(۱) سوال:اگر وقت سے پہلے اذان دے دی گئی تو کیا اذان کا اعادہ ضروری نہیں ہے؟
جواب:اگر وقت سے پہلے اذان دے دی گئی تو وقت کے بعد اس کا اعادہ کرنا ہوگا۔

16 masail · The adhan, the imam, and the rights of the masjid itself.
مسجد و امامت
(۱) سوال:اگر وقت سے پہلے اذان دے دی گئی تو کیا اذان کا اعادہ ضروری نہیں ہے؟
جواب:اگر وقت سے پہلے اذان دے دی گئی تو وقت کے بعد اس کا اعادہ کرنا ہوگا۔
(۲) سوال:کبھی وقت کی قلت کی وجہ سے بلا وضو اذان اور کبھی اقامت کہہ دیتے ہیں تو کیا یہ فعل صحیح ہے؟
جواب:اذان با وضود ینا مستحب ہے لیکن اگر بغیر وضو کے اذان دے دی تو گنجائش ہے، اور بلا وضو اقامت کہنا بہر حال مکروہ ہے۔
(۲) سوال:میری مسئلہ یہ ہے کہ اگر اذان نہ دے تو کیا نماز پڑھ سکتے ہیں؟ آپ وضاحت فرمادیں۔
جواب:نماز تو ہو جائے گی لیکن اذان دینا چاہیے سنت ہے۔
(۳) سوال:ہماری مسجد میں ایک صف میں پچپن سے ساٹھ آدمی آتے ہیں اندر کے حصہ میں چھ صفیں ہیں باہر کے حصہ میں چار صفیں ہیں۔ برائے کرم واضح کریں کہ اتنی بڑی مسجد میں نمازی کے آگے سے گزرنے کا شرعی مسئلہ کیا ہے؟
جواب:مسجد کی لمبائی ناپ لیں ، اگر لمبائی چالیس گز ( شرعی ) ہے تو وہ مسجد کبیر ہے، اس میں دو تین صف چھوڑ کر نمازی کے آگے سے گزر سکتے ہیں ورنہ نہیں۔
(۱) سوال :مفتی صاحب معلوم یہ کرنا ہے ہماری مسجد میں ایک فریز لگا ہوا ہے جس کی کچھ رقم حرام ذرائع سے آئی ہے مثلا اس میں ۹/ ہزار روپے کی رقم حرام ذرائع سے کمائے تھی کچھ لوگوں نے اور وہ اس میں شامل کر دی اور ۳۲/ ہزار کا فرج تھا بقیہ رقم حلال تھی تو اس کا کیا حکم ہوگا؟
جواب:واضح رہے کہ مسجد اللہ کا گھر ہے، اللہ تعالیٰ اپنے گھر کے لئے پاک اور حلال مال پسند فرماتے ہیں۔ لہٰذا اگر فریج میں حرام مال شامل ہے تو اس کا استعمال درست نہیں ہے جب تک کہ 9,000 روپے حلال مال سے نکال کر صدقہ نہ کیے جائیں (ثواب کی نیت کے بغیر)۔ جب وہ رقم صدقہ کر دی جائے گی تو فریج کا استعمال جائز ہو جائے گا، ان شاء اللہ۔
(۳) سوال:مسجدکی چندہ کی رقم ذمہ داران مسجد اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں کیا؟
جواب:مسجد کا فنڈ (پیسے) کمیٹی یا متولی و خزانچی کے پاس امانت ہوتا ہے، اس لیے مسجد کا متولی مسجد کی رقم صرف مسجد کے اخراجات اور مصالح میں لگانے کا پابند ہے، مسجد کا مال کسی کو ذاتی مصرف میں استعمال کرنے یا قرض لینے یا کمیٹی کے افراد کے لیے خود لینے کی اجازت نہیں ہے۔
(۱) سوال:مسجد کے اندر فون پر بات کرنا کیسا ہے؟
جواب:واضح رہے کہ مسجد اللہ کا گھر ہے، عبادت کی جگہ ہے، اس کا احترام کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر مسجد میں کوئی ضروری فون آجائے تو فون پر بات کرناجائز ہے، لیکن بقدرِ ضرورت بات بالکل آہستہ آواز سے کی جائے تاکہ عبادت میں مشغول لوگوں کو تکلیف نہ ہو اور بہتر یہ ہے کہ مسجد میں دنیاوی گفتگو نہ کی جائے۔
(۲) سوال:مسجد کے اندر آپس میں بات چیت کرنا کیسا ہے؟ احادیث سے حوالہ دے دیں۔
جواب:جہاں تک مسجد میں دنیاوی معاملات پہ بات چیت یا بحث و مباحثہ کی بات ہے، تو مسجد ایک پاکیزہ و مقدس مقام ہے، اور مسجد عبادت کے لیے بنائی جاتی ہے، مسجد میں دنیاوی باتیں کرنا یا فضول قسم کے بحث و مباحثے کرنا اس کی حرمت و تقدس کے منافی ہے، اس لیے یہ جائز نہیں، تاہم اگر کوئی مسجد میں نماز وغیرہ عبادت کے لیے آئے اور پھر کسی سے مباح گفتگو کی ضرورت پیش آجائے تو ایسے طریقے پر بات کرلینے میں حرج نہیں کہ جس سے دوسروں کی عبادت میں خلل نہ ہو، لیکن بالقصد دنیاوی گفتگو کے لیے مسجد میں بیٹھنا جائز نہیں، اور فحش اور منکر بات تو مسجد میں کسی حال میں جائز نہیں۔
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَأْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یَکُوْنُ حَدِیْثُہُمْ فِیْ مَسَاجِدِہِمْ فِیْ أَمْرِ دُنْیَاہُمْ، فَلاَ تُجَالِسُوْہُمْ، فَلَیْسَ لِلّٰہِ فِیْہِمْ حَاجَۃٌ۔ (شعب الایمان)
لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ مساجد میں دنیا کی باتیں کریں گے، تم ان کے ساتھ مت بیٹھنا اللہ تعالی کو ان کی کچھ پرواہ نہیں۔
(۵) سوال:مفتی صاحب مسجد میں نماز کا وقت بدلنے کا حق کس کا ہے، کیا مقتدیوں کی اجازت لینا ضروری ہے؟
جواب:امام کو مکمل طور پر اختیار ہے مقتدیوں سے اجازت لینا ضروری نہیں ہے مگر مقتدیوں کا بھی خیال رکھیں۔
(۵) سوال:ایک صاحب نے مسجد میں اذان دی اور دوسری مسجد چلے گئے تو دوسری مسجد میں بھی اذان نہیں ہوئی تھی یعنی کوئی بھی نہیں تھا، تو کیا اب وہ صاحب دوسری مسجد میں بھی اذان دے سکتے ہیں؟ کوئی حرج تو نہیں؟
جواب:بوقت ضرورت دوسری مسجد میں بھی اذان دے سکتے ہیں بہتر یہ ہے کہ جس مسجد میں اذان دی ہو تو اسی میں نماز ادا کریں بلا ضرورت ایسا کرنا مکروہ ہے۔
(۱) سوال:مسجد میں اذان سے پہلے کوئی شخص بیٹھا ہو اور اذان ہوجائے تو اس پر ضروری ہے کہ وہ نماز ادا کرکے جائے یا اس کے لئے اجازت ہے کہ نماز کسی اور مسجد میں جاکر پڑھ سکے؟
جواب:اگر کسی مسجد میں اذان ہو جائے یا نماز کا وقت داخل ہو جائے اور کوئی شخص مسجد سے نکلتا ہے تو فقہاء نے اس کو مکروہِ لکھا ہے، البتہ اس حکم سے چند صورتیں الگ ہیں، وہ یہ ہیں:
(۱) اذان کے بعد مسجد سے نکلنے والا کسی دوسری مسجدکا امام یامؤذن ہے۔
(۲) وہ محلہ کی مسجد کا مؤذن یا امام نہ ہو، لیکن اپنے محلہ کی مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے جارہا ہے اور وہاں اب تک نماز بھی نہ ہوئی ہو۔
(۳) اپنے استاذ کی مسجد میں نمازاداکرنے اورشریکِ درس ہونے یا وعظ سننے کے لیے جارہاہو۔
(۴) اپنی کسی ضرورت سے نکلے، لیکن واپس آنے کا ارادہ بھی ہو۔
(۵) وقتی فرض نماز ادا کرچکا ہو تو اقامت شروع ہونے سے پہلے نکل سکتا ہے۔ ان صورتوں میں نکلنا مکروہِ تحریمی نہیں ہو گا۔
(۳) سوال:جی ایک مسئلہ ہے ایک گاؤں میں 130گھر ہیں۔ اور دو چار آدمی نے ملکر باہر کے فنڈ سے مسجد بنوا دی، جبکہ اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم اپنی رقم سے مسجد بنوائیں گے، تو اکثر لوگوں کا اس مسجد میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟
جواب:واضح رہے کہ اپنے فنڈ سے یا باہر لوگوں کے فنڈ سے مسجد بنائی گئی ہو اس میں سارے لوگ نماز پڑھ سکتے ہیں۔ بشرطیکہ وہ صحیح فنڈ ہو یعنی مالِ حرام وغیرہ اس مسجد میں نہ لگایا گیا ہو۔
سوال:کیا بغیر وضوء کے اذان ہو جائے گی ؟
جواب:بغیر وضوء اذان درست ہو جائے گی ، البتہ خلاف سنت ومستحب ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص عادت ہی بنائے کہ ہمیشہ بے وضوء ہی اذان دیتا ر ہے تو یہ کراہت سے خالی نہیں ہوگا۔
(۱) سوال:اگر کسی نمازی کے دل میں مسجد کے امام صاحب کے لیے کینہ ہے یا امام صاحب کی برائی کرتا ہے تو کیا اس نمازی کی نماز اس امام صاحب کے پیچھے ہو جائے گی یا نہیں ؟
جواب:نماز تو ہو جاتی ہے لیکن بغیر کسی وجہ شرعی کے ایک دوسرے کی برائی کرنا کینہ رکھنا جائز نہیں بلكہ بیٹھ کر معاملات کو سلجھا کر حسن معاشرت سے گزر بسر کرنا چاہئے عفو درگز ر اور حسن اخلاق سے پیش آنا چاہئے۔
امام سے اگر بغض اور ناراضی کسی دینی وجہ سے ہو، یعنی امام فاسق فاجر یا لا پرواہ ہو، یا اس کا عقیدہ درست نہ ہو، یا وہ سنتوں کی رعایت نہ کرتا ہو اور مقتدی اس وجہ سے اس سے ناراض ہیں تو ایسی ناراضی کا اعتبار ہے اور ایسے امام کی امامت مکروہ ہو گی ، اور اگر ناراضی دنیاوی دشمنی یا مخالفت کی وجہ سے ہو یا اس میں نفس کو دخل ہو تو ایسی ناراضی کا اعتبار نہیں ہے اور اس امام کی امامت با لکل درست ہے، بلکہ اس صورت میں مقتدی امام سے بغیر کسی شرعی وجہ کے ناراض ہونے کی وجہ سے ملامت کے مستحق ہیں، تاہم بہر صورت ناراض ہونے کے باجود اس امام کے پیچھے نمازیں ادا کرنا درست ہے اور ان نمازوں کا اعادہ بھی لازم نہیں ہوگا۔ امام پر بلاوجہ طعن و تشنیع کرنا یا اس کو تنگ کرنا کسی طرح درست نہیں ہے۔
(۱) سوال:کیا مسجد کے لیے غیر مسلم کا پیسہ استعمال کرنا جائز ہے؟اور استعمال کرسکتے ہیں تو کن چیزوں میں استعمال کرسکتے ہیں؟
جواب:غیر مسلم اگر نیک کام سمجھ کر مسجد کو رقم دے اور اس سے رقم لینے میں کسی قسم کا ندیشہ بھی نہ تو اس کا پیسہ مسجد کے لیے استعمال کرنے کی گنجائش ہوگی، اور مسجد کے کسی بھی کام میں اس کی رقم لگانے کی اجازت ہوگی۔
سوال:خواتین کا مسجد میں جانا کیسا ہے؟
جواب:خواتین اگر حیض ونفاس کی حالت میں ہوں تو مسجد میں داخل ہونا ممنوع ہے جس طرح مرد اگر جنبی ہو تو اس کو بھی داخل ہونا حرام ہے اور مسجد کی زیارت کرنے کی غرض سے داخل ہونا شرعی اعتبار سے بلا ضرورت ہے ان کے لیے مسجد کی فی نفسہ زیارت کرنا نہ فرض ہے نہ واجب ہے نہ سنت ہے نہ مستحب ہے، اور آج کل بہت سے مقامات پر مسجد میں خواتین کے داخل ہونے او رزیارت کرنے میں بہت سے مفاسد بھی پیدا ہوگئے ہیں اس لئے مسجد میں عورتوں كا داخلہ ممنوع ہے۔ بہرحال اگر مسجد كے آداب كی رعایت ملحوظ خاطر ہو تو جانے میں كوئی حرج نہیں ہے۔
A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.
Ask Mufti Arbab