Namaz — chapter 27 of 27
نمازِ جنازہ
The Funeral Prayer
From the signs of death through the bath, the shroud, the prayer, the burial and the dua.
نمازجنازہ سے پہلے مختصر طور سے حالتِ نزع اور مردہ کے غسل اور کفن کا بیان کیا جاتاہے۔ جب کوئی مرنے لگے توپاس والے کو کیا کرناچاہیے؟
جب کوئی آدمی مرنے لگے تو اس کو داہنی کروٹ پر لٹاکر منہ قبلہ کی طرف کردو یا چت لٹاکر پاؤں قبلہ کی طرف کردو اور اس کے پاس بیٹھ کر آواز سے کلمہ پڑھو تاکہ تمہارے کلمے کو سن کر وہ بھی کلمہ پڑھ لے اس کو کلمہ پڑھنے کاحکم نہ کرو، نہ معلوم اس وقت تکلیف میں زبان سے کیا کلمہ نکل جائے جب ایک دفعہ وہ کلمہ پڑھ لے بس تم خاموش ہوجاؤ اس کی کوشش نہ کرو کہ کلمہ جاری رہے اورکلمہ پڑھتے پڑھتے دم نکلے ، ہاں اگر کوئی بات چیت اس کے بعد کرے تو پھر کلمہ پڑھو تاکہ آخری کلام اس کا کلمہ ہوجائے۔
موت کی علامتیں:
جب سانس اُکھڑ جائے اور جلدی جلدی چلنے لگے، ٹانگیں کھڑی نہ ہوسکیں، ناک ٹیڑھی ہوجائے ،کنپٹیاں بیٹھ جائیں تو سمجھنا چاہیے کہ نزع کی حالت ہے اور موت قریب ہے ۔اس وقت کلمہ آواز سے پڑھنا شروع کرو اور سورئہ یسین پاس بیٹھ کر اس کو سناؤ اس سے موت کی سختی کم ہوتی ہے۔ مرنے والے کے پاس اس وقت دنیا کی باتیں نہ کرو، بال بچوں کو اور جس چیز سے زیادہ محبت ہو سامنے نہ لاؤ۔
جب انسان مرجائے تو اس کے سب اعضا درست کردو، دونوں ہاتھ برابر رکھ دو سینے پر نہ رکھو ،اور ایک کپڑا لے کر ٹھوڑی کے نیچے کو دونوں جانب سے نکال کر سر پر لیجاکر گرہ لگادو تاکہ منہ بند ہوجائے کھلا نہ رہے۔آنکھیں بند کردو۔ دونوں پیر کے انگوٹھے ملاکر باندھ دو تاکہ ٹانگیں نہ پھیلیں۔ اوپر چادر ڈالدو۔ آنکھیں بند کرتے وقت یہ دعا پڑھو: بِسْمِ اللّٰہِ وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ مُردے کے پاس لَوْبان وغیرہ سُلگا دو، اورجب تک مردے کو غسل نہ دیاجائے اس کے پاس قرآن شریف نہ پڑھاجائے۔
مُردے کو نہلانے کامسنون طریقہ:
مُردے کوغسل دینا فرضِ کفایہ ہے یعنی اگر ایک آدمی غسل دے دے گا تو سب کے ذمّہ سے فرض ساقط ہوجائے گا ورنہ سب گنہگار ہوں گے۔ غسل دینے والے کو بڑا ثواب ملتاہے لوگ اس سے بچتے ہیں یہ بُری بات ہے، اپنے مردے کو خود غسل دینا چاہیے ۔ جب مُردے کی موت کا یقین ہوجائے تواس کے نہلانے اور کفن دفن میں جلدی کرو، دیر نہ کرو، لوگوں کو اس کی موت کی اطلاع کردو۔ جب کفن تیار ہوجائے تو پہلے نہلانے کے لیے ایک تختہ منگاؤ اس کو پاک کرلو، اور تین یا پانچ یا سات دفعہ اس کے چاروں طرف لوبان وغیرہ کی دھونی دو اور مُردے کو تختے پر لٹادو اور اس کے کپڑے نکال دو۔ ناف سے زانو تک ایک کپڑا ڈال دو تاکہ ستر چھپا رہے۔ اگر نہلانے کی جگہ کوئی علیحدہ ہوکہ پانی نہیں پھیلے گا توخیر ورنہ تختے کے نیچے گڑھا کھدوا دو تاکہ پانی نہ پھیلے اور لوگوں کو تکلیف نہ ہو۔ اپنے پاس گرم ٹھنڈا پانی ضرورت کے موافق رکھ لو۔ گرم پانی کو گرم کرنے کے وقت بیری کے پتّے ڈالدو، پانی زیادہ گرم نہ ہو ہاتھ سے دیکھ لو۔ اور اول ہاتھ کو تھیلی لپیٹ کر مُردے کو ڈھیلے سے استنجا کراؤ۔ بلا تھیلی کے ستر کی جگہ ہاتھ نہ لگاؤ اور نہ دیکھو اورخوب پانی سے نجاست کو صاف کردو۔
اس کے بعد وضوکراؤ اور منہ، ناک ، کان میں روئی بھگو کر رکھ دو لیکن پہلے منہ دھوؤ،پھر ہاتھ۔ کلّی نہ کراؤ اورناک میں پانی بھی نہ دو۔ ہاں اگر اس پر غسل واجب تھا اور اسی حالت میں مرگیا ہے تو کلی بھی کراؤ اورناک میں پانی بھی دو۔ وضو کے بعد سر اور ڈاڑھی کو خطمی وغیرہ سے دھوؤ تاکہ صاف ہوجائے، اس کے بعد پھر بائیں کروٹ پر لٹاکر تین دفعہ اتنا پانی بہاؤ کہ نیچے تک پہنچ جائے اور خوب ملو۔ صابن وغیرہ سے میل صاف کرو، اس کے بعد داہنی کروٹ پر لٹاکر پھر اسی طرح تین مرتبہ پانی ڈالو۔ اس کے بعد مردہ کو ذراسر کی طرف سے اٹھاکر ٹیک لگاکر تھوڑا سا بٹھاؤ اور اس کے پیٹ کو آہستہ آہستہ ملو اور دباؤ تاکہ پیٹ میں اگر کچھ ہو نکل جائے، اگر کچھ پاخانہ وغیرہ نکلے تو اس کو دھو ڈالو اس کے نکلنے سے وضو اور غسل میں کوئی نقصان نہیں آتا۔ پھر بائیں کروٹ پر لٹاؤ اور ایک لوٹے میں کافور پانی میں ملالو اور سر سے پاؤں تک تین مرتبہ ڈال دو۔ اس کے بعد بدن کو کپڑے سے صاف کرکے دوسرا خشک کپڑا ستر عورت پر ڈال دو، بھیگا ہوا علیحدہ کردو۔
یہ غسل کا مسنون طریقہ ہے اگر کوئی اس طرح نہ نہلائے ایک مرتبہ ہی مردے پر پانی بہادے تب بھی فرض ادا ہوجائے گا۔
کفن کابیان:
مرد کے لیے تین کپڑے کفن مسنون ہیں:ایک چادر، ایک ازار(تہبند) ایک کرتا، عورت کے لیے پانچ کپڑے مسنون ہیں: ایک کُرتا، ایک ازار، ایک سربند، ایک چادر ، ایک سینہ بند۔ اگر کپڑا کم ہو تو مرد کو دوکپڑے دیدو: ایک چادر، ایک ازار۔ اور عورت کو تین کپڑے ایک ازار، ایک چادر، ایک سربند۔ بلاضرورت اس سے کم کفن دینا مکروہ ہے ۔مُردے کا تہبند سر سے پیر تک کی ایک چادر ہوتی ہے۔ سینہ بند عورت کا چھاتی سے ناف تک بلکہ زانو تک ہو تو زیادہ اچھا ہے۔ جنازے کے اوپر چارپائی پر جو چادرڈالی جاتی ہے وہ کفن میں شمار نہیں ہے البتہ اس کا ڈالنا جائز ہے۔
کفنانے کا طریقہ:
جب غسل دے چکو چارپائی جس پرمُردہ جائے گا پاس منگالو اور کفن کو تین مرتبہ یا پانچ یا سات دفعہ لوبان کی دھونی دے دو اور تین بند کفن میں سے پھاڑ کر ایک بیچ میں چارپائی پر کفن کے نیچے پھیلادو، ایک سرہانے اور ایک پائینتی پر رکھ دو ۔ اس کے بعد پہلے چادر بچھاؤ اس پر دوسری چادر جس کو ازار کہتے ہیں بچھاؤ، اس پر کُرتا بچھاؤ اور کرتے کا اوپر کاحصہ اکٹھا کرکے سرہانے کی طرف رکھ دو۔
اس کے بعدمُردے کو کفن پر لٹاکر کُرتے کاگریبان سر میں ڈال کر کُر تا برابر کردو اور سر اور ڈاڑھی میں عطر لگاؤ ۔اور مساجد یعنی دونوں ہتھیلیوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں پر کافور مَل دو۔ اس کے بعد اول کفن کو بائیں طرف سے لپیٹو پھر داہنی طرف سے لپیٹو اور تینوں بند باندھ دو۔
عورت کا کفن اس طرح رکھو اوّل سینہ بند رکھو ،پھر چادر، پھر ازار، اس کے اوپر کُرتا پھر مردے کو اس پر لٹاکر کُرتا پہناؤ اور سر کے بالوں کو دوحصہ کرکے کرتے کے اوپر سینہ پر ڈال دو، نہ ان کو باندھو نہ لپیٹو ،پھر ازار لپیٹو پہلے بائیں طرف سے پھر دا ہنی طرف سے ،اس کے بعد سینہ بند باندھو، اس کے بعد تینوں بندوں میں گرہ لگادو۔
نمازِ جنازہ:
مسلمان میّت کی نماز فرضِ کفایہ ہے۔ اگر ایک دو آدمی پڑھ لیں گے تو سب کے ذمّہ سے فرض ادا ہوجائے گا ورنہ سب گنہگار ہوں گے۔ اس نماز میں رکوع ،سجدہ نہیں ہوتا۔ اس میں دو چیزیں فرض ہیں: اول چار مرتبہ اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہنا، ہر تکبیر ایک رکعت کے قائم مقام ہے۔ دوسرے قیام یعنی کھڑے ہوکر نماز جنازہ پڑھنا۔ تین چیزیں اس میں مسنون ہیں:ـ
- ۱۔ ثنا یعنی اللہ تعالیٰ کی تعریف کرنا۔ ۲۔ درود پڑھنا۔ میت کے لیے دعا کرنا۔ جماعت اس میں شرط نہیں ہے، ایک آدمی بھی پڑھ سکتاہے اگر اور کوئی نہ ہو۔
نماز جنازہ کی شرطیں:
- ۱۔ میّت کا مسلمان ہونا۔
- ۲۔ میّت کا پاک ہونا۔
- ۳۔ کفن پاک ہونا۔
- ۴۔ میّت کا ستر ڈھکاہوا ہونا۔
- ۵۔ میّت کا نماز پڑھنے والے کے سامنے رکھا ہوا ہونا۔
یہ شرطیں تو میّت کے متعلق تھیں اور نماز پڑھنے والے کے لیے وقت کے سوا باقی تمام شرطیں وہی ہیں جو نماز کی شرطیں ہیں۔ اور جن چیزوں سے نماز فاسد ہوجاتی ہے ان سے نماز جنازہ بھی فاسد ہوجاتی ہے ،صرف یہ فرق ہے کہ نماز جنازہ میں قہقہہ مارکر ہنسنے سے وضو نہیں ٹوٹتا اور عورت کے برابر کھڑا ہونے سے نماز جنازہ فاسد نہیں ہوتی۔
نمازِ جنازہ کی ترکیب:
نماز جنازہ کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ میّت کو آگے رکھ کر امام اس کے سینے کے برابر کھڑا ہوجائے ،اس کے پیچھے اور لوگ صفیں بناکر کھڑے ہوجائیں۔ تین یا پانچ یا سات صفیں کرنا بہتر ہے۔ اور اس طرح نیّت کریں: نماز پڑھتاہوں میں اس جنازے کی اللہ تعالیٰ کے واسطے اور دعا اس میّت کے واسطے۔ پھر دونوں ہاتھ مثل تکبیر تحریمہ کے کانوں تک اٹھاکر ایک مرتبہ اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہہ کر نماز کی طرح باندھ لیں۔ امام زور سے تکبیر کہے اور مقتدی آہستہ کہیں۔ پھر سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ اخیر تک امام اور مقتدی آہستہ آہستہ پڑھیں اور وَتَعَالیٰ جَدُّکَ کے بعد وَجَلَّ ثَنَائُ کَ بھی پڑھیں۔ پھر امام آواز سے اور مقتدی آہستہ سے بلاہاتھ اٹھائے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہیں، تکبیر کہتے ہوئے سر کو اوپر نہ اٹھانا چاہیے۔ اس کے بعد درود شریف جو نمازمیںپڑھی جاتی ہے آہستہ آہستہ پڑھیں۔ اس کے بعد سب دوسری تکبیر کی طرح تیسری تکبیر کہیں۔ اس کے بعد دعا پڑھیں جو آیندہ آتی ہے۔ دعا کے بعد چوتھی تکبیر کہہ کر سلام پھیردیں اور چوتھی تکبیر کے بعد ہاتھ چھوڑدیں۔ نمازِ جنازہ کے بعد دعانہیں مانگی جاتی۔ نماز سے فارغ ہوکر جنازہ کو اٹھاکرلے جائیں۔
نمازِ جنازہ کی دعائیں:
نیت کرکے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہہ کر ثناء پڑھو
سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّ کَ وَجَلَّ ثَنَائُ کَ وَلَا إِلٰہَ غَیْرُکَ
پھر
اَللّٰہُ أَکْبَرُ
کہہ کر یہ پڑھو ہاتھ نہ اٹھاؤ۔
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ وَسَلَّمْتَ وَبَارَکْتَ وَرَحِمْتَ وَتَرَحَّمْتَ عَلٰٓی إِبْرَاہِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ
تیسری بار
اَللّٰہُ أَکْبَرُ
کہو ہاتھ اٹھانے کی ضرورت نہیں، اگر جنازہ بالغ کا ہے تو یہ دعا پڑھو خواہ مرد ہو یا عورت:
اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِحَیِّنَا وَمَیِّتِنَا وَشَاہِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِیْرِنَا وَکَبِیْرِنَا وَذَکَرِنَا وَأُنْثَانَا۔ اَللّٰہُمَّ مَنْ أَحْیَیْتَہٗ مِنَّا فَأَحْیِہٖ عَلَی الْإِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّیْتَہٗ مِنَّا فَتَوَفَّہٗ عَلَی ا ْلإِیْمَانِ۔
اور اگر لڑکے کا جنازہ ہو تو یہ دعا پڑھو:
اَللّٰہُمَّ اجْعَلْہُ لَنَا فَرَطًا وَّاجْعَلْہُ لَنَا أَجْرًا وَّذُخْرًا وَّاجْعَلْہُ لَنَا شَافِعًا وَّمُشَفَّعًا۔
اگر لڑکی ہو تو یہ دعا پڑھو:
اَللّٰہُمَّ اجْعَلْھَا لَنَا فَرَطًا وَّاجْعَلْھَا لَنَا أَجْرًا وَّذُخْرًا وَّاجْعَلْھَا لَنَا شَافِعَۃً وَّمُشَفَّعَۃً۔
چوتھی بار
اَللّٰہُ أَکْبَرُ
کہہ کر دونوں طرف سلام پھیردو۔
میت کو دفن کرنا:
مُردے کو دفن کرنا بھی فرض کفایہ ہے۔جب میّت کی نماز سے فراغت ہوجائے تو اس کو فورا دفن کرنے کے لیے جہاں قبر کھدی ہو لے جانا چاہیے، اگر میت چھوٹا بچہ ہے ہاتھوں پر لے جایاجاسکتاہے تو ہاتھوں پر لے جاؤ، اگر بڑا آدمی یا بڑا بچہ ہے تو چارپائی پر لے جاؤ۔
میت کے اٹھانے کا مستحب طریقہ:
میت کے اٹھانے کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ پہلا اگلا داہنا پایہ میت کی چارپائی کا اپنے کندھے پر رکھ کر کم ازکم دس قدم چلو، اس کے بعد پچھلا داہنا پایہ داہنے کندھے پر رکھ کر دس قدم چلو۔ اس کے بعد اگلا بایاں پایہ اپنے بائیں کندھے پر رکھ کر چلو اس کے بعد پچھلا پایہ بائیں کندھے پر رکھ کر چلو اس طرح کل چالیس قدم ہوجائیں گے۔
حدیث میں آیاہے کہ جو شخص چالیس قدم جنازہ کو اٹھاکر لے چلے اس کے چالیس گناہ کبیرہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ یہ کم ازکم اُٹھانے کا بیان ہے اس کے بعدضرورت کے مطابق ساتھ ساتھ چلنے والے کندھا بدلتے چلیں۔
جنازہ کو ذرا تیز قدم لے چلنا مسنون ہے مگر نہ اس قدر کہ نعش کو حرکت اور اضطراب ہونے لگے۔ جو لوگ جنازہ کے ساتھ جائیں ان کو چاہیے کہ جب تک جنازہ کندھوں سے اتارا نہ جائے بیٹھیں نہیں، ا س سے پہلے بیٹھنا مکروہ ہے، ہاں کوئی ضرورت ہو تو مضائقہ نہیں۔ جنازہ کے ساتھ چلنے والوں کو جنازہ کے پیچھے چلنا مستحب ہے اور ساتھ چلنے والوں کو سواری پر چلنا بھی مکروہ ہے پیدل چلنا مستحب ہے۔ اگر سواری پر کسی ضرورت سے جائے تو ساتھ ساتھ نہ جائے ذرا پیچھے چلے۔ جنازہ کے ساتھ چلنے والوںکو بلند آواز سے کلمہ یا دعا پڑھنا مکروہ ہے۔ قبرستان پہنچ کر فضول باتیں نہ کرو، آخرت اور مرنے کے بعد کے حالات کاخیال کرو اور یہ سوچو کہ تمہیں بھی یہاں ایک دن آنا ہے اس کے لیے نیک عمل کی کوشش کرو۔
قبر:
قبر کم سے کم انسان کے آدھے قد کی برابر گہری کھودی جائے اور قد سے زیادہ گہرائی نہ کی جائے اور لمبائی ہر میت کے قد کی برابر کی جائے ۔قبر اچھی طرح صاف اور کشادہ کھودی جائے۔ قبر کا اوپر کاحصہ زیادہ گہرا ہونا چاہیے جیساہم نے بتایا ہے ، نیچے کاحصہ اتنا گہرا ہو کہ میت اچھی طرح سے آجائے۔ عام لوگ جو اتنا گہرا کرتے ہیں کہ مردہ بیٹھ سکے، یہ بات بے اصل ہے اتنی گہرائی کی ضرورت نہیں ہے جو بٹھائے گا وہ اتنی جگہ بھی کردے گا۔ ہم کو جو طریقہ شریعت سے معلوم ہوا ہے اس کے موافق کام کرنا چاہیے۔
بغلی قبر بہ نسبت صندوقی قبر کے افضل ہے بشرطیکہ زمین نرم نہ ہو، اگر زمین اتنی نرم ہے کہ قبر گرجاتی ہے تو صندوق میں دفن کردیں۔ صندوق خواہ لکڑی کا ہو یا پتھر وغیرہ کا لیکن صندوق میںمٹی بچھادیں۔
قبر میں میت کے اتارنے کا طریقہ:
جب قبر تیار ہوجائے تو میت کی چارپائی قبلہ کی طرف قبر کے کنارے پر لاکر رکھو اور چارپائی کے پائے اچھی طرح جمادو تاکہ مٹی وغیرہ نہ گرے۔ ضرورت کے مطابق دو تین یا چار آدمی قبر میں میّت کو اتاردیں۔ اتارنے والے قبلہ رو کھڑے ہوکر میت کو قبر میں اٹھا کر رکھ دیں اور رکھتے وقت بِسْمِ اللّٰہِ وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ پڑھیں ۔اور میت کو داہنے پہلو پر لٹاکر قبلہ رو کردینا مسنون ہے۔ اس کے بعد کفن کے بند کھولدیں، اس کے بعد کچی اینٹیں یا بانس وغیرہ سے لحد کو بند کردیں۔ اگر زمین زیادہ نرم ہے تو پکی اینٹ یا تختے سے بند کرنا بھی بلاکراہت جائز ہے۔ میّت اگر عورت ہو تو قبر میں اتار تے وقت قبر کے چاروں طرف پردہ کرنا مستحب ہے۔ مرد کے دفن کرتے وقت پردہ نہ کیاجائے ۔جب لحد بند کردی جائے تو قبر کو مٹی سے بند کردیا جائے اور ایک بالشت کے قریب قریب اونچی کی جائے زیادہ اونچی کرنا مکروہ ہے۔ قبر میں مٹی ڈالتے وقت سرہانے کی طرف سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔ ہر شخص دونوں ہاتھوں میں مٹی بھر کر قبر میں ڈالے اور پہلی مرتبہ
مِنْہَا خَلَقْنَاکُمْ
اور دوسری مرتبہ
وَمِنْہَا نُعِیْدُکُمْ
اور تیسری مرتبہ
وَمِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً أُخْریٰ
پڑھے۔
مٹی ڈالنے کے بعد قبر پر پانی چھڑکنا مستحب ہے۔ قبر کو ڈھلوان اونٹ کی کوہان کی طرح بنایاجائے۔ جب قبر بن جائے تو سورئہ بقرہ کا اول وآخر میّت کے سرہانے اور پائینتی پڑھ دیاجائے۔
دُعائے مغفرت:
دفن سے فارغ ہونے کے بعد سب لوگ میّت کے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ قبر کو اس کے لیے آرام وراحت کی جگہ بنادیں اور اس کی مغفرت فرمائیں اور منکر نکیر کے سوالات کا ٹھیک ٹھیک جواب دے۔
ایصالِ ثواب کا طریقہ:
قرآن شریف بلا کسی خاص اہتمام کے پڑھ کر بخش دیاجائے اور بعد میں بھی اس کو ایصال ثواب کیاجائے۔ تیجہ، دسواں، چہلم وغیرہ نہ کیا جائے، یہ سب چیزیں بدعت ہیں۔ جب جی چاہے اللہ کے نام پر کھانا، کپڑا یا اورکوئی چیز دے کر یا کچھ پڑھ کر کہہ دو کہ یا اللہ! اس کا ثواب فلاں کوپہنچے۔

