Skip to content

   

All masail

Ask Mufti Arbab · Jumah 46

15 November 2024

2 questions answered

بسم اللّه الرحمن الرحيم

(۱) سوال:میں نكاح میں ایك مرتبہ قبول كہوں یا تین مرتبہ؟ جیسا كہ بعض جگہ قاضی صاحب تین مرتبہ قبول كرواتے ہیں؟

جواب:شرعاً فقط دو گواہوں کے سامنے ایک مرتبہ ایجاب وقبول کرنے کا نام،نکاح ہے۔ تین مرتبہ ایجاب وقبول کرانے کی ضرورت نہیں، لہٰذا نکاح خواں کو چاہیئے کہ شرعی طریقہ کار کو مقدم رکھتے ہوئے ایک مرتبہ ایجاب وقبول کرانے پر اکتفاء کرے اور نکاح کے وقت مروج ان زائد رسومات سے اجتناب کرے۔

(۲) سوال:كیا والد كے انتقال كے بعد والدہ والد كے مكان كی مالك بن جاتی ہیں؟

جواب:اگر والد صاحب نے اپنی ملکیتی مکان کو حالت حیات میں ہی والدہ كو قبضہ دیكر مالك بنا دیا تھا تو وہ مكان والدہ كی ملكیت شمار ہوگا اور والد كی طرف سے وہ ہبہ (گفٹ) سمجھا جائے گا۔ اور اگر والد نے یہ كہا تھا كہ  میرے مرنے کے بعد  یہ مکان والدہ کا ہوگاتو شرعاً یہ ”وصیت“ ہے، اور کسی وارث کے لیے وصیت کے معتبر ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وصیت کرنے والے کے انتقال کے بعد تمام عاقل ، بالغ  ورثاء اس وصیت کو  نافذ کرنے پر  خوش دلی سے راضی ہوں، تمام عاقل بالغ ورثاء کی اجازت کے بغیر  وارث کے لیے وصیت نافذ نہیں ہوتی بلکہ کالعدم ہوجاتی ہے۔

اور اگر سائل کے والد کے انتقال کے بعد تمام عاقل بالغ ورثاء  نے والد کی وصیت کو نافذ کرنے کی اجازت نہیں دی  تو ایسی صورت میں مذکورہ مکان  والد کا ترکہ  ہے جو  ان کے تمام شرعی ورثاء میں شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔

فقط واللّہ اعلم

Does this apply to your situation?

A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.

Ask Mufti Arbab