Skip to content

   

All masail

Ask Mufti Arbab · Jumah 88

30 January 2026

3 questions answered

بسم اللّه الرحمن الرحيم

(۱) سوال:۔شریعت میں مکروہات کی تفصیل کیا ہے مکروہ تنزیہی وتحریمی کا کیا حکم ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق: نمازومیں کراہت آنے کے معنی یہ ہیں کہ مکروہ اعمال کے ارتکاب کی وجہ سے نماز فاسد تو نہیں ہوتی البتہ کراہت کے درجات کے اعتبار سے نقصان آجانے کی بناء پر ثواب میں کمی ہوجاتی ہے۔(کتاب المسائل ج /۱ص ۳۶۶)

کراہت کی قسمیں:

کراہت تحریمی:اگر ممانعت کی دلیل ظنی الثبوت یاظنی الدلالت ہے یا وہ فعل ترک واجب کو شامل ہے اس پر مکروہ تحریمی کا اطلاق ہوگا۔

کراہت تنزیہی:اوراگر ممانعت کی دلیل خلاف اولیٰ یا ترک استحباب پر مبنی ہے تو اس فعل کو مکروہ تنزیہی کہا جائیگا۔(کتاب المسائل:ج /۱ص /۳۶۶)

حکم:

جس مکروہ تحریمی سے نماز واجب الاعادہ ہوتی ہے وہ ایسا مکروہ تحریمی ہے جس کا تعلق نماز کے عین افعال سے ہو۔ مثلا تعدیل ارکان چھوڑنا یا تصویر والے کپڑے پہن کر نماز پڑھنا وغیرہ۔

مکروہ تنزیہی جس کا تعلق عین نماز کے ارکان سے نہ ہو بلکہ اس میں کراہت کسی دوسری وجہ سے آئی ہو۔ مثلاسورتوں کا الٹ پلٹ کر کے پڑھ دینا یا فاسق امام کا نماز پڑھانا وغیرہ وغیرہ۔(کتاب المسائل:۱/۳۶۷)

(۲) سوال:کیا وہ لڑکی جو ناپاکی کی حالت میں ہو کسی رومال کے ذریعہ قرآن پکڑسکتی ہے جب کہ قرآن پر پلاسٹک کی جلد بھی ہو؟

الجواب وباللہ التوفیق:حیض و نفاس کے ایام میں قرآن کریم کو غلاف کے بغیر ہاتھ لگانا جائز نہیں ہے۔ غلاف سے مراد کسی کپڑے سے چھونا ہے نہ کہ وہ غلاف قرآن پر چڑھا ہوتا مثلاً جزدان وغیرہ (کتاب المسائل ۲۲۲)

(۳) سوال:۔لے پالک بچے کا کیا حکم ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق: أُدْعُوْہُمْ لِاٰبَاءِہِمْ ہُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْا آبَاءَ ہُمْ فَإِخْوَانُکُمْ فِیْ الدِّیْنِ وَمَوَالِیْکُمْ۔(سورۃ احزاب:آیت ۵) (پکارو لے پالکوں کو ان کے باپ کی طرف نسبت کرکے یہی پورا انصاف ہے اللہ کے یہاں پھر اگر نہ جانتے ہو انکے باپ کو تو تمہارے بھائی ہیں دین میں اور رفیق ہیں۔)

یعنی ٹھیک انصاف کی بات یہ ہے کہ ہر شخص کی نسبت اس کے باپ کی طرف کی جائے کسی نے لے پالک بنا لیا تو وہ واقعی یعنی حقیقی باپ نہیں بن گیا۔

غرض یہ ہے کہ نسبی تعلقات اور ان کے احکام میں اشتباہ والتباس واقع نہ ہونے پائے۔ابتدائے اسلام میں نبی کریم ﷺ نے زید بن حارثہ کو آزاد کرکے متبنیٰ کرلیا تھا چنانچہ لوگ انہیں زید بن محمد ﷺ کہہ کر پکارنے لگے جب یہ آیت نازل ہوئی سب زید بن حارثہ کہنے لگے۔ (تفسیر عثمانی ج۲/۳۴۱)

شرعا لے پالک وارث نہیں ہوتا خواہ اپنے خاندان کاہو یا غیر خاندان کاہو۔(آپکے مسائل اور انکا حل:۷/۴۲۲)

فقط واللّہ اعلم

Does this apply to your situation?

A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.

Ask Mufti Arbab