بسم اللّه الرحمن الرحيم
(۱) سوال:۔ رمضان میں صرف جمعہ جمعہ روزہ ركھنا؟
جواب:اگر کسی نے رمضان کے مہینے میں شرعی عذر (مرض یا سفر) کے بغیر روزہ رکھا ہی نہیں تو یہ اتنا بڑا گناہ ہے کہ ساری زندگی روزے رکھ کر بھی وہ ثواب حاصل نہیں کیا جاسکتا جو رمضان كے دنوں میں روزہ رکھنے کی صورت میں حاصل ہوتا (مشکاۃ المصابیح)۔ الا یہ كہ صرف جمعہ جمعہ كے روزے ركھے۔ البتہ اس صورت میں صرف ان روزوں کی قضا اور توبہ لازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا۔
(۲) سوال:روزے کی حالت میں خوشبو لگانا ، پرفیوم وغیرہ استعمال كرنا؟
جواب:روزے کی حالت میں عطر اور پرفیوم لگا سکتے ہیں، اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، بشرطیکہ پرفیوم لگاتے وقت اس کے ذرات حلق تک نہ پہنچیں۔
اسی طرح روزے کی حالت میں اگر بتی کا دھواں بغیر ارادہ کے خود بخود حلق میں داخل ہوجائے تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، البتہ اگربتی جلا کر خود اس کےدھویں کو سونگھا، جس کی وجہ سے دھواں اندر چلا گیا تو اس سے روزہ فاسد ہوجائے گا۔ (فتاوی شامی کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، 2/ 395/سعید)
(۳) سوال:۔ مفتی صاحب! کیا روزے کی حالت میں سوئمنگ پول میں نہانا صحیح ہے؟ اس سے روزے پر تو کوئی اثر نہیں پڑے گا؟
جواب:روزے کی حالت میں سوئمنگ پول یا نہر وغیرہ میں غوطہ لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، بشرطیکہ پانی منہ یا ناک کے راستے سے حلق سے نیچے نہ اترے، ورنہ روزہ ٹوٹ جائے گا اور قضا لازم ہوگی، لہذا جو شخص تیراکی اچھی طرح نہ جانتا ہو، اس کے لیے روزے کی حالت میں پانی میں غوطہ لگانا مناسب نہیں ہے، کیونکہ اس سے پانی حلق کے راستے اندر جانے کا اندیشہ ہوگا۔
(۴) سوال:۔ بیماری کی وجہ سے زندگی میں روزہ کا فدیہ اداکرنا؟
جواب:اگر کوئی شخص ایسا بوڑھا ہوگیا کہ روزہ رکھنے کی طاقت نہ رہی اور آئندہ بھی روزہ رکھنے کی طاقت ہونے کی امید نہیں ، یا ایسا بیمار ہوا کہ روزہ رکھنے کی طاقت نہ رہی اور آئندہ صحت یابی کی امید بھی نہیں ہے، تو ایسی حالت میں زندگی میں روزہ کا فدیہ دینا درست ہے۔ تاہم فدیہ ادا کرنے کے بعد اگر موت سے پہلے روزہ رکھنے کی طاقت حاصل ہو جائے اور وقت بھی ملے تو ان روزوں کی قضا کرنا ضروری ہوگا، فدیہ صدقۂ نافلہ سے تبدیل ہوجائے گا۔ اورایک روزے کا فدیہ ایک صدقۃ الفطر کے برابر یعنی پونے دو کلو گندم یا اس کی موجودہ قیمت ہے۔
(۵) سوال:۔ خاص کر لوگ رمضان کے مہینہ ہی میں قرآن شریف پڑھ کر ختم کرتے ہیں ، تو کیا اس طرح رمضان کے مہینہ میں قرآن شریف کم از کم ایک بار ختم کرنا ضروری ہے؟
الجواب: حامداً و مصلیاً و مسلماً… قرآن شریف کو رمضان کے مہینہ کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے، اس لئے اس مہینہ میں اس کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کرنی چاہئے، حضور ﷺ اور جبرئیل علیہ السلام بھی اس مہینہ میں خاص قرآن کا دور کرتے تھے، اور ایک سال تو رمضان میں دو دور کئے تھے، اس لئے اس مہینہ میں زیادہ سے زیادہ تلاوت کرنی چاہئے، اور اگر زیادہ نہ ہو سکے تو کم از کم ایک مرتبہ تو قرآن ختم کرنا ہی چاہئے۔ فقط و اللہ تعالی اعلم
(۶) سوال:۔ غلط فہمی کی وجہ سے غروبِ آفتاب سے پہلے افطار کرنے کا حکم؟
جواب:اگر روزہ دار غلط فہمی کی وجہ سے غروب آفتاب سے پہلے ہی افطار کرلے تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا اور اس روزے کی قضا لازم ہوگی۔
(۷) سوال:۔ سحری كے وقت كھاتے كھاتے اذان ہونے لگی، تو كیا حكم ہے؟
جواب:سحری کا وقت صبح صادق تک ہوتا ہے اور صبح صادق کے ساتھ سحری کا وقت ختم ہوجاتا ہے اور فجر کا وقت شروع ہو جاتا ہے، اس لیے فجر کا وقت داخل ہوجانے کے بعد کھانا پینا جائز نہیں۔ فجر کا وقت چوں کہ صبح صادق کے بعد ہوتا ہے، اور فجر کی اذان صبح صادق کے بعد دی جاتی ہے؛ لہذا اذان شروع ہونے کے بعد روزہ دار کے لیے کھانا پینا جائز نہیں ہے، لهذا اگر کسی نے اس دوران کچھ کھا پی لیا تو اس کا روزہ نہ ہوگا، بعد میں اس روزے کی قضا کرنی ہوگی۔
(۸) سوال:۔ اعتكاف میں مسجد سے باہر جانا؟
جواب:رمضان کےمسنون اعتکاف کے لئے جمہور احناف کے نزدیک پورا وقت مسجد میں گزارنا ضروری ہے، سواۓ قضاۓ حاجات کے مسجد کی حدود سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔
فقط واللّہ اعلم
Does this apply to your situation?
A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.
Ask Mufti Arbab
