Skip to content

   

All masail

Ask Mufti Arbab · Jumah 51

3 January 2025

5 questions answered

بسم اللّه الرحمن الرحيم

(۱) سوال :طلوع آفتاب کے بعد نوافل یا قضاء نماز ادا کر سکتے ہیں؟

جواب:صورتِ مسئولہ میں طلوع آفتاب کے بعد یعنی آفتاب کا ذرا سا کنارہ بھی نکل آ ئے تو فجر کا وقت ختم ہوجاتا ہے اور یہ وقت مکروہ ہوتا ہے جس میں کسی بھی طرح کی نماز (یعنی نفل اور قضاء نماز) پڑھنا مکروہ ہے،اور جب سورج طلوع ہوجائے اور اس کی زردی زائل ہوجائے۔ یعنی سورج کم از کم ایک نیزہ کی مقدار بلند ہوجائے، جس کااندازہ دس منٹ سے لگایاجاسکتا ہے، اور اتنی روشنی اس میں آجائے کہ نظر ٹھہر نہ سکے،تو مکروہ وقت ختم ہوجاتا ہے،اور پھرنفل نماز پڑھنا یا قضاء نماز پڑھنا جائز ہو جاتا ہے۔

(۲) سوال :میرے کارخانے میں لوگ کام کرنے کے لئے آتے ہیں اور میں انہیں فی گھنٹے کے حساب سے پیسے دیتا ہوں اور نماز کے اوقات میں انہیں نماز کے لئے بھیجتا ہوں تو کیا میں نماز کے اوقات کا پیسہ کاٹ سکتا ہوں؟

جواب:نماز کو اس کے وقت سے قضاء کردینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے، اور اگر آپ اپنے ملازمین کو نماز ادا کرنے کا ٹائم دے کر روپئے کاٹ لیں تو ٹائم دینا کہاں ہوا؟ یا تو آپ ان کو کام کے لئے بات کرتے وقت ہی بتادیں کہ میں نماز کے اوقات کے پیسے کاٹ لوں گا، تو آپ کاٹ سکتے ہیں۔ اب ان کی مرضی ہوگی تو کام کریں گے ورنہ نہیں۔ لیکن کمائی کے ساتھ ساتھ آدمی کو دین کے فکر کی بھی ضرورت ہے، ہمیشہ لالچ میں دین کا نقصان کرنا کسی طرح عقلمندی کی بات نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کے لیے انسان کو پیدا کیا ہے انسان کو اس کا ہروقت استحضار رکھنا چاہیے۔

(۳) سوال :دودھ پھاڑ کر جو پنیر بنایا جاتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟

جواب:صورت مسئولہ میں ددودھ پھاڑ کر اس سے پنیر وغیرہ بنانا یا اس طور پر استعمال کرنا جو مضرِ صحت نہ ہو، جائز ہے۔

(۴) سوال :جھوٹی قسم کھانے کا کفارہ کیا ہے؟

جواب:واضح رہے کہ جھوٹی قسم کھانا گناہِ کبیرہ ہے،احادیث مبارکہ میں اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں، ایک حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمایاکہ جھوٹی قسم شرک کے برابر ہے،یہ اس قدر سنگین گناہ ہے کہ شریعت نے اس کے لیے کفارہ مقرر نہیں کیا، اس کی تلافی صرف اور صرف سچے دل سے توبہ واستغفار ہے۔

(۵) سوال :کھانستے ہوئے میرے بلغم ریشے میں خون آ رہا ہے، کیا اس سے میرا وضو قائم رہے گا یا ٹوٹ جائے گا؟

جواب:صورتِ مسئولہ میں اگر بلغم کے ریشے  میں خون آرہا ہے، تو اگر خون بہت کم ہے اور تھوک کا رنگ سفید یا زردی مائل ہے تو وضو نہیں ٹوٹے گا، اور اگر خون زیادہ ہے یا برابر ہے اور رنگ سرخی مائل ہے تو وضو ٹوٹ جائے گا، یعنی جو چیز غالب ہوگی اس کا حکم لگے گا، اگر خون غالب ہوگا تو وضو ٹوٹ جائے گا اور اگر تھوک غالب ہوگا تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔

فقط واللّہ اعلم

Does this apply to your situation?

A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.

Ask Mufti Arbab