بسم اللّه الرحمن الرحيم
(۱) سوال:كیا جسم کے اعضاء (مثلاً آنكھ.كان وغیرہ) ڈونیٹ کرنا درست ہے؟
جواب :کسی انسانی عضو کا (خواہ زندہ کا ہو یا مردہ کا) دوسرے انسان کے جسم میں استعمال (معاوضہ کے ساتھ ہو یابغیرمعاوضہ کے) مندرجہ ذیل وجوہات کی بنیاد پر جائز نہیں ہے:
(1) اس مقصد کے لیے انسانی جسم کی چیر پھاڑ کی جاتی ہے جو کہ مثلہ ہے، اور مثلہ شریعت میں جائز نہیں ہے۔ حدیث شریف میں ہے:
(2) کسی زندہ حیوان (جس میں انسان بھی شامل ہے) کے جسم سے اگر کوئی جز الگ کردیا جائے وہ مردار اور ناپاک کے حکم میں ہوجاتا ہے۔
عضو کی پیوند کاری کی وجہ سے پوری عمر ایک ناپاک چیز سے جسمِ انسانی ملوث رہے گا۔
(3) کسی چیز کو ہبہ کرنے یا عطیہ کے طور پر کسی کو دینے کے لیے یہ شرط ہے وہ شے مال ہو، اور دینے والے کی ملک ہو، اور یہی شرط وصیت کے لیے بھی ہے۔ والے کی ملک ہو، اور یہی شرط وصیت کے لیے بھی ہے۔
(۲) سوال:اگر كسی شخص كا مثلاً نكاح منگل میں ہوا اور اس كے بعد اس كا ولیمہ جمعہ میں كیا گیا یا جمعہ كی رات میں كیا گیا تو كیا اسے سنت كا ثواب مل جائے گا ؟
جواب:''ولیمہ'' اس کھانے کو کہا جاتا ہے جو میاں بیوی کے اکٹھا ہونے یعنی شبِ زفاف کے بعد کھلایا جاتا ہے، شبِ زفاف کے تیسرے دن تک حدیث شریف سے ولیمہ کا ثبوت ہے، اگر شبِ زفاف کے بعد پہلے دن انتظام ہوسکتا ہو تو سب سے بہتر پہلا دن ہے، تیسرے دن کے بعد ولیمہ کرنا فقط ضیافت شمار ہوگی۔
فقط واللّہ اعلم
Does this apply to your situation?
A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.
Ask Mufti Arbab
