Skip to content

   

All masail

Ask Mufti Arbab · Jumah 54

24 January 2025

4 questions answered

بسم اللّه الرحمن الرحيم

(۱) سوال :بچوں کو پورا سلام اس طرح کرنا ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیسا ہے؟ بعض لوگوں کہتے ہیں کہ بچوں کو پورا سلام نہیں کرنا چاہئے؟

جواب:واضح رہے کہ کسی بھی مسلمان کو سلام کرنے کے مسنون (یعنی سنت سے ثابت) صیغے دو ہیں:

(1) السَّلَامُ عَلَیکُم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ (شروع میں الف لام اور میم پر پیش) اور جواب ان الفاظ سے ہو وَعَلَیکُمُ السَّلَام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ اگر سلام میں السَّلَامُ عَلَیکُم اور جواب میں وَعَلَیکُمُ السَّلَام پر اکتفا کیا جائے تب بھی درست ہے۔

(2) سَلَامٌ عَلَیْکُم (شروع میں ا لف لام کا حذف اور میم پر تنوین) ۔

(۲) سوال :اگر ہم نے نفل روزہ رکھا اور وہ کسی وجہ سے ٹوٹ گیا تو کیا اس کی قضاء ہے؟ کیا وہ روزہ ہمیں بعد میں رکھنا پڑے گا؟

جواب:واضح رہے کہ نفل روزہ شروع کرنے سے لازم ہوجاتا ہے،لہذا بغیر کسی عذر کے توڑنا گناہ ہے ، البتہ اگر عذرہو توروزہ توڑنے کی گنجائش ہے۔نيز دونوں صورتوں میں یعنی عذر کی وجہ سے توڑا ہو یا بغیر عذر کے ، بہر صورت اس ایک روزہ کی قضاء لازم ہوگی کفارہ نہیں آئے گا۔

(۳) سوال :بڑے لوگ کہتے ہیں کہ حاملہ عورت کو جمعرات کی رات کہیں جانا پڑے تو دیر رات بارہ بجے کے بعد گھر مت واپس ہو، اسی طرح چوراہا کراس کرنے کو منع کرتے ہیں؟ اس کا کیا حکم ہے؟

جواب:سوال میں مذکور طرزِ عمل محض توہم پرستی اور رسمِ بد کو شامل ہے جس سے مسلمانوں کو بہرحال احتراز لازم ہے، جبکہ حاملہ عورت بھی بوقتِ ضرورت کسی بھی دن اور وقت اپنے محرم کی معیت میں اور شرعی پردہ ملحوظ رکھتے ہوئے باہر نکل سکتی ہے اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔

(۴) سوال :لڑکی کی رخصتی  کے اگلے روز دولہے کے گھر دلہن کے گھر کے چند افراد دلہن کو لینے جاتے ہیں جسی عرف میں چوتھی کہتے ہیں کیا یہ بھی رسم میں شامل اور واجب الترک ہے ؟اس سلسلے میں لڑکی کو گھر لانے کا شرعی طریقہ کیا ہے برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں ۔

جواب:شادی سادی ہونی چاہئے مسجد میں نکاح ہو جائے اور لڑکا ایک دو آدمی کے ساتھ جاکر لڑکی کو رخصت کرا لائے شب عروسی کے بعد اگلے دن ولیمہ کر دیا جائے جوکہ سنت ہے جس میں لڑکے کے دوست احباب اور اعزا کو حسب حیثیت و گنجائش مدعو کرلیا جائے۔

باقی وہ بیجا قسم کی پابندیاں اور رسوم جو شادی سے آگے پیچھے لڑکے سے متعلق لڑکی سے متعلق کہیں بارات و منگی سے جوڑ کر کہیں رخصتی چوتھی وغیرہ سے جوڑ کر شادی کا جز بنادی گئی ہیں اس میں بہت ساری رسمیں تو ہندووٴں کے یہاں سے منتقل ہوئی ہیں جیسے سہرا مکنا ، منڈھا ، بارات وغیرہ اور بہت ساری رسموں میں منکرات اور گناہ کے کام پائے جاتے ہیں جیسے منہ دکھائی ، جوتا چرائی وغیرہ کی رسمیں کہ نامحرم لڑکے لڑکیوں کا بالمشافہہ آمنے سامنے ہوکر ہنسی مذاق کرنا وغیرہ اور بہت سی رسمیں ریا نمود تفاخر پر مبنی ہوتی ہیں جو کہ نا جائز اور حرام ہیں اور ان کے علاوہ بیشمار رسمیں اسراف و فضول خرچی کو متضمن ہوتی ہیں یہ سب رسوم قبیحہ ہیں۔

فقط واللّہ اعلم

Does this apply to your situation?

A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.

Ask Mufti Arbab