Namaz — chapter 8 of 27
اذان واقامَت کا بیان
Adhan & Iqamah
The call and the call to stand — its words, its answer, its manners.
اذان کے معنی خبرکرنے کے ہیں، اور شریعت میںخاص نمازوں کے لیے خاص الفاظ سے نماز کے وقت کی اطلاع دینا ہے۔ اذان پانچوں فرض نمازوں اور جمعہ کی نماز کے لیے سنّتِ مؤکدہ ہے، ان کے علاوہ اورکسی نماز کے لیے سنت نہیں ہے۔ جب نماز کا وقت ہوجائے اس وقت اذان کہی جائے ۔ اگر وقت سے پہلے اذان کہہ دی جائے تو دوبارہ وقت ہونے پر کہی جائے، اور فرض نمازوں کی جب جماعت کھڑی ہوتی ہے تو اس کی اطلاع کے لیے اذان کے الفاظ کہے جاتے ہیں اور حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ کے بعد قَدْ قَامَتِ الصَّلوٰۃُ دومرتبہ کہاجاتاہے، اس کو اقامت اور تکبیر کہتے ہیں، اذان واقامت صرف مردوں کے لیے سنّت ہے۔ جب آدمی سفر میںہو تو اذان وتکبیر دونوں کہنا بہتر ہے اگراذان نہ کہے تو تکبیر کہہ لے دونوں کو چھوڑنا مکروہ ہے۔ اگر گھر میں فرض نماز کسی وجہ سے پڑھے تومسجد کی اذان اور تکبیر کافی ہے۔ اذان کے بعد نماز کے لیے اتنی دیر ٹھہرنا چاہیے کہ جو لوگ کھانے پینے میں مشغول ہوں یا پاخانہ پیشاب کررہے ہوں وہ فارغ ہوکر نماز میں شریک ہوسکیں، البتہ مغرب کی اذان کے بعد تین آیت کی مقدار ٹھہر کر تکبیر کہی جائے۔
اذان واقامت کے الفاظ
اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ۔ اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ۔ أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔ أَشْھَدُ أَنْ لَّآ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔ أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔حَيَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ ۔ حَيَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ ۔حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ۔حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ۔ اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ۔ لَا إِلٰہَ إلَّا اللّٰہُ ۔
اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے ۔اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے۔ میں گواہی دیتاہوں کہ نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے۔ میں گواہی دیتاہوں کہ نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے۔ میں گواہی دیتاہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔میں گواہی دیتاہوں کہ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ آؤ طرف نماز کے، آؤطرف نماز کے، آؤ طرف بھلائی کے، آؤطرف بھلائی کے۔
اگرصبح کی اذان ہو تو حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ کے بعد اَلصَّلوٰۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ نماز پڑھنی بہتر ہے سونے سے۔دوبار کہے ۔اورتکبیر ہو تو حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ کے بعد دومرتبہ کہے: قَدْ قَامَتِ الصَّلوٰۃُ تحقیق نماز کھڑی ہوگئی۔
اور قَدْ قَامَتِ الصَّلوٰۃُ کے جواب میں أَقَامَہَا اللّٰہُ وَأَدَامَہَا کہاجائے۔
اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ۔ لَا إِلٰہَ إلَّا اللّٰہُ ۔
اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔
باقی چار وقت کی اذان میں حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ کے بعد اَللّٰہُ أَکْبَرُ ۔ اَللّٰہُ أَکْبَرُ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہے۔ اور اذان واقامت کے سننے والوں کو بھی وہی کہنا چاہیے جو مؤذن کہے، صرف حَيَّ عَلَی الصَّلاَۃِ اور حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ کے جواب میں کہے:
لاَ حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔
نہیں ہے پھرنا گناہ سے اور نہ قوّت عبادت کی مگر ساتھ اللہ کے۔
اذان کے بعددرود شریف پڑھ کر یہ دعا پڑھے:
اَللّٰہُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلٰوۃِ الْقَائِمَۃِ اٰتِ مُحَمَّدَنِ الْوَسِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدَنِ الَّذِيْ وَعَدْتَّہٗ إِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۔
اے اللہ! اے ربّ اس بُلانے کا مل اور نماز قائم کی ہوئی کے! محمدﷺ کو دے وسیلہ اور مرتبہ، اور کھڑا کر اس کو مقامِ محمود میں جس کا تونے وعدہ کیا ہے تحقیق تو خلاف نہیں کرتا وعدہ کے۔
اذان واقامت کے مستحبات وغیرہ
1 مستحبات:
- ۱۔ مؤذّن کا متّقی ہونا۔
- ۲۔ اذان کی سنتوں سے واقف ہونا۔
- ۳۔ وضو کرکے اذان دینا۔
- ۴۔ قبلہ رُوہونا۔
- ۵۔ دونوں کانوں میں انگلیاں دینا۔
- ۶۔ کلماتِ اذان کو ٹھہر ٹھہر کر کہنا۔
- ۷۔ حَيَّ عَلَی الصَّلاَۃِ اور حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ کے وقت دائیں بائیں جانب منھ کرنا۔
2 مکروہات:
- ۱۔گانے کے طرز پر اذان دینا۔
- ۲۔غلط اذان دینا۔
- ۳۔بلاوضو اذان دینا۔
- ۴۔بیٹھ کر اذان دینا۔
- ۵۔اذان کے درمیان بات کرنا۔
- ۷۔ناسمجھ بچہ ہونا۔
- ۸۔پاگل ہونا۔
- ۹۔ بے ہوش ہونا۔
- ۱۰۔عورت ہونا۔
- ۱۱۔فاسق ہونا۔
- ۱۲۔قبلہ رُو نہ ہونا۔
- ۶۔اذان دینے والے کا جنبی( جس کو نہانے کی ضرورت ہو) ہونا۔
3 تکبیر اور اذان میں فرق:
تکبیر میں بھی وہ چیزیں مستحب ومکروہ ہیں جو اذان میں مستحب ومکروہ ہیں ، صرف ان چیزوں میں فرق ہے :
- ۱۔ تکبیر کہتے ہوئے کان میں انگلی نہ دینا۔
- ۲۔ تکبیر کے کلمات جلدی جلدی کہنا مستحب ہے۔
- ۳۔ تکبیر آہستہ اور اذان بلند آواز سے کہنا۔

