بسم اللّه الرحمن الرحيم
(۱) سوال:ایک شخص کی کمائی پوری کی پوری حرام ہے، اور وہ شخص اپنا پیسہ قبرستان میں دینا چاہتا ہے جو کہ فی الحال قبرستان کی حفاظت کیلئے چہار دیواری کا کام چل رہا ہے، تو کیا اس شخص کا پیسہ لینا جائز ہوگا؟
جواب:اگر وہ شخص اپنے حرام کمائی کے پیسے قبرستان کی چہار دیواری اور حفاظت کے لیے دے رہا ہے، تو اس کے پیسے قبول کرنا جائز نہیں ہوگا۔ اسلام میں حرام کمائی سے حاصل کردہ مال کو استعمال کرنا یا اس کے ذریعے کسی مذہبی یا خیراتی کام میں مدد کرنا درست نہیں ہے۔ حرام کمائی کا پیسہ پاک نہیں ہوتا، چاہے اسے کسی اچھے کام میں لگایا جائے۔ قبرستان کی چہار دیواری اور حفاظت ایک اچھا اور ضروری کام ہے، لیکن اس کو حرام کمائی سے نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس شخص کو چاہیے کہ وہ اپنی کمائی کو حلال طریقے سے کمائے اور پھر اس مقصد کے لیے مدد کرے۔ واللہ اعلم۔
(۲) سوال:مسواک کے 70 فائدے ہیں کیا یہ حدیث ہے کیا اسے حدیث کہہ کر بیان کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
جواب:مسواک کرنا سنت ہے۔ اس سے دانتوں کی صفائی ہوتی ہے اور خدا تعالی کی رضامندی کا باعث ہے۔ احادیث میں اس کی بیشمار فضیلتیں بیان کی گئی ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں کہ جو نماز مسواک کرکے پڑھی گئی وہ بغیر مسواک والی نماز سے ستر گنا (ثواب میں) بڑھی ہوتی ہے۔
البتہ جو ستر فائدے بیان کئے جاتے ہیں اس طریقے سے احادیث میں موجود نہیں ہے۔ اس لئے حدیث کہہ کر بیان کرنا درست نہ ہوگا۔ ہاں مسواک کے جو جسمانی، دنیوی یادینی فائدے ہیں وہ اپنی جگہ پر درست ہیں۔
(۳) سوال:کار یا بائیک کا انسورینش کرانا کیسا ہے؟
جواب:اگر کسی ملک میں گاڑی سڑک پر لانے کے لیے گاڑی کا انشورنس کرانا قانونی طور پر لازم وضروری ہوتو گاڑی کا انشورنس کراناجائز ہوگا۔
(۴) سوال:کیا پہنے ہوئے اپنے یا بچوں کے کپڑے پرانے ہو جائیں تو کاٹ کر صفائی یا پوچھا کے لئے استعمال کرسکتے ہیں؟
جواب:پہننے کے کپڑے جب پرانے ہوجائیں اور قابلِ استعمال ہوں تو کسی غریب کو استعمال کے لیے دیئے جاسکتے ہیں، اگر وہ قابلِ استعمال نہ ہوں تو انہیں صفائی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
(۵) سوال:اگر نماز کے بیچ میں وضو ٹوٹ جائے تو وضو کرنے کے لیے کیا نمازی کے آگے سے گزرا جا سکتا ہے اور کیا اسکی کوئی گنجائش ہے؟ کیونکہ میںنے مفتی سعید خان صاحب جو کی علی میاں صاحب کے خلیفہ ہے اُنہوںنے اسے درست قرار دیا ہے۔
جواب:اگر صفوں سے بآسانی نکلنا ممکن نہ ہو تو نمازیوں کے آگے سے بھی گزرنا جائز ہے؛کیونکہ یہ نماز کی اصلاح کیلئے ہے اور نماز کی اصلاح کیلئے نمازیوں کے سامنے سے گزرنا جائز ہے؛لہذا وضو کیلئے جاتے وقت سامنے سے گزرکر جائے،اور واپسی تک اگر وہ جگہ خالی ہے توسامنے سے گزرکراس جگہ کو پُر کرے، اوراگرسامنے سے جانے کی جگہ نہ ہو تو صف کو چیر کر بھی جاسکتا ہے۔
فقط واللّہ اعلم
Does this apply to your situation?
A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.
Ask Mufti Arbab
