Namaz — chapter 1 of 27
اسلام کے ارکان پانچ ہیں
The Pillars & the Kalimas
The five pillars, the six kalimas, and the two declarations of faith.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ اول(دل سے) گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سواکوئی معبود نہیں ہے اورمحمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ دوسرے نمازپڑھنا۔ تیسرے زکوٰۃ دینا۔ چوتھے حج کرنا۔ پانچویں رمضان شریف کے روزے رکھنا۔
یہ پانچ چیزیں اسلام کے بڑے ستون ہیں، ان چیزوں کا اسلام میں بڑا درجہ اور بڑی تاکید ہے۔ سب سے پہلے ہر شخص کو خدا اور رسول پر ایمان لانا ضروری (فرض ) ہے، بلاایمان کے کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی۔
ایمان کا مطلب یہ ہے کہ دل سے اسلام کا کلمہ پڑھو۔ اور دل سے ان تمام باتوں کو مانو جو قرآن وحدیث سے ثابت ہیں۔
اوّل کلمہ طیّب:
لَا إِلٰہَ إِلَّااللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔
اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔
دو سرا کلمه شہادت:
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔
میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اور گواہی دیتاہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
تیسرا کلمہ تمجید:
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ إِلَّابِاللّٰہِ الْعَلِيِّ الْعَظِیْمِ۔
پاک ہے اللہ، اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ بہت بڑا ہے، گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیک کام کرنے کی قوت اللہ ہی کی طرف سے ہے جو عالی شان اور عظمت والا ہے۔
چوتھا کلمہ توحید:
لَا إِلٰہَ إِلَّااللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِيْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ حَیٌّ لَّا یَمُوْت بِیَدِہِ الْخَیْرُ، وَھُوَعَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیْرٌ۔
ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ،اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے۔ وہ زندہ کرتاہے اور مارتاہے۔ وہ زندہ ہے جو مرے گا نہیں، بھلائی اس کے ہاتھ میں ہے ،اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
پانچواں کلمہ ردّکفر:
اَللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ أَنْ أُشْرِکَ بِکَ شَیْئًا وَّ أَنَا أَعْلَمُ بِہٖ وَأَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَا أَعْلَمُ بِہٖ تُبْتُ عَنْہٗ وَتَبَرَّأْتُ مِنَ الْکُفْرِ وَالشِّرْکِ وَالْمَعَاصِيْ کُلِّھَا وَأَسْلَمْتُ وَأَقُوْلُ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔
اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتاہوں اس بات سے کہ تیرے ساتھ کسی چیز کو شریک بناؤں اور مجھے اس کا علم ہو، اور میں معافی مانگتاہوں تجھ سے (اس گناہ) سے جس کا مجھے علم نہیں ،میں نے اس سے توبہ کی اور بے زار ہوا کفروشرک اور ہر قسم کی نافرمانیوں سے، میں اسلام لایا اور ایمان لایا، اور میں کہتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، حضرت محمد(ﷺ) اللہ کے رسول ہیں۔
ایمان مجمل:
اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ کَمَا ھُوَ بِأَسْمَآئِہٖ وَصِفَاتِہٖ وَقَبِلْتُ جَمِیْعَ أَحْکَامِہٖ ۔
ایمان لایا میں اللہ تعالیٰ پر جیساکہ وہ اپنے ناموں اور صفتوں کے ساتھ ہے، اور میں نے اس کے تمام احکام قبول کیے۔
ایمان مفصل:
اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ وَمَلٰئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْقَدْرِخَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ مِنَ اللّٰہِ تَعَالٰی وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ۔
ایمان لایا میں اللہ پر، اور اس کے فرشتوں پر ،اور اس کی کتابوں پر ،اور اس کے رسولوں پر ،اور قیامت کے دن پر، اور تقدیر پر، کہ اچھی اور بری سب اللہ کی طرف سے ہے، اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر۔
چھٹا کلمہ سید الاستغفار:
اَللّٰہُمَّ أَنْتَ رَبِّيْ لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِيْ وَأَنَا عَبْدُکَ وَأَنَا عَلٰی عَہْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ أَبُوْئُ بِنِعْمَتِکَ عَلَيَّ وَأَبُوْئُ بِذَنْبِيْ فَاغْفِرْ لِيْ فَإِنَّہٗ لَا یَغْفِرُالذُّنُوْبَ إِلَّا أَنْتَ۔
یااللہ! تو ہی میرا رب ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تونے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں، میں تیرے عہد اور وعدہ پر ہوں جہاں تک طاقت رکھتاہوں۔ میں تیری پناہ پکڑتاہوں اپنے اعمال کی بُرائی سے، اور اقرار کرتاہوں اپنے اوپر تیری نعمت کا،اور اقرار کرتاہوں اپنے گناہ کا پس بخش دے مجھے، کیونکہ گناہوں کو آپ کے سوا کوئی نہیں بخشتا۔

