Skip to content

   

All masail

Ask Mufti Arbab · Jumah 22

Jumuah Session 22

4 questions answered

بسم اللّه الرحمن الرحيم

(۱) سوال:اگر ایک آدمی غریب ہے، کوئی اس کو حج ادا کرنے کے لئے بھیجے، بعد میں وہ شخص مالدار ہوجائے، تو کیا دوبارہ اس پر حج کا فریضہ ادا کرنا لازم ہوگا؟

جواب:صورت مسئولہ میں غریب کو حج کی ادائیگی کے لئے بھیجا گیا اور اس نے نفلی حج کی نیت نہیں کی تو اس کا حج ادا ہوگیا، اب اس کے بعد اس پر مالدار ہونے کی بناء پر دوبارہ حج لازم نہیں ہوگا۔ واللہ اعلم

سوال:پہلے میرے پاس اتنے روپئے تھے کہ حج ادا کرنا فرض ہوجاتا؛ لیکن لاعلمی کی بنا پر میں حج نہیں کرسکی، اب حالات ایسے ہیں کہ میرے پاس اتنے روپئے نہیں ہے لیکن میرے شوہر مجھے حج پر جانے کے لئے روپئے دے رہے ہیں تو کیا ان کے روپیوں سے حج کرنے سے حج ادا ہو جائے گا؟

جواب:صورت مسئولہ میں اگر آپ کے شوہر آپ کو حج ادا کرنے کی رقم دے رہے ہیں تو آپ اس رقم سے حج ادا کرسکتی ہیں، حج فرض ادا ہو جائے گا۔ شرعاً ایسے شخص کے لیے حکم یہ ہے کہ استطاعت کا انتظا رکرے، اگر موت تک اسے استطاعت حاصل ہوجائے تو حج کرلے، ورنہ موت کے وقت حجِ بدل کی وصیت کرجائے، پھر تہائی ترکہ سے جہاں سے حجِ بدل ہوسکتا ہو، وہاں سے اس کی جانب سے حجِ بدل کرادیا جائے۔ اگر اس کے لیے قرض لینا اور اس کی ادائیگی ممکن ہو تو قرض لے کر اپنا فرض ادا کرسکتا ہے۔ واللہ اعلم

سوال:مال میں نفع کس حد تک جائز ہے، کیا ایک روپئے کی چیز سو روپئے کی بیچ سکتے ہیں؟

جواب:شریعتِ مطہرہ نے منافع کی کوئی حد مقرر نہیں کی ہے بلکہ اس کو بازار کے اتار چڑھاؤ پر چھوڑدیا؛البتہ جھوٹ دھوکہ دہی سے بچنے کی ترغیب دی ہے؛لہذا عاقدین اگر جھوٹ ودھوکہ دہی سے بچتے ہوئے باہمی رضامندی سے کسی بھی قیمت پر معاملہ کرلیں تو اس کی گنجائش ہوگی خواہ اس میں کتنا ہی نفع ہو؛البتہ اس قدر نفع لینے کو فقہاء نے نامناسب اور خلافِ مروت کہا ہے جو غبنِ فاحش کے دائرے میں آتا ہو اور غبن فاحش یہ ہے کہ بازار میں جو زائد سے زائد قیمت چل رہی ہو اس سے زائد نفع لیا جائے، اسی کو فقہاء نے ’’مالایدخل تحت تقویم المقومین‘‘ سے تعبیر کیا ہے،یعنی ایک چیز کی قیمت کا اندازہ کئی ماہر لوگ لگائیں اور کسی کا تخمینہ اس حد تک نہ پہنچے۔

سوال:کیا سود سے حاصل شدہ رقم انکم ٹیکس اور جی ایس ٹی میں دیے سکتے ہیں؟

جواب:جی ہاں! اگر سود سرکاری بینک یا حکومتی ادارسے سے حاصل ہوا ہو تو سود کی رقم کو جی، ایس، ٹی GSTاور انکم ٹیکس میں دینے کی گنجائش ہے۔

فقط واللّہ اعلم

Does this apply to your situation?

A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.

Ask Mufti Arbab