Skip to content

   

All masail

Ask Mufti Arbab · Jumah 92

3 April 2026

4 questions answered

بسم اللّه الرحمن الرحيم

(۱) سوال:۔ سوال:کیا جھینگا کھانا جائز ہے؟ قرآن وحدیث قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل جواب دیں۔

جواب:جھینگا کھانا جائز ہے لیکن بعض فقہاء کے نزدیک منع ہے لہذا احتیاط یہ ہے کہ اس کو نہ کھایا جائے (منتخبات نظام الفتاویٰ489/3)

دریائی جھینگا اقسام مچھلی میں داخل ہے اس کا کھانا حلال اور درست ہے۔(فتاوی قاسمیہ ج122/24)

جھینگا کو ماہر حیوانات علامہ دمیری ؒنے حیاۃ الحیوان میں مچھلی میں شمار فرمایا ہے اس لئے مچھلی ہونے میں کوئی شبہ نہ ہونا چاہئیے۔(فتاوی قاسمیہ ج124/24)

اہل فتاوی میں سے بعض حضرات کو جھینگا کے مچھلی کی قسم میں سے ہونے سے شبہ ہونے کی وجہ سے ان حضرات نے اس سے منع فرمایا ہے مگر تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جھینگا مچھلی کی ایک قسم ہے اور اسکا کھا نا بلا تردد جائز ہے اور درست ہے اس لئے کہ حنفیہ کے نزدیک سمک بجمیع اجزاۂ حلال ہے۔(فتاوی قاسمیہ 125/24)

اکثر علماء کے نزدیک دریائی جھینگے کی سبھی اقسام حلال ہیں۔(کتاب النوازل 411/10/14)

(۲) سوال:۔جوانسان روزہ نہیں رہتا یا انکا روزہ چھوٹ گیا ہو او روہ رہنا نہیں چاہتے ہو تو غریب کو ایک روزے کا کتنا پیسہ دے سکتے ہیں؟

جواب:جب آدمی بوڑھا ہوجائے اور روزہ رکھنے کی طاقت باقی نہ رہے تو روزہ کے بدلہ میں فدیہ دینے کی شرعی طور پر اجازت ہے۔(فتاوی قاسمیہ ج23/11)

اگر آئندہ صحت یابی کی کوئی امید نہیں ہے تو فدیہ دینے کی گنجائش ہے لیکن اگر کسی زمانہ میں صحت یاب ہوجائے تو روزہ کا کفارہ لازم ہوگا۔(فتاوی قاسمیہ ج525/11)

فدیہ کے مستحق وہ نادار فقیر ہیں جو مستحق زکوۃ ہیں۔(فتاوی قاسمیہ ج 524/11)

فدیہ میں روزانہ ایک صدقہ یا اسکی قیمت فقیر کو دینا ہے اور صدقہ فطر کی مقدار موجودہ اوزان کے حساب سے ڈیڑھ کلو ۴۷گرام ۰۴۶ملی گرام گیہوں ہے۔(فتاوی قاسمیہ ج525/11)

سوال:۔لے پالک بچے کا کیا حکم ہے؟

جواب:أُدْعُوْہُمْ لِاٰبَاءِہِمْ ہُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْا آبَاءَ ہُمْ فَإِخْوَانُکُمْ فِیْ الدِّیْنِ وَمَوَالِیْکُمْ۔(سورۃ احزاب:آیت 5) (پکارو لے پالکوں کو ان کے باپ کی طرف نسبت کرکے یہی پورا انصاف ہے اللہ کے یہاں پھر اگر نہ جانتے ہو انکے باپ کو تو تمہارے بھائی ہیں دین میں اور رفیق ہیں۔)

یعنی ٹھیک انصاف کی بات یہ ہے کہ ہر شخص کی نسبت اس کے باپ کی طرف کی جائے کسی نے لے پالک بنا لیا تو وہ واقعی یعنی حقیقی باپ نہیں بن گیا۔

غرض یہ ہے کہ نسبی تعلقات اور ان کے احکام میں اشتباہ والتباس واقع نہ ہونے پائے۔ابتدائے اسلام میں نبی کریم ﷺ نے زید بن حارثہ کو آزاد کرکے متبنیٰ کرلیا تھا چنانچہ لوگ انہیں زید بن محمد ﷺ کہہ کر پکارنے لگے جب یہ آیت نازل ہوئی سب زید بن حارثہ کہنے لگے۔ (تفسیر عثمانی ج341/2)

شرعا لے پالک وارث نہیں ہوتا خواہ اپنے خاندان کاہو یا غیر خاندان کاہو۔(آپکے مسائل اور انکا حل:422/7)

سوال:نیک اولاد ہونے دعاء بتادیجئے؟

جواب:نیک صالح اولاد کے لئے دعاء: رَبِّ ہَبْ لِیْ مِنَ الصَّالِحِیْنَ۔ (سورۃ الصفت 100)۔

فقط واللّہ اعلم

Does this apply to your situation?

A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.

Ask Mufti Arbab