Skip to content

   

Namaz — chapter 6 of 27

تیمم

Tayammum

Purifying with clean earth when water cannot be used.

تیمم : پاک مٹی یا کسی ایسی چیز سے جو مٹی کے حکم میں ہو بدن کو حَدَثِ اصغر یا حَدَثِ اکبر سے یعنی نجاستِ حکمیہ جس سے وضو یا غسل واجب ہوتاہے پاک کرنے کو تیمم کہتے ہیں۔ جب پانی نہ ملے یا پانی کے استعمال سے بیمار ہوجانے یا مرض کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہو تو تیمم کرنا جائز ہے۔ پانی کے نہ ملنے کا مطلب یہ ہے کہ پانی ایک میل دور ہو یاڈول رسّی پاس نہ ہو اگرچہ کنواں پاس ہو، یا پانی تک پہنچنے میں کسی دشمن کا یا کسی جانور کا خوف ہو، یاپانی تو پاس موجود ہے مگر اس سے وضو کرنے کے بعد پینے کو پانی نہیں ملے گا۔

تیمم کرنے کا طریقہ:

پاکی کی نیت کرکے اول دونوں ہاتھ مٹی پر مارواور ان کو جھاڑ کر پھر سارے منھ کو مَلو، پھر دوسری مرتبہ دونوں ہاتھ مارو اور ان کو دونوں ہاتھوں پر کہنیوں تک مَلو، کوئی جگہ باقی نہ رہ جائے۔

فرائضِ تیمم:

  • ۱۔ایک مرتبہ پاک مٹی پر ہاتھ مار کر سارے چہرہ پر ہاتھ پھیرنا۔
  • ۲۔ دوسری مرتبہ پھر ہاتھ مار کر دونوں ہاتھوں پر کہنیوں تک ہاتھ پھیرنا۔

شرائطِ تیمم:

  • ۱۔نیت کرنا۔
  • ۲۔تیمم کرنے کے عذر کا پایاجانا۔
  • ۳۔جس چیز سے تیمم کیاجائے اس کا پاک اور جنس زمین سے ہونا۔
  • ۴۔تیمم کے اعضا پر سب جگہ ہاتھ پھیرنا۔
  • ۵۔پورے ہاتھ یا تین انگلیوں سے تیمم کرنا۔
  • ۶۔ہاتھوں کو ہتھیلیوں کی طرف سے مارنا۔
  • ۷۔جو چیزیں تیمم کے منافی ہیں جیسے حیض، نفاس، حدث ان کا نہ پایا جانا۔
  • ۸۔بدن پر موم، چربی وغیرہ کا نہ ہونا۔

سننِ تیمم:

  • ۱۔شروع میں بسم اللہ پڑھنا۔
  • ۲۔ترتیب۔
  • ۳۔پے درپے کرنا۔
  • ۴۔دونوں ہاتھ مٹی پر رکھنے کے بعد آگے کھینچنا۔
  • ۵۔پھر دونوں ہاتھوں کو مٹی پر رکھتے ہوئے پیچھے کو کھینچنا۔
  • ۶۔پھر دونوں ہاتھوں کو جھاڑنا۔
  • ۷۔ہاتھ مارتے وقت انگلیوں کو کشادہ کرنا۔

ہدایت:

نیت کے صحیح ہونے کی تین شرطیں ہیں:

  • ۱۔ اسلام
  • ۲۔ تمیز
  • ۳۔ اس چیز کا علم ہونا جس کی نیت کرتاہے۔