Skip to content

   

All masail

Ask Mufti Arbab · Jumah 50

27 December 2024

4 questions answered

بسم اللّه الرحمن الرحيم

(۱)  سوال:مسجد کے اندر فون پر بات کرنا کیسا ہے؟

جواب:واضح رہے کہ مسجد اللہ کا گھر ہے، عبادت کی جگہ ہے، اس کا احترام کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر مسجد میں کوئی ضروری فون آجائے تو فون پر بات کرناجائز ہے، لیکن بقدرِ ضرورت بات بالکل آہستہ آواز سے کی جائے تاکہ عبادت میں مشغول لوگوں کو تکلیف نہ ہو اور بہتر یہ ہے کہ مسجد میں دنیاوی گفتگو نہ کی جائے۔

(۲) سوال:مسجد کے اندر آپس میں بات چیت کرنا کیسا ہے؟ احادیث سے حوالہ دے دیں۔

جواب:جہاں تک مسجد میں دنیاوی معاملات پہ بات چیت یا بحث و مباحثہ کی بات ہے، تو مسجد ایک پاکیزہ و مقدس مقام ہے، اور مسجد عبادت کے لیے بنائی جاتی ہے، مسجد میں دنیاوی باتیں کرنا یا فضول قسم کے بحث و مباحثے کرنا اس کی حرمت و تقدس کے منافی ہے، اس لیے یہ جائز نہیں، تاہم اگر کوئی مسجد میں نماز وغیرہ عبادت کے لیے آئے اور پھر کسی سے مباح گفتگو کی ضرورت پیش آجائے تو ایسے طریقے پر بات کرلینے میں حرج نہیں کہ جس سے دوسروں کی عبادت میں خلل نہ ہو، لیکن بالقصد دنیاوی گفتگو کے لیے مسجد میں بیٹھنا جائز نہیں، اور فحش اور منکر بات تو مسجد میں کسی حال میں جائز نہیں۔

قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَأْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یَکُوْنُ حَدِیْثُہُمْ فِیْ مَسَاجِدِہِمْ فِیْ أَمْرِ دُنْیَاہُمْ، فَلاَ تُجَالِسُوْہُمْ، فَلَیْسَ لِلّٰہِ فِیْہِمْ حَاجَۃٌ۔ (شعب الایمان)

لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ مساجد میں دنیا کی باتیں کریں گے، تم ان کے ساتھ مت بیٹھنا اللہ تعالی کو ان کی کچھ پرواہ نہیں۔

(۳) سوال:کسی کی وجہ سے جماعت میں تاخیر کرنا کیسا ہے؟

جواب:نماز اپنے مقررہ وقت پر ہونی چاہئے، کسی خاص انسان کے انتظار میں نماز کو مؤخر کرنا مکروہ ہے جو لوگوں کی گرانی کا باعث ہو۔ لیکن اگر وہ شریر اور فتنہ پرور ہو تو دفع فتنہ کے واسطے انتظار کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، بشرطیکہ وقت میں گنجائش ہو، نیز اگر وقت میں تنگی نہ ہو اور قوم پر گراں نہ گزرے، تو انتظار جائز ہے۔ لیکن انتظار کو عادت بنالینا یہ صحیح نہیں ہے۔

(۴) سوال:جمعہ کے خطبہ کے دوران اگر کوئی سو جائے تو کیا حکم ہے؟

جواب:جب خطبہ شروع ہوجائے تو تمام حاضرین کا خطبہ کو سننا واجب ہے، خواہ امام کے نزدیک بیٹھے ہوں یا دورہوں، اگر دور ہونے کی وجہ سے آواز نہ آرہی ہو تب بھی خاموش بیٹھنا ضروری ہے اوراس دوران کوئی بھی ایسا کام کرنا جو خطبہ سننے میں مخل ہو مکروہِ تحریمی ہے۔ جہاں تک سونے والے کی بات ہے تو اگر کوشش کے باوجود بھی اپنی نیند پر قابو نہیں کر پا رہا ہے تو اللہ تعالی اس کو اس کی نیت کے حساب سے بدلہ دے گا۔ نیت خطبہ سننے کی تھی اور کوشش کے باوجود نہیں سن سکا۔ ان شاء اللہ

فقط واللّہ اعلم

Does this apply to your situation?

A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.

Ask Mufti Arbab