بسم اللّه الرحمن الرحيم
(۱) سوال:کیا مرنے کے بعد اپنی آنکھ یا کوئی اور عضو ڈونیٹ کرسکتے ہیں؟
جواب:انسان کے اعضاء اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں، جنہیں خود جائز حدود میں استعمال کرنے اور ان سے نفع اٹھانے کا انسان کو حق حاصل ہے، لیکن انسان اپنے اعضاء کا مالک نہیں ہوتا، نہ ہی انسانی اعضاء مال ہیں؛ اس لیے نہ ہی انسان اپنے اعضاء میں سے کسی عضوکوہبہ کرسکتاہے اورنہ عطیہ کرنے کی وصیت کرسکتاہے۔ اعضائِ انسانی کا زندگی میں یابعد از مرگ کسی شخص کوعطیہ کرنا یا میڈیکل تجربات کے لیے اپنا جسم یا کوئی عضو وقف کرنا ناجائز و حرام ہے۔ نیز انسانی جسم کا احترام جس طرح زندہ ہونے کی حالت میں لازمی ہے اسی طرح فوت ہونے کے بعد انسانی لاش زندہ جسم کی طرح قابل احترام ہے۔
(۲) سوال:اگر پیٹ میں گیس کی پروبلم ہے اور ریاح زیادہ خارج ہو رہی ہے تو نماز کیسے پڑھے؟
جواب:اگر خروج ریاح کا عذر اتنی کثرت سے پیش آئے کہ ایک نماز کے پورے وقت میں اتنا بھی وقفہ نہ ملے کہ اس میں وضو کرکے صرف فرض نماز ادا کرسکے تو ایسا شخص شرعاً معذور ہے۔ اور اس کے لیے حکم یہ ہے کہ ہرنماز کا وقت داخل ہونے پر وضو کرلے اور اس وضو سے جتنی چاہے نوافل و دیگر عبادات کرے، جب تک اس نماز کا وقت رہے گا، خروجِ ریح کی وجہ سے اس کا وضو نہ ٹوٹے گا، اور وقت ختم ہونے پر دوسرے وقت کی نماز کے لیے نیا وضو کرے۔ اور اگر عذر محیط نہ ہو بلکہ کبھی کبھی وہ عارضہ پیش آجاتا ہو تو اس کا حکم غیرمعذورین کی طرح ہے۔ یعنی جب بھی خروجِ ریح ہوگا تو وضو ٹوٹ جائے گا۔
(۳) سوال:بیوی سے حالت حیض میں ہمبستری کر لی تو کیا حکم ہے؟
جواب:حالتِ حیض میں بیوی سے جماع کرنا شرعاً ناجائز و حرام ہے،جس پر سچے دل سے توبہ و استغفار ضروری ہے،نیز یہ طبی اعتبار سے بھی انتہائی نقصان دہ ہے ،لہذا اس سے اجتناب لازم ہے۔ نیز مذکورہ گناہ کے ازالے کے لیے بہتر یہ ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق کچھ صدقہ بھی کردے، تاکہ نیکی سے گناہ دُھل جائے۔ اور آئندہ ایسی غلطی نہ ہو۔
(۴) سوال:کیا گھر میں نماز پڑھنے سے مسجد میں باجماعت نماز پڑھنا ۲۷؍ درجہ بڑھا ہوا ہوتا ہے؟
جواب:جی ہاں مذکورہ فضیلت روایت حدیث سے ثابت ہے۔ البتہ محلہ کی مسجد کا ثواب بعض روایت میں پچیس آیا ہے، بعض میں ستائیس۔ اخلاص کے فرق سے بھی ثواب کا فرق ہوسکتا ہے۔
فقط واللہ اعلم
Does this apply to your situation?
A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.
Ask Mufti Arbab
