Skip to content

   

All masail

Ask Mufti Arbab · Jumah 71

18 July 2025

5 questions answered

بسم اللّه الرحمن الرحيم

(۱) سوال :سیونگ بینک اکاؤنٹ ہے اور اس پر سود آتا ہے، اور کئی دفعہ اکاؤنٹ میں بغیر اجازت کچھ چار جز لگ جاتے ہیں جس سے پیسے کٹ جاتے ہیں۔ تو کیا ہم سود کا پیسہ استعمال کر سکتے ہیں ؟

جواب:جونا جائز چارج کاٹا گیا ہے اس کے لیے شکایت کر کے واپسی کا مطالبہ کریں۔ لیکن سود کی رقم استعمال کرنا درست نہیں ۔ اسے صدقہ کرنا ضروری ہے۔

(۲) سوال:اسکول کہتا ہے: اگر بچہ اتنے نمبر لائے گا تو اتنی فیس اور اگر اتنی لائے گا تو اتنی یعنی جتنا کم نمبر، اتنی زیادہ فیس ۔ تو اس طرح شریعت میں فیس دینا اور لینا کیسا ہے؟

جواب:اسکول کے اصول وضوابط ہیں وہیں سے رابطہ کریں۔ اگر انہوں نے اصول آپ کو بتا دئے ہیں اور آپ نے ان کو مان کر ایڈمیشن کرایا ہے تو ان کے اصول کے تحت ان کالینا درست ہے۔

(۳) سوال:ایک شخص پر تقریبا 40000 زکوۃ بنتی تھی اس نے قرض بھی دے رکھا تھا ایک بندے کو چالیس ہزار اور جس کو قرض دیا تھا وہ بندہ زکوۃ کا مستحق ہے تو جب زکوۃ نکالنے لگا تو یہ نیت کی کہ میں نے جو قرض اس کو دیا ہے وہ زکوۃ ہے تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب:فقہاء کرام کے نزدیک کسی شخص کو دیے گئے قرض کو زکوة کی نیت سے معاف کرنا جائز نہیں ہے، اور نہ ہی اس طرح آپ کی زکوۃ ادا ہو گی ۔ ہاں یہ صورت اختیار کر سکتے ہیں کہ زکوۃ کے چالیس ہزار اس کو دیکر اپنا قرض واپس لے لے تو ادا ہو جائے گی۔

(۴) سوال:ایک عورت نے اپنے شوہر کے انتقال کے بعد دوسرا نکاح کیا اور اس عورت کو پہلے والے شوہر سے ایک لڑکا بھی ہے اب اس عورت کو اسکے والد نے جو پراپرٹی دی تھی وہ اس عورت کی اور اسکے سگے بیٹے کے لئے دی تھی تو دوسرا شوہر اس پر پراپرٹی کے لئے دباؤ ڈال رہا ہے کہ اس میں میرا ابھی حصہ ہے تو کیا یہ درست ہے؟

جواب:بیوی کی جائداد میں دوسرے شوہر کا حصہ اسی وقت ہوگا ، جب عورت انتقال کر جائے ، اور دوسرے شوہر کی پہلی بیوی کی اولاد کو بھی اس عورت کی جائداد سے نہیں ملیگا۔

(۵) سوال:اگر کوئی قرض دار اپنی خوشی سے قرض واپس کرتے وقت کچھ زیادہ رقم واپس کر دے تو وہ سود میں شمار تو نہیں ہو گی ؟

جواب:اگر مقروض کے ساتھ قرض واپس کرتے وقت زیادتی کا معاہدہ نہیں ہوا تھا ، اور نہ ہی وہاں کے عرف میں یہ رواج ہے که قرض ادا کرتے وقت زیادتی کرنی پڑتی ہے، بلکہ بغیر کسی معاہدہ اور عرف کے مقروض اپنی خوشی سے زیادتی دے رہا ہے، تو اس کا لینا آپ کے لیے جائز ہے، اور مقروض کو اس پر اجر اور ثواب ملے گا ، احادیث میں اس کی ترغیب وارد ہوئی ہے، چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرض کی ادائیگی زیادہ اچھے طریقہ سے کرنے والا ہو۔

فقط واللّہ اعلم

Does this apply to your situation?

A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.

Ask Mufti Arbab