(۳) سوال:جس ملک میں رہو اس ملک سے محبت کرو۔ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔ یومِ آزادی کے موقع پر لوگ ان جملوں کو احادیث بتا کر شیئر کرتے ہیں ۔ کیا یہ واقعی احادیث ہیں ۔ اگر ہیں تو احادیث کا نمبر بتا دیجئے۔
جواب:حب الوطن من الإیمان”یعنی وطن سے محبت ایمان کا جز ہے، اس قسم کی بات عوام الناس میں حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طور پر مشہور ہے، جب کہ مذکورہ الفاظ کی نسبت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا درست نہیں ، اس لیے کہ محدثین نے اس روایت کو موضوع یعنی من گھڑت قرار دیا ہے،جیساکہ“موضوعات الصغانی”میں ہے
حبُّ الوطنِ منَ الإیمانِ. (موضوعات الصغانی.الصفحۃ أو الرقم: 53)
موضوع المقاصد الحسنۃ میں ہے: حبِّ الوطنِ منَ الإیمانِ۔ (المقاصد الحسنۃ للسخاوی، الصفحۃ أو الرقم: 218) قال السخاوی: لم أقف علیہ.
الدرر المنتثرۃ میں ہے: حبُّ الوطنِ من الإیمانِ. (الدرر المنتثرۃ للسیوطی، الصفحۃ أو الرقم: 65) قال السیوطی: لم أقف علیہ
الأسرار المرفوعۃ میں ہے: حبُّ الوطنِ مِنَ الإیمانِ. (الأسرار المرفوعۃ لملا علی القاری، الصفحۃ أو الرقم: 189)
قال علی القاری: قیل: لا أصل لہ أو بأصلہ موضوع
البتہ محدثین میں سے علامہ سخاوی رحمہ اللہ مذکورہ روایت کے معنی کو صحیح قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ روایت اگرچہ صحیح نہیں ، لیکن اس کا معنی درست ہے
جب کہ دیگر محدثین نے علامہ سخاوی رحمہ اللہ کے اس قول کو قبول نہیں کیا اور ایمان اور وطن کی محبت کے تلازم کا انکار کیا ہے، اور ایمان کے جز ہونے کا انکار کیا ہے۔
پس مذکورہ بالا تفصیل سے ثابت ہوتا ہے کہ وطن کی محبت کو ایمان کا جز قرار دینا اور اس کی نسبت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا صحیح نہیں ، البتہ بعض دیگر کچھ روایات سے وطن کی محبت کا ممدوح ہونا معلوم ہوتا ہے، تاہم ان روایات میں سے کسی سے بھی محبتِ وطن کا ایمان کا جز ہونا ثابت نہیں ہوتا۔
ہجرت کے موقعے پر مکہ کو مخاطب کرکے آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اے مکہ! تو کتنا پاکیزہ اور میرا محبوب شہر ہے، اگر میری قوم مجھے نہ نکالتی میں کہیں اور نہ رہتا۔
ہجرت کے بعد آپ علیہ السلام نے مدینہ منورہ کے لیے دعا فرمائی کہ اے اللہ! مدینہ کی محبت ہمارے دل میں مکہ کی محبت سے زیادہ فرمادے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت نقل کی ہے کہ آپ علیہ السلام جب سفر سے واپسی پر مدینہ تشریف لاتے تو مدینہ کے راستے یا مکانات نظر آتے ہی آپ علیہ السلام اپنی سواری کو مدینہ کی محبت میں تیز کردیتے۔
حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ اس سے مدینہ کی فضیلت کے ساتھ ساتھ وطن کی محبت کے جواز اور اس کی طرف شوق کا بھی پتا چلتا ہے۔فقط واللہ اعلم


