بسم اللّه الرحمن الرحيم
(۱) سوال:زید نے کاروبار میں نقصان ہونے کی وجہ سے سود پر قرض لیا لیکن کاروبار اس سے بھی ٹھیک نہیں ہوا نتیجہ یہ ہوا کہ اس پر بہت زیادہ سودی قرض ہوگیا۔ تو کیا زید کا سودی قرض اتارنے میں زکاۃ کی رقم سے مدد کی جاسکتی ہے؟
جواب:زید کا سود پر قرض لینا شرعا جائز نہیں تھا،تاہم اگر زید کا قرض اس کے سازوسامان سے کا فی زیادہ ہے اور وہ سید/ عباسی بھی نہیں ہے،تو وہ شرعا زکاۃ کا مستحق ہے،بقدر ضرورت زکوۃ لے کر اس کو جس قرض (سودی/بلاسودی)میں چاہے صرف کرے۔سود سے چھٹکارا دلانے کے لیے مستحق شخص کو زکاۃ دی جاسکتی۔
(۲) سوال:میری والدہ عدت میں ہیں۔ تو کیا ان کا اپنے دیور اور نند کے بیٹوں سے پردہ ہے؟ اور کیا ان کو اپنے سگے بھتیجے کے بیٹے سے بھی پردہ کرنا ہوگا؟
جواب:محرم شرعی بحق عورت وہ مرد ہوتا ہے کہ جس سے ہمیشہ ہمیش کے لیے نکاح حرام ہو، جیسے بیٹا، بھائی، چچا عورت کا اپنا سگا بھتیجہ اپنا سگا بھانجہ وغیرہ اور شوہر کا سگا بھتیجہ (دیور کا لڑکا) اور بھانجہ (نند کا لڑکا) چچی اور ممانی کے حق میں محرمِ شرعی نہیں ہوتے کیونکہ چچا اور ماموں کے انتقال اورعدت گذرنے کے بعد چچی اور ممانی سے نکاح درست وحلال ہوجاتا ہے۔ اس لئے ان سے پردہ ہوگا۔
عورت کے اپنے سگے بھتیجے اور بھتیجیاں، بھانجے اور بھانجیاں محرم ہیں،ان سے شرعی پردہ نہیں ہے،اور جس طرح یہ محرم ہیں اور ان سے پردہ نہیں ہے اسی طرح ان کی اولاد بھی محرم ہے اور اُن سے شرعی پردہ نہیں ہے،اور پھر اسی طرح ان کی اولادوں سے بھی پردہ نہیں ہے۔
(۳) سوال:مسجد کے غسل خانوں میں مقامی آدمی کا غسل کرنا کیسا ہے۔ جب کہ ان کے گھروں کے اندر یہ سہولت موجود ہے؟
جواب:بہتر یہی ہے کہ یہ تمام ضروریات گھر سے ہی پوری کر کے آئیں البتہ جو لوگ مسجد میں نماز، تلاوتِ قرآن اور ذکر وعبادت کے لیے آئیں صرف ان کے لیے مسجد کے بیت الخلا اور غسل خانوں کا استعمال جائز ہے، باقی جو لوگ صرف استنجاء یا نہانے کے مقصد سے آتے ہیں ان کے لیے مسجد کے بیت الخلاء اور غسل خانوں کا استعمال شرعاً جائز نہیں ہے۔
(۴) سوال:استنجاء کے بعد ٹشو پیپر رکھ لیا اور بعد میں ٹشو پیپر ہٹانا بھول گیا اور وضوء کرکے نماز پڑھ لی۔ کیا نماز ہو جائیگی یا دوبارہ پڑھنی ہوگی؟
جواب:پیشاب کے قطروں سے حفاظت کے لیے ٹیشو پیپر کا استعمال کرنا درست ہے۔ اگر قطرہ نکلنے کا شبہ ہوا تو کھول کر دیکھنا ضروری ہوگا، دیکھنے کے بعد تسلی ہوگئی، اب پھر شبہ ہوا تو اب اسی میں نماز پڑھے جب تک نکلنے کا غالب گمان نہ ہوجائے۔ اور اس صورت میں اگر سوراخ کی جانب ٹیشو پیپر پر تری نظر نہیں آتی ہے، تو پاک سمجھا جائے گا، اور اسی میں نماز ہوجائے گی ۔
(۵) سوال:عقیقہ میں لڑکے کا سر مونڈنا ضروری ہے یا نہیں؟
جواب:عقیقہ کے موقع پر بچے کے سر کو مونڈنا مستحب عمل ہے۔ ضروری نہیں ہے۔
فقط واللہ اعلم
Does this apply to your situation?
A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.
Ask Mufti Arbab
