Skip to content

   

All masail

Ask Mufti Arbab · Jumah 12

Jumuah Session 12

4 questions answered

بسم اللّه الرحمن الرحيم

(۱) سوال:اگر قرآن مجید ہاتھ سے گرجائے توکیا کفارہ ادا کرنا پڑے گا؟

جواب:۔ اگر غلطی سے بلاقصد و ارادے کے قرآن پاک ہاتھ سے گرجائے تو اس بے احتیاطی پر توبہ و استغفار کرنا چاہیے، تاہم اس سے کوئی مالی کفارہ لازم نہیں آتا، اپنے طور پر کچھ صدقہ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، لیکن اس کو لازمی نہ سمجھا جائے۔

(۲) سوال:ایک شخص سامنے موبائل رکھ کر نماز پڑھ رہا تھا،دوران نماز موبائل پر فون آنے کی وجہ سے گھنٹی بجنے لگی، گھنٹی پر گانا لگا ہوا تھا،گانے کی آواز سے مسجد بھی گونج اٹھی اب یہ شخص نماز توڑ کر گھنٹی بند کردے یا یونہی گانا بجنے دے؟ اورنمازپڑھتارہے؟

جواب:نماز شروع کرنے سے قبل بلکہ مسجد میں داخل ہوتے ہی موبائل بند کردینا چاہیے تاکہ گھنٹی بجنے کااندیشہ نہ رہے لیکن اگراتفاقاً بند کرنا یاد نہ رہے اور دورانِ نماز گھنٹی بجنے لگے اورعمل قلیل سے بند کردینا ممکن ہو تو بحالت نماز ہی بند کردینا چاہیے، اگر عمل کثیر کرکے گھنٹی بند کی گئی تو نماز فاسد ہوجائے گی۔ موبائل کی گھنٹی میں اگر میوزک یا گانا ہو اور بغیر عمل کثیر کے بند کرنا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں نماز توڑکر موبائل بند کردینا چاہیے اور اگر گھنٹی سادی ہو کہ جس کی وجہ سے نمازیوں کو زیادہ پریشانی نہ ہو تو گھنٹی بجتی چھوڑکر نماز پوری کرلینے کی گنجائش ہے۔ موبائل میں ساز یعنی میوز یا گانے والی گھنٹی لگانا ناجائز ہے ۔

(۳) سوال:کیا میری حیات میں ہی اولاد حصہ لینے کی حقدار ہے؟ اور فرمانبرداری اور نافرمانی کی بنیاد پر کسی کو کم کسی کو زیادہ اور کسی کو بے دخل کر سکتے ہیں؟

جواب:حیات میں اولاد کا ان کی جائیداد میں کوئی مالکانہ حق اور حصہ نہیں ہوتا۔ تاہم جائیداد کا مالک خوشی و رضامندی سے اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔ اور زندگی میں اولاد کو جو کچھ دیا جاتا ہے، وہ ہبہ ہوتا ہے میراث نہیں، اولاد کے درمیان ہبہ میں مساوات (برابری) سے کام لینا مستحب ہے؛ البتہ اگر کوئی اولاد زیادہ ضرورت مندہے یا والدین کی زیادہ خدمت کرتی ہے یا اور کوئی وجہ ترجیح موجود ہے تووہ اسے نسبۃً کچھ زیادہ بھی دے سکتے ہیں، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے؛ لیکن اولاد کے درمیان تقسیم کے بعد ہر ایک اولاد کو اس کے حصے پر قبضہ و دخل بھی ضرور دے دینا چاہئے، ورنہ بچے اس کے شرعاً مالک نہ ہوں گے۔ اور وفات کے بعد میراث کے احکام جاری ہوں گے۔ اور ہبہ سے کسی ایک کو بے دخل کرکے محروم کردینا یہ عدل و مساوات کے خلاف ہے ایسا نہیں کرنا چاہئے۔

(۴) سوال:حضرت کیا ماموں اپنی بھانجی سے دوران عدت ملاقات کرسکتا ہے؟

جواب:جی ہاں۔ مامو بھانجی کے لئے محرم ہے۔

فقط واللّہ اعلم

Does this apply to your situation?

A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.

Ask Mufti Arbab