخلاقًا انتہائی ناپسندیدہ ہے،گو عاقل بالغ لڑکے یا لڑکی کے اپنے والدین کی اجازت کے بغیر، گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرنے سے شرعًا نکاح منعقد ہوجاتاہے۔ شریعت نے عاقل بالغ لڑکے اور لڑکی کو اپنی رائے کے استعمال کا حق دیا ہے، لیکن اس میں خاندان والوں کی عزت کا پاس رکھنابھی ضروری ہے، بہر حال یہ حرکت ناپسندیدہ ہے کہ لڑکی اور لڑکا گھر والوں کو لاعلمی میں رکھ کر نکاح کرلیں۔

فقط واللّہ اعلم

Does this apply to your situation?

A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.

Ask Mufti Arbab