Skip to content

   

All masail

Ask Mufti Arbab · Jumah 19

Jumuah Session 19

4 questions answered

بسم اللّه الرحمن الرحيم

(۱) سوال:بغیر اجازت کے کسی کاوائی فائی استعمال کرنا کیسا ہے ؟

جواب :کسی دوسرے شخص کا وائی فائی اس کی اجازت کے بغیر استعال کر ناشر عًاناجائز ہے۔ جتنا استعمال کر چكے ہیں اس پر صدق دل سے توبہ کرے اور آئندہ کے لئے اس طرح استعمال کرنے سے بچے تاہم اس کا زمان لازم نہیں ۔

سوال:كیاحائضہ بالوں میں کنگھی لگا سکتی ہے ؟ اور کنگھی لگاتے وقت بال گر جائیں تو ان گرے ہوئے بالوں کا کیا حکم ہے ؟

جواب :واضح رہے کہ حیض و نفاس نجاست حکمی ہیں۔ جس کی وجہ سے حائضہ وغیرہ  کا ظاہری جسم ناپاک نہیں ہو تا۔ نیز حائضہ کے لئے حالت حیض میں صرف نماز روزے کی ادائیگی، قرآن مجید کی تلاوت ، مسجد میں داخلہ اور ازدواجی تعلقات قائم کرنے کی ممانعت ہے، اس کے علاوہ دنیا کے تمام امور سر انجام دے سکتی ہے اور صفائی ستھرائی وزیب و زینت بھی اختیار کر سکتی ہے۔

لہذا مسئولہ صورت میں حائضہ کے لئے سر کے بالوں میں کنگھی کرنا جائز ہے۔ اس میں کوئی مضائقہ نہیں نیز چوں کہ اجنبی مرد کیلئے عورت کے ٹوٹے ہوئے بالوں کو دیکھنا بھی جائز نہیں ہے۔ اس لئے سر میں کنگھی کرتے ہوئے عورتوں کے جو بال گر جائیں انہیں کسی جگہ دفنا دینا چاہئے، اگر دفنانا مشكل ہو تو کسی ایسی جگہ پر ڈالے جہاں اجنبی کی نظر نہ پڑے۔

سوال:آج کل گھروں میں سجاوٹ کیلئے چھوٹے چھوٹے جانوروں اور پرندوں کے مجسمے ملتے ہیں جن کی آنکھیں نہیں ہوتی ہیں لیکن ان کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی جانور کا مجسمہ ہے۔ کیا ایسے مجسمے کو گھر میں رکھنا جائز ہے۔

جواب :صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ مجسمہ کی آنکھیں نہیں ہیں اور اس کے باوجود اس سے جاندار کی حکایت ہوتی ہے یعنی دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کوئی پر ندہ ہے یا کوئی جانور ہے تو یہ بھی تصویر کے حکم میں ہے اور اس کا گھر میں رکھنا نا جائز ہے۔

سوال :بعض عورتیں پر دہ ایسی چادروں سے کرتی ہیں جن پر ڈیزائن وغیرہ بنائے گئے ہوں کیا باہر ایسی چادروں یا ایسے عبایہ، برقعہ استعمال کرنے کی امانت ہے ؟ جس پر پھول اور دیگر قسم کے ڈیزائن اور نقش و نگار بنائے گئے ہوں۔

جواب :برقعہ سادہ ہوں اس میں نقش و نگار اور زیب وزینت نہ ہو، اور نہ ہی ایسا رنگ ہو جو جاذب نظر ہونے کی وجہ سے مردوں کی توجہ کا سبب بنے۔

برقعہ چست نہ ہو کہ اس سے جسم کی ہیئت اور نشیب و فراز ظاہر ہو بلکہ ڈھیلا ڈھالا ہو جس سے جسم ظاہر نہ ہو۔

بر قه باریک نہ ہو جس سے جسم یا جسمانی ساخت ظاہر ہو۔

برقعہ اس قدر بڑا ہو جس میں جسم اچھی طرح چھپ جانے۔

برقعہ مردوں کے لباس کے مشابہ نہ ہو اسی طرح کافروں یا بے دین بیزار عورتوں کے فیشنی برقعہ کے مشابہ نہ ہو کیوں کہ ان لوگوں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

بر قعہ پر مہكنے والی خوشبو نہ لگائی جائے، جو مردوں کیلئے فتنے کا سبب بنے۔

لہذا مسئولہ صورت میں عورتوں کے باہر نکلنے کے وقت نقش و نگار اور مزین اور ایسا جاذب نظر برقعہ، عبایہ، چادر پہننا جو نامحرموں کواس کی طرف دیکھنے پرمجبور کرے جائز نہیں برقعہ سادہ اور ڈھیلا ڈھالا ہو نا چاہئے جس میں جسم یا اندر کا زنانہ لباس نظر نہ آئے اور اس سے اعضاء کی ساخت و ہیئت نظر نہ آئے۔ نیز رنگ بھی ایسا ہو جو دیکھنے والوں کو مائل نہ کرے۔

فقط واللّہ اعلم

Does this apply to your situation?

A general answer cannot account for every circumstance. If your case differs, send the details and ask directly.

Ask Mufti Arbab