بسم اللّه الرحمن الرحيم
(۱) سوال:لڑكی اور لڑكا ایك جگہ رہ رہے تھے اور زنا كی وجہ سے حمل ٹھہر گیا ہے كیا اس لڑكی اور لڑكے كا نكاح آپس میں ہوسكتا ہے؟ اور اگر كسی نے انجانے میں پڑھا دیا تو كیا حكم ہے؟
جواب:یہ اچھا ہوا دونوں کا آپس میں نکاح ہوگیا، یہ دونوں نکاح کے بعد لڑکی کے حاملہ ہونے کے باوجود بھی آپس میں ہمبستری کرسکتے ہیں، کسی جانور کے ساتھ اپنی خواہش پوری کرنے کی لڑکے کو ضرورت نہیں یہ تو حرام کام ہے، نکاح ہوجانے کے بعد دونوں آپس میں مل سکتے ہیں، البتہ وہ حمل جو کہ زنا کا ہے لہٰذا جو بچہ (نکاح کے بعد ۶ماہ سے پہلے(ن))پیدا ہوگا وہ ناجائز بچہ کہلائے گا، اس کے بعد جو بچہ پیدا ہوگا وہ جائز ہوگا، زنا کا نہ ہوگا۔
’’بس‘‘ کے بارے میں ذرا تفصیل ہے کہ اگر شہر سے باہر لمبا سفر ہو اور بس ڈرائیور کہنے کے باوجود بس نہ روکے اور نماز کا وقت نکل رہا ہو، تو دیکھا جائے گا کہ اگر بس کے اندر قبلہ رُخ ہوکر قیام، رکوع اور سجدے کے ساتھ نماز ادا کی جاسکتی ہے تو اس طرح نماز ادا کرے۔ چنانچہ اگر بس قبلہ رخ چل رہی ہو یا مخالف سمت جارہی ہو اور سیٹوں کے درمیان فاصلہ ہو تو قیام، رکوع اور سجود کے ساتھ نماز ادا کی جاسکتی ہے، اس صورت میں اگرقیام(کھڑے ہونے) کے لیے سہارا لینا پڑے تو اس کی اجازت ہوگی، اگرپورے قیام کے دوران سہارا لینا پڑے اور ہاتھ نہ باندھ سکے تب بھی قیام نہ چھوڑے، سہارا لے کرقیام، رکوع اورسجدے کے ساتھ نماز ادا کرے۔ اگر بس کے زیادہ حرکت کرنے یاچکرآنے کی وجہ سے قیام نہ کرسکے تواسی راہ داری میں بیٹھ کربس کے فرش(زمین) پرسجدہ کرتے ہوئے نماز اداکرے۔
سوال:ظہر کی سنت موکدہ اگر ظہر سے پہلے نہ پڑھی ہو تو نماز کے بعد پڑھی جائینگی یا نہیں؟
جواب:اگر کسی شخص کی ظہر کی چار رکعت سنتِ مؤکدہ رہ گئی ہوں اور وہ امام کے ساتھ فرض نماز میں شامل ہو گیا ہو تو ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ فرض نماز سے فارغ ہو کر پہلے دو رکعت سنتِ مؤکدہ ادا کرے، اس کے بعد چھوٹی ہوئی چار رکعت سنت ادا کرے۔
سوال:میرے والد صاحب کے انتقال کے وقت گھر میں میت پر کزن آ جا رہے تھے میں نے ابو کی میت کے پاس بیٹھ کر حجاب کیا ہوا تھا،میری بھابھیاں طعنے دیتی ہیں کہ اس نے حجاب کیوں کیا تھا،راہنمائی فرمائیں کہ ایسے حالات میں جہاں ابو کی میت پر غیر محرم بھی چکر لگا رہے تھے حجاب کرنا ضروری تھا یا غیر ضروری؟
جواب:سائلہ کا اپنے والد کے انتقال کے موقع پر غیر محرم لوگوں کے آنے جانے کی وجہ سے چہرہ کا پردہ کرناصحیح اور ضروری تھا،سائلہ کی بھابھیوں کا اس عمل پر طعنہ دینا غلط اورقابل مؤاخذہ عمل ہے،جس پر ان کو توبہ و استغفار کرنا چاہیے۔
سوال:کیا اللہ کے علاوہ کسی اپنی محبوب چیز کی قسم کھائی جا سکتی ہے؟ اگر کھائی جا سکتی ہے تو کس حدیث سے ثابت ہے؟
جواب:بلاضرورت قسم کھانا پسندیدہ عمل نہیں ہے، اگر کوئی ضرورت یا مجبوری ہو، تو صرف اللہ تبارک وتعالیٰ کے نام کی ہی قسم اٹھانا جائز ہے، اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی بھی چیز کی قسم کھانا جائز نہیں ہے، اگرچہ وہ کتنی ہی محبوب چیز ہی کیوں نہ ہو، احادیثِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کی قسم اٹھانے سے منع کیا گیا ہے، اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کی قسم اٹھا لے تو وہ قسم درست ہی نہیں ہوتی اور ایسی قسم توڑنے کی صورت میں کوئی کفارہ بھی لازم نہیں ہوتا، تاہم اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی چیز کی قسم کھانے پر توبہ و استغفار کرنا چاہیے۔
فقط واللّہ اعلم
Does this apply to your situation?
A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.
Ask Mufti Arbab
