بسم اللّه الرحمن الرحيم
(۱) سوال:۔ روزے میں بھول کر کھانے، پینے کا حکم؟
الجواب وباللہ التوفیق: روزے میں بھول کر کھانا، پینا معاف ہے؛ لہٰذا اگر کسی نے روزے میں بھول کر کھالیا یا پی لیا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا ۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم ومالا یفسدہ، ۳: ۳۶۵\- ۳۷۳، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔
(۲) سوال:كياانجیکشن لگوانے سے روزہ ٹوٹ جائے گا ؟
جواب:روزے کی حالت میں انجکشن لگوانا جائز ہے، خواہ رگ میں لگوایا جائے یا گوشت میں؛ کیوں کہ انجکشن کے ذریعہ جو دوا بدن میں پہنچائی جاتی ہے وہ اصلی راستوں (Opening)سے نہیں، بلکہ رگوں یا مسامات کے ذریعہ بدن میں جاتی ہے، جب کہ روزہ فاسد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ بدن کے اصلی راستوں سے کوئی چیز معدے یا دماغ تک پہنچے اور انجکشن میں ایسا نہیں ہوتا، یہی حکم ڈرپ کا بھی ہے، یعنی روزے کی حالت میں ڈرپ لگانے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔ (فتاوی رحیمیہ میں ہے: (7/264):
"دوا بذریعہ انجکشن رگوں میں پہنچنا مفسدِ صوم نہیں ہے،فسادِ صوم کے ليے مفطر کا جوف دماغ یا معدہ میں پہنچنا ضروری ہے اور وہ یہاں پایا نہیں جاتا ، إن العبرۃ للوصول إلی الجوف و الدماغ. دیکھیے سوراخِ ذکر میں دوا ٹپکانے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا؛ اس لیے کہ گو د وا اندرونِ بدن گئی، لیکن مثانہ سے آگے (معدہ میں ) نہیں پہنچتی ۔" (عالمگیری ج ۱ ص ۲۰۴ الباب الرابع فیما یفسد وما لا یفسد)
(۳) سوال:۔ روزہ کی حالت میں غرارہ كرنا؟
جواب:روزہ کی حالت میں غرارہ سے منع کیا جاتا ہے مبادا حلق کے نیچے پانی چلا جائے اور روزہ فاسد ہوجائے اس لیے روزہ کی حالت میں غسل میں صرف کلی کرلینا ہی کافی ہے، غسل صحیح ہوجائے گا ۔
(۴) سوال:۔ بغیر سحری كھائے روزہ ركھنا؟
جواب:سحری کھانا سنت اور باعث اجر وثواب ہے؛ لیکن روزہ کی صحت اس پر موقوف نہیں ہے، اگر کوئی شخص کسی وجہ سے سحری میں اٹھ نہ سکے پھر بھی وہ نیت کرکے روزہ رکھ سکتا ہے اور رمضان کے روزے کی نیت نصف النہار شرعی (صبح صادق اور غروب آفتاب کا بالکل درمیانی وقت) تک کی جاسکتی ہے۔
ویستحب السحور․․ لما رواہ الجماعة إلا أبا داوٴد عن أنس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تسحروا فإن فيالسحور برکة إلخ (شامي: ۳/۴۰۰، زکریا) فیصح صوم رمضان․․․ بنیة من اللیل إلی الضحوة الکبری: ۳/۳۳۸، ط: زکریا) ۔
(۵) سوال:۔ روزے کی حالت میں مسواک اور ٹوتھ پیسٹ کرنے کا حکم؟
جواب:رمضان ہو یا غیر رمضان، روزے کی حالت میں مسواک کرنا نہ صرف جائز، بلکہ سنت ہے اور ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنا مکروہ ہے، پس اگر ٹوتھ پیسٹ کے اجزاء حلق میں چلے گئے، تو اس سے روزہ بھی ٹوٹ جائے گا۔
(۶) سوال:۔ روزے کی حالت میں نمک چکھنا؟
جواب:بلاضرورت کسی چیز کو چباکر یا چکھ کر تھوکنے سے روزہ مکروہ ہو تا ہے؛ لہذا نمک چکھنے سے روزے میں کراہت آئے گی اور اگر نمک حلق سے اتر گیا تو روزہ فاسد ہوگا۔فقط واللہ اعلم
(۷) سوال:۔ تراویح کی رکعات کتنی ہیں؟
جواب:تعدادرکعات کے بارے میں کوئی مرفوع روایت موجودنہیں،البتہ اس بارے میں بعض احادیث میں مختلف تعداد صحابہ کرام ؓ سے منقول ہے۔تعداد رکعات کے بارے میں ایک روایت مصنف ابن ابی شیبہ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے:
''ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یصلی فی رمضان عشرین رکعۃ''\[مصنف ابن ابی شیبہ،باب من کان یری القیام فی رمضان،ج:۲،ص:۳۹۴۔ط:دارالقبلہ بیروت\]
نیزاسی طرح کی روایت التلخیص الحبیرمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ میں منقول ہے کہ
''أنه صلى الله عليه وسلم صلى بالناس عشرين ركعة ليلتين فلما كان في الليلة الثالثة اجتمع الناس فلم يخرج إليهم ثم قال من الغد خشيت أن تفرض عليكم فلا تطيقوها''\[التلخیص الحبیر فی تخریج احادیث الرافعی الکبیر،باب صلوۃ التطوع،ج:۲،ص:۵۳۔ط:دارالکتب العلمیہ بیروت\]
اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو سب سے زیادہ جاننے والے صحابہ کرام ہیں اورصحابہ کرام ؓ کااتفاق ہے کہ تراویح کی رکعات بیس ہیں،بس صحابہ کرامؓ کابیس رکعات پراتفاق اس بات کی شہادت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تراویح بیس رکعات ہی پڑھائی ہیں۔فقط واللہ اعلم
(۸) سوال:۔ رمضان کے روزے کی نیت کب تک کر سکتے ہیں؟
جواب:واضح رہے کہ نیت دِل کے ارادے کا نام ہے اور رمضان کے مہینے میں روزے کی نیت کرنا ضروری ہے، دل میں ارادہ کر لینا بھی کافی ہے، بہرحال اس نیت کے استحضار کے لیے اگر زبان سے بھی نیت کر لیں تو بہتر ہے، نیز فقہاء نے لکھا ہے کہ رمضان کے مہینے میں رات ہی سے نیت کر لینا مستحب ہے اور اگر رات کو نیت نہ کر سکا یا بھول گیا تو نصفِ نہار شرعی سے پہلے پہلے روزے کی نیت کر سکتے ہیں۔نصفِ نہار شرعی سے مراد یہ ہے کہ اگر صبح صادق کے طلوع اور سورج کے غروب کے وقت کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے تو اس کے درمیانی نقطے کو نصفِ نہارِ شرعی کہتے ہیں، اس وقت سے پہلے رمضان کے روزے کی نیت کرنا ضروری ہے۔
فقہاء نے لکھا ہے کہ رمضان المبارک میں روزے کے ارادے سے سحری کرنا بھی نیت کے قائم مقام ہے۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 377):
"(قوله: إلى الضحوة الكبرى) المراد بها نصف النهار الشرعي والنهار الشرعي من استطارة الضوء في أفق المشرق إلى غروب الشمس".فقط واللہ اعلم
(۹) سوال:۔ كیا مسافر كے لئے سفر میں روزہ ركھنا ضروری ہے؟
جواب:دونوں برابر ہے، یعنی اس وقت رکھنے یا بعد میں قضا کرنے دونوں کا اختیار آپ کو ہے، لیکن مذکورہ سہولتوں کی موجودگی میں رکھ لینا زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ چھوڑدینے کی صورت میں بعد میں قضا کرنا دشوار بھی ہوتا ہے اور اگلے وقت کے لیے موٴخر ہوتا ہے۔
(۱۰) سوال:۔ کیا قے (الٹی) آنے سے روزہ ٹوٹ جاتاہے؟
جواب:آپ ہی آپ قے آنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، تھوڑی قے ہوئی ہو یا زیادہ۔ اور اگر اپنے اختیار سے قے کیا اور بھر منھ قے ہوئی تو روزہ ٹوٹ گیا۔ لہٰذا اگر پہلی صورت پیش آئی ہے تو روزہ نہیں ٹوٹا۔ اور اگر دوسری صورت پیش آئی ہے تو ایک روزہ کی قضا رکھ لیں۔ کفارہ واجب نہیں۔
(۱۱) سوال:۔ حالتِ جنابت میں سحری کی تو روزے کا حکم؟
جواب:اگر غسل کا وقت نہ ہو یا کوئی عذر ہو تو وضو یا کلی وغیرہ کرکے سحری کرلینی چاہیے، اس لیے کہ جنابت کی حالت میں سحری کرنا منع نہیں ہے، لہذاجس شخص پر غسل واجب ہو اور وہ صبح صاد ق سے پہلے غسل نہ کرسکے اور سحری کرکے روزہ رکھ لے تو اس کا روزہ درست ہے، ناپاک ہونے کی وجہ سے روزہ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ البتہ غسل میں اتنی تاخیر کرنا کہ فجر کی نماز قضا ہوجائے گناہ کا باعث ہے۔
(۱۲) سوال:۔ رمضان میں انہیلر کا استعمال روزہ کی حالت میں کرسکتے ہیں یا نہیں؟
جواب:نہیں کرسکتے، اس لیے کہ بحالت صوم اس کے استعمال سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔
(۱۳) سوال:۔ افطار میں تاخیر؟
جواب:سورج غروب ہوتے ہی افطار جائز و درست ہوجاتا ہے، البتہ اگر احتیاطاً دو تین منٹ کی تاخیر کرلی جائے تو بہتر ہے، مزید تاخیر کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ افطار میں تعجیل مستحب ہے، کذا فی الدر (مع الرد کتاب الصوم باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ: ۳/۴۰۰، ط: مکتبہ زکریا دیوبند)
فقط واللّہ اعلم
Does this apply to your situation?
A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.
Ask Mufti Arbab
