Skip to content

   

All masail

Ask Mufti Arbab · Jumah 26

22 March 2024

6 questions answered

بسم اللّه الرحمن الرحيم

(۱) سوال:روزے کی حالت میں عورتوں کے لئے لپ اسٹک لگانا کیسا ہے؟ یا رمضان کے بعد میں بھی عورتوں کے لئے لپ اسٹک لگانا جائز ہے یا نہیں اس کی شرعی حقیقت کیا ہے؟

جواب:لپ اسٹک کے اجزاء کا منہ میں جانے کا خطرہ رہتا ہے؛ لہذا روزہ میں لپ اسٹک لگانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ لپ اسٹک لگانے کے بارے میں یہ ہے کہ اگر کوئی حرام یا ناپاک چیز کی آمیزش نہ ہو تو استعمال کرنا جائز ہے، اگر تحقیق سے ثابت ہو جائے کہ کسی لپ اسٹک میں حرام اجزاء شامل ہیں تو اس کا لگانا جائز نہیں ہوگا۔ واللہ اعلم

(۲)سوال:نماز میں سورتوں کی ترتیب آگے پیچھے ہو جائے تو سجدہ سہو لازم ہوجاتا ہے یا نہیں؟

جواب:نماز میں قرأت کے دوران سورتوں کی ترتیب کی رعایت رکھنا قرأت کے واجبات میں سے ہے، نماز کے واجبات میں سے نہیں ہے، فرض نمازوں میں قصداً قرآن مجید کی ترتیب کے خلاف قراء ت کرنا مکروہِ تحریمی ہے، مثلاً پہلی رکعت میں سورہ کافرون اور دوسری رکعت میں سورہ کوثر پڑھی گئی  تو قصداً پڑھنے کی صورت میں کراہت کے ساتھ نماز ادا ہو جائے گی، اور اگر سہواً یا غلطی سے ترتیب کے خلاف پڑھا تو نماز بلا کراہت درست ہو جائے گی، لیکن دونوں صورتوں میں سے کسی میں بھی سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا۔

(۳)سوال:امام جب رکوع سے واپس آتے ہیں تو وہ ربنا لک الحمد پڑھیں گے یا نہیں؟

جواب:امام کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ صرف سمع اللّٰہ لِمن حمدہ پڑھے اور رَبَّنا لک الحمدمقتدی پڑھیں گے، البتہ اگر امام بھی ربنا لک الحمدپڑھ لے تو اس سے نماز میں کوئی خرابی نہیں آئے گی۔  واللہ اعلم

(۴) سوال:رکوع اور سجدہ میں مقتدی کی تسبیحات مکمل نہ ہو تو کیا مقتدی امام کی اتباع کرے گا؟

جواب:مقتدی اگر کسی سنت یا مستحب کی ادائیگی میں مصروف ہو اور امام دوسرے رکن میں منتقل ہو جائے، تو مقتدی اس سنت یا مستحب کو چھوڑ کر امام کی اتباع کرے گا، مثلاً: مقتدی رکوع، سجدے کی تسبیحات میں مصروف ہو اور امام رکوع اور سجدے سے کھڑا ہو جائے، تو ایسی صورت میں مقتدی کو تسبیحات چھوڑ کر امام کی اتباع کرنا لازم ہے۔ واللہ اعلم

(۵) سوال:مفتی صاحب سحری میں آنکھ نہ کھلے تو صبح روزے کی نیت کس وقت تک کر سکتے ہیں؟

جواب:نیت دِل کے ارادے کا نام ہے اور رمضان کے مہینے میں روزے کی نیت کرنا ضروری ہے، دل میں ارادہ کر لینا بھی کافی ہے، بہرحال اس نیت کے استحضار کے لیے اگر زبان سے بھی نیت کر لیں تو بہتر ہے، نیز فقہاء نے لکھا ہے کہ رمضان کے مہینے میں رات ہی سے نیت کر لینا مستحب ہے اور اگر رات کو نیت نہ کر سکا یا بھول گیا تو نصفِ نہار شرعی سے پہلے پہلے روزے کی نیت کر سکتے ہیں۔نصفِ نہار شرعی سے مراد یہ ہے کہ اگر صبح صادق کے طلوع اور سورج کے غروب کے وقت کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے تو اس کے درمیانی نقطے کو نصفِ نہارِ شرعی کہتے ہیں، اس وقت سے پہلے رمضان کے روزے کی نیت کرنا ضروری ہے۔

فقہاء نے لکھا ہے کہ رمضان المبارک میں روزے کے ارادے سے سحری کرنا بھی نیت کے قائم مقام ہے۔ واللہ اعلم

(۶) سوال:مفتی صاحب! روزہ کن کن چیزوں باتوں سے ٹوٹ جاتا ہے؟ موٹی موٹی چیزیں بتادیں۔

جواب:روزہ بہت ساری چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے،ان میں سے چند چیزیں مندرجہ ذیل ہیں:

(1) کان اور ناک میں دوا ڈالنا۔

(2) قصداً منہ بھر قے کرنا۔

(3) کلی کرتے ہوئے حلق میں پانی چلا جانا۔

(4) عورت کو چھونے سے انزال ہوجانا۔

(5) کوئی ایسی چیز نگل جانا، جو عادۃً کھائی نہیں جاتی، جیسے لکڑی، لوہا، کچا گیہوں کا دانہ وغیرہ۔

(6) لوبان یا عود وغیرہ کا دھواں قصداً ناک یا حلق میں پہنچانا۔

(7) بھول کر کھا پی لیا اور یہ خیال کیا کہ اس سے روزہ ٹوٹ گیا ہوگا، پھر قصداً کھا پی لیا۔

(8) رات سمجھ کر صبح صادق کے بعد سحری کھالی۔

(9) دن باقی تھا، مگر غلطی سے یہ سمجھ کر کہ آفتاب غروب ہوگیا ہے، روزہ افطار کرلیا۔

ان سب چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، مگر صرف قضا واجب ہوتی ہے، کفارہ لازم نہیں ہوتا۔

(10) جان بوجھ کر بیوی سے صحبت کرنے یا کھانے پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، قضاء اور کفارہ دونوں لازم ھوتے ہیں۔

کفارہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کرے، ورنہ ساٹھ روزے متواتر رکھے، بیچ میں ناغہ نہ ہو، ورنہ پھر شروع سے ساٹھ روزے پورے کرنے پڑیں گے اور اگر روزہ کی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھرکر کھانا کھلاے۔ آج کل شرعی غلام یا باندی کہیں نہیں ملتے، اس لیے آخری دو صورتیں متعین ہیں۔

فقط واللّہ اعلم

Does this apply to your situation?

A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.

Ask Mufti Arbab