Namaz — chapter 18 of 27
سنّت اور نفل نماز
Sunnah & Nafl Prayers
Istikharah, salat al-tasbih, ishraq, chasht, tahajjud, istisqa, the eclipse and the prayer of need.
سنت دو قسم کی ہیں: ایک وہ جن کی بہت تاکید ہے اور ان کا چھوڑنا گناہ ہے اور ان کو مؤکدہ کہتے ہیں ،اور دوسری وہ جن کا پڑھنا ثواب ہے لیکن اگر نہ پڑھے تو کچھ حرج نہیں۔ نوافل کی کثرت سے آدمی خدا کا مقبول بندہ اور مُقَرّب بن جاتا ہے اس لیے جتنے نفل دن رات میں پڑھ سکو پڑھ لیا کرو۔
سُنّتِ مؤکدہ:
نماز فجر سے پہلے دو رکعت ،ظہر کے فرضوں سے پہلے چار رکعت ایک سلام سے اور بعد فرضوں کے دو رکعت جمعہ کی نماز سے پہلے چار رکعت اور بعد میں چار رکعت اس کے بعد دو رکعت، مغرب کے فرضوں کے بعد دو رکعت، عشاء کے فرضوں کے بعد دورکعت، رمضان شریف میں بیس رکعت تراویح دس سلام کے ساتھ۔
سُنّت غیر مؤکدہ:
نمازِ عصر سے پہلے چار رکعت ،عشاء کی دو سنّت مؤکدہ کے بعد دو رکعت، تحیّۃ الوضو دورکعت، تحیّۃ المسجد دورکعت، تہجّد کی چار یا چھ یا آٹھ رکعت، نمازِ استخارہ، نمازِ توبہ، نمازِ حاجت، اشراق ،چاشت وغیرہ۔
نمازِاستخارہ:
جب کسی کام کے کرنے کا ارادہ ہو تو اللہ تعالیٰ سے خاص طور سے اس میں خیر اور بھلائی کا طلب کرنا استخارہ کہلاتاہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے صلاح نہ لینا بدنصیبی کی بات ہے۔ جب کوئی کام کرو شادی، سفر، تجارت وغیرہ تو استخارہ کرلو ان شاء اللہ اس کی برکت سے وہ کام اچھا ہوگا اور کبھی اس پر پشیمانی نہ ہوگی۔ استخارہ کرنے کے بعد اگر ایک ہی مرتبہ میں اطمینان ہوجائے اور تردّد رفع ہوجائے توخیر ورنہ سات مرتبہ تک کرو، ان شاء اللہ تردّد جاتارہے گا۔ استخارہ میں کسی چیز کا نظرآنا یاخواب میں کسی کا کچھ کہناضروری نہیں ہے اگرچہ کبھی ایسا بھی ہوجاتاہے۔ استخارہ کی حقیقت صرف یہ ہے کہ دل کو اطمینان ہوجائے اور دل میں ایک بات مضبوطی سے آجائے بس وہی کی جائے اس میں برکت ہوگی۔
استخارہ کا طریقہ:
استخارہ کا طریقہ یہ ہے کہ وضو کرکے دو رکعت نفل پڑھو۔ اس کے بعد دل سے یہ دعا پڑھو:
اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ وَأَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَأَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ فَإِنِّکَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الغُیُوْبِ اَللّٰھُمَّ إِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ھَذَا الْأَمْرَ خَیْرٌ لِّيْ فِيْ دِیْنِيْ وَمَعَاشِيْ وَعَاقِبَۃِ أَمْرِيْ فَاقْدِرْہُ وَیَسِّرْہُ لِیْ ثُمَّ بَارِکْ لِي فِیْہِ۔ وَإِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ھَذَا الْاَمْرَ شَرٌّ لِّي فِيْ دِیْنِي ْ وَمَعَاشِيْ وَعَاقِبَۃِ أَمْرِيْ فَاصْرِفْہُ عَنِّيْ وَاصْرِفْنِيْ عَنْہُ وَاقْدِرْ لِيَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ أَرْضِنِیْ بِہٖ۔
جب ھٰذَا الْأَمْر پر پہنچو تو اس کام کا خیال کرو جس کے لیے استخارہ کررہے ہو، اس کے بعد دل کو دیکھو کہ کس طرف میلان ہے ،جس طرف دل کا میلان ہو وہ کام کرو۔ بلکہ بہتر یہ ہے کہ پاک صاف بچھونے پر سوجاؤ، پھر جب سوکر اٹھو تو جو بات دل میں پکی طرح سے آئے وہ کرو۔نیک کام حج وغیرہ کے لیے اگر استخارہ ہو تو اس طرح استخارہ نہ کرو کہ حج کو جاؤں یا نہ جاؤں بلکہ یہ استخارہ کرو کہ کس کے ساتھ جاؤں کون سے دن یا مہینہ یا کون سے جہاز میں جاؤں؟
صلوٰۃ التسبیح:
حدیث شریف میں اس نماز کی بڑی فضیلت آئی ہے اور اس کے پڑھنے والے کو بہت ثواب ملتاہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو یہ نماز خاص اہتمام سے سکھائی تھی اور یہ فرمایا تھا کہ اس سے تمہارے چھوٹے بڑے گناہ سب معاف ہوجائیں گے۔ اگر ہوسکے تو ہر روز پڑھ لیا کرو، اور ہر روز نہ پڑھ سکو تو ہفتہ میں ایک بار پڑھ لیا کرو، ہر ہفتہ نہ پڑھ سکو تو مہینہ میں ایک بار پڑھ لیا کرو، ہر مہینے نہ پڑھ سکو تو ایک سال میں ایک مرتبہ پڑھ لو ،اور اگر یہ بھی نہ ہوسکے توساری عمر میں ایک دفعہ پڑھ لو۔
صلوٰۃ التسبیح کی ترکیب:
اس نماز کے دو طریقے ہیں: اول یہ کہ چار رکعت نفل کی نیت باندھے، اور سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ اور الْحَمْدُ اور سورت پڑھ کر پندرہ مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلاَ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَ کْبَرُ پڑھے، پھر رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِیْم کے بعد دس مرتبہ یہ کلمے پڑھے۔ پھر رکوع سے کھڑے ہوکر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کے بعد دس مرتبہ پڑھے اور دونوں سجدوں میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰی کے بعد دس دس مرتبہ پڑھے۔ اور دونوں سجدوں میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰی کے بعد دس دس مرتبہ پڑھے پھر دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھ کر دس مرتبہ پڑھے اور دوسرے سجدے سے اللّٰہُ أَ کْبَرُ کہہ کر اٹھے اور بیٹھ جائے اور دس مرتبہ یہ کلمے پڑھ کر پھر بلا اللّٰہُ أَکْبَرُ کہے کھڑا ہوجائے ۔اسی طرح دوسری رکعت پڑھے اور جب دوسری رکعت میں التحیات کے لیے بیٹھے تو پہلے دس دفعہ یہ کلمے پڑھے پھر التحیات پڑھے، اسی طرح چار رکعتیں پڑھے۔
دوسرا طریقہ:
یہ ہے کہ سبحانک اللّٰہمَّ کے بعد الحمد سے پہلے پندرہ مرتبہ یہ کلمے پڑھے اور الحمد اور سورت کے بعد دس مرتبہ پڑھے اور باقی سب جگہ پہلے طریقہ کے موافق پڑھے، البتہ اس صورت میں دوسرے سجدہ کے بعد بیٹھ کر نہ پڑھے اورنہ التحیات کے ساتھ پڑھے دونوں طریقے حدیث میں آئے ہیں، کبھی اول طریقہ سے پڑھ لی جائے کبھی دوسرے طریقہ سے۔ اس نماز میں پڑھنے کے لیے کوئی خاص سورت متعین نہیں ہے جو سورت چاہے پڑھ لے۔
ان تسبیحوں کو زبان سے نہ گنے ورنہ نماز ٹوٹ جائے گی اور تسبیح ہاتھ میں لے کر گننا یا انگلیوں کو بند کرکے گننا مکروہ ہے۔ بہتر یہ ہے کہ انگلیوں کو اپنی جگہ رکھتے ہوئے ہر کلمہ پر دبا کر گنتارہے اگر کسی جگہ تسبیح بھول جائے تو دوسرے رکن میں اس کوپورا کرلے مثلا رکوع میں پڑھنا بھول گیا تو پہلے سجدہ میں پوری کرلے، پہلے سجدہ میں بھول جائے تو دوسرے سجدہ میں پوری کرلے۔ قومہ اور جلسہ میں بھولی ہوئی تسبیحیں پوری نہ کرے۔ ایسے ہی پہلی رکعت کے دوسرے سجدہ کے بعد یا تیسری رکعت کے دوسرے سجدہ کے بعد بھی بیٹھ کر پوری نہ کرے ان میں صرف ان کی تسبیح پڑھے۔ اس نماز میں اگر سہو ہوجائے تو اس کے سجدوں وغیرہ میں یہ تسبیحیں نہ پڑھے کیونکہ یہ تین سو تسبیحیں متعین ہیں اس سے کم زیادہ نہ کرنی چاہئیں۔
صلوٰۃ التسبیح کا وقت:
اوقاتِ مکروہہ کے علاوہ دن رات میں یہ نماز ہر وقت پڑھنی جائز ہے، البتہ زوال کے بعد پڑھنا افضل ہے۔
اِشراق کی نماز کا وقت:
جب سورج ایک نیزہ اونچا ہوجائے یعنی سورج نکلنے کے تقریبا بیس منٹ بعد دو یا چار رکعت نفل پڑھنے کا بڑا ثواب ہے اور احادیث میں اس کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی سارے دن مدد فرماتے ہیں جو اشراق کی نماز پڑھتا ہے،اور اس کے گناہ بخش دیتے ہیں۔
چاشت کی نماز کا وقت:
جب نرم دوپہر ہوجائے اور دھوپ ذرا تیز ہوجائے یعنی تقریباً دس گیارہ بجے دن کے اس وقت دو رکعت سے لے کر بارہ رکعت تک نفل پڑھنے کا بھی بڑا ثواب ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ انسان کے بد ن میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں، ہر جوڑ کا انسان کو صدقہ ادا کرنا چاہیے، کسی نے عرض کیا: یارسول اللہ! اتنا صدقہ کون ادا کرسکتاہے؟ آپ نے فرمایا: کہ ہر نیک کام کا صدقہ ہے اور چاشت کے وقت دو رکعتیں ان سب کی طرف سے صدقہ ہوسکتی ہیں۔ اوربہت سی روایات اس کی فضیلت میں آئی ہیں۔
نماز تحیّۃُ الوضو:
جب انسان وضو کرے اور وقت مکروہ نہ ہو تو دورکعت وضو کے بعد پڑھنے کا بہت ثواب ہے، اس کو تحیّۃُ الوضو کہتے ہیں۔
نماز تحیۃ المسجد:
جو شخص مسجد میں داخل ہو اور مکروہ وقت نہ ہو تو اس کو مسجد کی تعظیم کے لیے دو رکعت نماز پڑھنا مستحب ہے۔ مسجد چونکہ خدا کا گھر ہے اس لیے اس کی تعظیم اللہ کی تعظیم ہے۔ اگر کوئی شخص مسجد میں کئی مرتبہ جائے تو کم از کم ایک مرتبہ تحیۃ المسجد پڑھ لے۔
نما زتہجّد:
تہجد کی نماز کی احادیث میں بہت خوبیاں بیان کی گئی ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے اس کی بہت ترغیب دی ہے اور بعض عُلَمَا نے نمازِ تہجد کو سنّتِ مؤکدہ کہا ہے ،اس لیے خود بھی تہجّد کا حتی الوسع اہتمام کرنا چاہیے اور اپنے گھر والوں کو بھی اسکی ترغیب دینی چاہیے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائیں جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھتاہے اور اپنی بیوی کو بھی اٹھاتاہے کہ وہ نماز پڑھے ،اگر وہ نہیں اٹھتی تو اس کے منہ پر پانی کا چھینٹادیتاہے۔ اوراللہ تعالیٰ ایسی عورت پر رحم فرمائے کہ رات کو اٹھ کر نماز پڑھتی ہے اور اپنے شوہر کو جگاتی ہے ،اور خاوند نہیں اٹھتا تو اس کے منھ پر پانی چھڑک کراُٹھاتی ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ رات کے اٹھنے کا اہتمام کرو یہ تم سے پہلے نیک لوگوں کا طریقہ ہے اور تمہارے ربّ کی طرف قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہے اور گزشتہ گناہوں کا کفارہ ہے اور آئندہ گناہوں سے روکنے والا ہے۔ تہجّد میں دو رکعت سے آٹھ رکعت تک پڑھنا مسنون ہے۔
نمازِاستسقا:
استسقا کے معنی پانی طلب کرنا اور شرعاخاص طریقہ سے بارش کی دعا مانگنا۔ جب بارش بند ہوجائے اور لوگ پانی کی کمی سے تنگ ہوجائیں اور نہریں، نالے، کنوئیںنہ ہوں یا ہوں لیکن انسانوں اور جانوروں اورکھیتوں کے لیے ان کا پانی کافی نہ ہو توپھر نمازِ استسقا پڑھی جائے۔ اگر پانی ان کا کافی ہو تو بلاضرورت نمازِ استسقا نہ پڑھی جائے۔
نمازِ اِسْتِسْقَا کاطریقہ:
استسقاکی حقیقت دعا اور استغفار ہے، لہٰذا جب بارش کی کمی ہو تو لوگوں کو استغفار اور توبہ کی کثرت کرنی چاہیے ، زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے، دوسروں کے حقوق ادا کرنے چاہئیں اور دل سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے، اللہ تعالیٰ دعا قبول فرمائیں گے اور رحمت کی بارش برسائیں گے۔ اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ پہلے تین روزے رکھیں، صدقہ کریں، چوتھے روز تمام مسلمان مع بچوں اور بوڑھوں اور جانوروں کے پاپیادہ نہایت خشوع اور عاجزی کے ساتھ معمولی لباس میں جنگل میں جائیں اور توبہ کریں۔ اہلِ حقوق کے حقوق اداکریں، اپنے ساتھ کسی کافر کو نہ لے جائیں۔ پھر دورکعت نفل بلااذان وتکبیر کے جماعت کے ساتھ پڑھیں، امام آواز کے ساتھ قراء ت کرے۔ نماز کے بعد دوخطبے پڑھے جس طرح عید کے روز پڑھتا ہے۔ پھر امام قبلہ کی طرف منہ کرکے کھڑا ہوجائے اور دونوں ہاتھ اٹھاکر اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا کرے اور سب لوگ بھی دعا کریں اور امام کی دعا پر آمین کہیں۔ تین روز متواتر ایسا ہی کریں، تین روز سے زیادہ نہ کریں۔ اگر نمازِ استسقا کے لیے نکلنے سے پہلے بارش ہوجائے تو پھر بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے نکلیں۔
اِسْتِسْقا کی دعاء:
اَللّٰہُمَّ أَسْقِنَا غَیْثًا مُغِیْثًا ھَنِیْئًا مَّرِیْئًا مُرِیْعًا غَدَقًا مُجَلِّلاً سَحًّا طَبْقًا دَائِمًا۔
سورج گرہن کی نماز:
جب سورج گرہن ہو تو دو رکعت نماز نفل پڑھنا اور صدقہ کرنا مسنون ہے، یہ نماز جماعت کے ساتھ پڑھی جاتی ہے۔ اذان تکبیر کچھ نہ کہی جائے۔ ویسے ہی لوگوں کو اطلاع کردی جائے۔ اس نماز میں بڑی بڑی سورتیں (جیسے سورئہ بقرہ اور آلِ عمران) پڑھنا مسنون ہے۔ اس نماز کے رکوع سجدے بہت لمبے لمبے کرنے چاہیں۔ قراء ت اس نمازمیں آہستہ پڑھی جائے۔ نماز کے بعد امام دعا مانگے اور سب مقتدی آمین کہیں۔ جب تک گرہن ختم نہ ہو دعا مانگتے رہیں۔ہاں اگر ایسی حالت میں غروب ہوجائے یا کسی نماز کا وقت آجائے تو دعاموقوف کرکے فرض نماز ادا کریں۔ یہ نماز مکروہ وقت میں نہ پڑھی جائے صرف دعا مانگ لی جائے۔ اس نماز میں خطبہ نہیں پڑھاجاتا۔
چاند گرہن کی نماز:
چاندگرہن کے وقت بھی دو رکعت نمازمسنون ہے، لیکن اس میں جماعت مسنون نہیں ہے، سب لوگ علیحدہ علیحدہ اپنے گھروں میںپڑھیں مسجدوں میں جمع نہ ہوں۔
نمازِحاجت:
جب کوئی مصیبت پیش آئے، آندھی آئے، کوئی خوف ہو، زلزلہ آئے، بارش زیادہ ہواورنقصان کا اندیشہ ہو تو علیحدہ علیحدہ نماز پڑھ کر دعا کریں۔ نماز پڑھنے سے سب مصیبتیں دور ہوجاتی ہیں اورضرورتیں پوری ہوتی ہیں۔ جب کوئی ایسی بات پیش آتی تھی تورسول اللہﷺ جلدی سے نماز کی طرف توجہ فرماتے تھے۔
نماز قتل:
جب کوئی مسلمان قتل کیاجاتاہو تو اس کے لیے مستحب ہے کہ دورکعت نماز پڑھ کر اپنے گناہوں سے توبہ کرے اور اللہ تعالیٰ سے ایمان پرخاتمہ کی دعا کرے۔
یہ چند نفل نمازیں ہم نے بیان کردی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی نفل کی کثرت کیا کرو اس میں بڑی برکت ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل ہوتاہے۔

