Skip to content

   

All masail

Ask Mufti Arbab · Jumah 44

1 November 2024

5 questions answered

بسم اللّه الرحمن الرحيم

(۱) سوال:سوال: کیا اسلام میں جعلی بال (وگ) بیچ کر کمایا جا سکتا ہے؟

جواب:اگر بنائی جانے والی وگ انسانی بالوں پر مشتمل ہو، یعنی: وہ مصنوعی بال نہ ہوں، بلکہ کسی انسان کے بالوں کو کاٹ کر وگ بنائی گئی ہو تو اس کی خرید و فروخت ناجائز اور حرام ہے اور انسانی بالوں کی خرید و فروخت سے جو کمائی حاصل ہوگی وہ بھی ناجائز اور حرام ہوگی، یہی حکم خنزیر کے بالوں سے بنائی گئی وگ کا ہے۔ اور اگر وہ بال انسان یا خنزیر کے نہ ہوں بلکہ مصنوعی طور پر وگ بنائی گئی ہو تو ایسی وگ کو فروخت کرنے کی شرعاً اجازت ہے۔

(۲)سوال:ساس سسر کو کیا کہہ کر مخاطب کرنا چاہیے؟ کیا ان کو امی ابو کہنا درست ہے یا اسلام میں ان کے بارے میں کچھ اور حکم ہے؟

جواب:ساس اور سسر ماں، باپ کے درجے میں ہوتے ہیں، ان کے حقوق وہی ہیں جو ماں باپ کے ہیں اس لیے ان کے ادب و احترام میں انھیں ساس اور سسر کے بجائے امی اور ابو وغیرہ کہہ سکتے ہیں، جائز ہے۔

(۳)سوال:اگر کوئی شخص بیٹھ کر نماز پڑھے اور وہ زمین پر سجدہ کرسکتا ہے۔ تو کیا وہ شخص اشارہ سے سجدہ کرے یا زمین پر سجدہ کریں۔ ایک مولوی صاحب نے کہا اس کو اشارہ سے نماز پڑھنا پڑے گا ورنہ نماز نہیں ہو گی۔ صحیح بات کیا ہے؟

جواب:اگر کوئی شخص قیام پر قادر نہیں ہے تو زمین پر بیٹھ کر رکوع اور سجدے کے ساتھ نماز پڑھے۔ اور اگر رکوع وسجدہ بیٹھ کر نہ کرسکتا ہو تو پھر رکوع وسجدے کا اشارہ کرکے پڑھے گا۔

(۴)سوال :بہت سے مسلموں کا ہندؤں سے رابطہ ہوتا ہے اور وہ اپنے تہوار پر مٹھائی، تحفہ دیتے ہیں ، تو کیا اُن کی مٹھائی کھانا جائز ہے، اور تحفہ استعمال کرنا جائز ہے؟

جواب:غیر مسلم شخص کی طرف سے دیوالی کے موقع پر جو تحفہ دیا جائے، اگر وہ کسی حرام اور ناجائز چیز پر مشتمل نہ ہو، مثلا: تحفے میں اگر مٹھائی ہو، تو وہ دیوی دیوتاوں پر چڑھاوے کی نہ ہو، تو ایسا تحفہ قبول کرنے کی گنجائش ہے؛ لیکن احتیاط اولیٰ ہے۔

(۵)سوال:کیا ماموں اپنی لڑکی کی شادی اپنی بھانجی کے لڑکے سے کر سکتا ہے؟

جواب:اگر حرمت نکاح کی کوئی وجہ مثلاً رضاعت وغیرہ موجود نہیں تو بھانجی کے بیٹے سے شادی کرسکتے ہیں : لقولہ تعالیٰ: وَاُحِلَّ لَکُمْ مَّا وَرَآئَ ذٰلِکُمْ (الآیۃ)

فقط واللّہ اعلم

Does this apply to your situation?

A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.

Ask Mufti Arbab