Skip to content

   

All masail

Ask Mufti Arbab · Jumah 14

Jumuah Session 14

3 questions answered

بسم اللّه الرحمن الرحيم

(۱) سوال:اگر کسی نمازی کے دل میں مسجد کے امام صاحب کے لیے کینہ ہے یا امام صاحب کی برائی کرتا ہے تو کیا اس نمازی کی نماز اس امام صاحب کے پیچھے ہو جائے گی یا نہیں ؟

جواب:نماز تو ہو جاتی ہے لیکن بغیر کسی وجہ شرعی کے ایک دوسرے کی برائی کرنا کینہ رکھنا جائز نہیں بلكہ بیٹھ کر معاملات کو سلجھا کر حسن معاشرت سے گزر بسر کرنا چاہئے عفو درگز ر اور حسن اخلاق سے پیش آنا چاہئے۔

امام سے اگر بغض اور ناراضی کسی دینی وجہ سے ہو، یعنی امام فاسق فاجر یا لا پرواہ ہو، یا اس کا عقیدہ درست نہ ہو، یا وہ سنتوں کی رعایت نہ کرتا ہو اور مقتدی اس وجہ سے اس سے ناراض ہیں تو ایسی ناراضی کا اعتبار ہے اور ایسے امام کی امامت مکروہ ہو گی ، اور اگر ناراضی دنیاوی دشمنی یا مخالفت کی وجہ سے ہو یا اس میں نفس کو دخل ہو تو ایسی ناراضی کا اعتبار نہیں ہے اور اس امام کی امامت با لکل درست ہے، بلکہ اس صورت میں مقتدی امام سے بغیر کسی شرعی وجہ کے ناراض ہونے کی وجہ سے ملامت کے مستحق ہیں، تاہم بہر صورت ناراض ہونے کے باجود اس امام کے پیچھے نمازیں ادا کرنا درست ہے اور ان نمازوں کا اعادہ بھی لازم نہیں ہوگا۔ امام پر بلاوجہ طعن و تشنیع کرنا یا اس کو تنگ کرنا کسی طرح درست نہیں ہے۔

سوال:اگر نماز کی حالت میں سامنے رکھی ہوئی کتاب یا کاپی پربنی ہوئی تصویر پر نظر پڑ جائے تو کیا نماز ٹوٹ جائے گی ؟

جوابواضح رہے کہ کسی جاندار کی تصویر کی سامنے نماز پڑھنا مکروہ ہے، خواہ اس کی طرف توجہ جاتی ہو یا نہیں، دونوں صورتوں میں مکروہ ہے۔ لہذ ا صورت مسئولہ نماز کی حالت میں سامنے رکھی ہوئی کتاب یا کاپی پر بنی ہوئی تصویر پر نماز کے دوران نظر پڑ جانیکی صورت میں نماز کراہت تحریمی کے ساتھ ادا ہوئی ہے، لہذا وقت کے اندر اس نماز کا اعادہ واجب ہوگا، تاہم اگر وہ تصویر اتنی چھوٹی ہو کہ اس کو دیکھنے سے اس کی ساخت واضح نہ ہو، یا پھر وہ تصویر بڑی ہو لیکن اس کا سریا چہرہ مٹا دیا گیا ہو، یا اس تصویر کو کپڑے وغیرہ سے چھپا دیا گیا ہو تو ان تمام صورتوں میں ایسی تصویر کی موجودگی میں نماز بلا کراہت درست ہو جاتی ہے، اور نماز کا اعادہ لازم نہیں ہوتا۔

سوال:اگر نماز میں کسی غلطی کے سبب سجدہ سہو لازم ہو اور آخر میں سجدہ سہو کرنا بھی بھول جائے تو کیا نماز درست ہوگی ؟

جواب:اگر نماز میں سجدہ سہولازم ہو جائے ( مثلا کوئی واجب رہ جائے یا کسی واجب یا فرض میں تاخیر ہو جائے یا تقدیم و تاخیر ہو جائے) اور وہ سجدہ کرنا بھول جائے اور سلام پھیر لے تو اگر اس نے سلام کے بعد کسی سے بات نہیں کی اور سینہ قبلہ سے نہیں پھیرایا کچھ کھایا پیا نہیں تو یاد آتے ہی دو سجدہ کرے پھر بیٹھ کر التحیات، درود شریف اور دعا پڑھ کر سلام پھیر دے تو اس کی نماز ہو جائے گی۔ اور اگر اس نے کسی سے بات چیت کر لی یا قبلہ سے سینہ پھیر دیایا کھا پی لیا تو اب یہ نماز نقصان کے ساتھ ادا ہوئی ہے، اس کا وقت کے اندر اندر اعادہ کرنا واجب ہے، اور وقت کے بعد اعادہ واجب نہیں ہے، البتہ اعادہ کر لینا بہتر ہے۔

فقط واللّہ اعلم

Does this apply to your situation?

A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.

Ask Mufti Arbab