Namaz — chapter 24 of 27
مسافر کی نماز
The Traveller's Prayer
Qasr, and praying on a train or an aircraft.
مسافرشریعت میں اس شخص کو کہتے ہیں جو تین منزل کے سفر کاارادہ کرکے چلے، اس سے کم سفر والے کو شرعاً مسافر نہ کہیں گے اور اس کی نماز وغیرہ کے لیے مسافر کا حکم نہ ہوگا۔ تین منزل کا مطلب یہ ہے کہ اکثر پیدل چلنے والے درمیانی چال سے وہاں تین روز میں پہنچتے ہوں۔ اگر کوئی شخص ریل ،موٹر، سائیکل اورگھوڑے سے جلدی پہنچ جائے تو وہ بھی مسافر ہی ہو گا۔ تین منزل کااندازہ میلوں کے اعتبار سے اڑتالیس میل انگریزی ہے۔ جب کوئی شخص تین منزل یااس سے زیادہ کاارادہ کرکے چلا اور شہر کی آبادی سے باہر ہوگیا تو شرعا مسافر بن گیا۔ جب تک شہر کی آبادی میں ہے مسافرنہ ہوگا۔ اسٹیشن اگر آبادی میں ہے تو وہ آبادی کے حکم میں ہے، اگرآبادی سے باہر ہے تو وہاں پہنچ کر مسافر ہوجائے گا۔
مسافر کی نماز میں قصر:
مسافر کے لیے یہ حکم ہے کہ ظہر، عصر اور عشاء کی نماز بجائے چار رکعت کے دو رکعت پڑھے اور دورکعت پڑھنے کو قصرکہتے ہیں۔ مغرب اور وتر کی نماز کی سفر میں بھی تین رکعتیں پڑھی جاتی ہیں اور فجر کی دو رکعت ہی پڑھی جاتی ہیں، اور سُنَّتِ مؤکدہ اگر اطمینان کی حالت ہو جلدی نہ ہو تو پڑھ لے ورنہ چھوڑسکتاہے۔
جب تک سفر کرتارہے اور کسی شهر یا قصبه یاگاؤں میں پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت نہ ہو، اس وقت تک نماز قصر کرتارہے۔ اور جب کسی جگہ پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کرلی تو نیت کرتے ہی مقیم ہوجائے گااور سب نمازیں پوری پڑھنی ہوں گی۔ اگرکسی جگہ مسافر پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیّت کرتارہے تو وہ مسافر ہی رہے گا۔ ایسے پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت تو نہیں کی مگر آج کل کرتے کرتے پندرہ دن یا زیادہ ہوگئے تو نمازقصر ہی پڑھناہوگی خواہ کتنے ہی دن گزر جائیں۔ مسافرجب اپنے وطن کی آبادی میں داخل ہوجائے توپھر پوری نماز پڑھے۔
ریل اورجہاز وغیرہ میں نمازپڑھناـ:
چلتی ریل، جہاز اورکشتی میں نمازپڑھنا جائز ہے اور کھڑا ہوکر پڑھ سکے تو کھڑا ہوکر پڑھ لے، اگر کھڑے ہوکر چکر آتاہے یاگرنے کاڈر ہے تو بیٹھ کر پڑھ لے، لیکن نماز میں رخ قبلہ کی طرف رکھناضروری ہے۔ اگرریل یاجہاز دوسری طرف کوپھر جائے تونمازی کواپنامنہ فوراً قبلہ کی طرف کرلینا چاہیے ورنہ نماز نہ ہوگی۔ہوائی جہاز میں نماز پڑھنی جائز ہے، اس میں بھی جب قبلہ بدل جائے توقبلہ کی طرف منہ کرلے۔

